30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{وَ یَقُوْلُوْنَ:اور کہتے ہیں۔}اہلِ باطل کا طریقہ ہے کہ جب ان کے خلاف مضبوط دلیل قائم ہوتی ہے اور وہ جواب دینے سے عاجز ہوجاتے ہیں تو اس دلیل کا ذکر اس طرح چھوڑ دیتے ہیں جیسے کہ وہ پیش ہی نہیں ہوئی اور یوں کہتے ہیں کہ دلیل لاؤ ، تاکہ سننے والے اس مُغالَطہ میں پڑ جائیں کہ ان کے مقابلے میں اب تک کوئی دلیل ہی نہیں قائم کی گئی ۔ اس طرح کفار نے حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معجزات اور بالخصوص قرآنِ کریم جو کہ عظیم معجزہ ہے اس کی طرفسے آنکھیں بند کرکے یہ کہنا شروع کیا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ گویا کہ معجزات انہوں نے دیکھے ہی نہیں اور قرآنِ پاک کو وہ نشانی شمار ہی نہیں کرتے۔ اللہّٰ تعالیٰ نے اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ آپ اس سوال کے وقت فرما دیجئے کہ غیب تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہے اب راستہ دیکھو ،میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دلالتِ قاہرہ اس پر قائم ہے کہ تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قرآنِ پاک کا نازل ہونا بہت ہی عظیم الشّان معجزہ ہے، کیونکہ حضوراکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہی لوگوں میں پیدا ہوئے ، ان کے درمیان پلے بڑھے، حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام زمانے ان کی آنکھوں کے سامنے گزرے ،وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ نے نہ کسی کتاب کا مطالعہ کیا ، نہ کسی استاد کی شاگردی کی، یکبارگی قرآنِ کریم آپ پرظاہر ہوا اور ایسی بے مثال اعلیٰ ترین کتاب کا ایسی شان کے ساتھ نُزول بغیر وحی کے ممکن ہی نہیں ،یہ قرآنِ کریم کے معجزئہ قاہرہ ہونے کی دلیل ہے اور جب ایسی مضبوط دلیل قائم ہے تو اِثباتِ نبوت کے لئے کسی دوسری نشانی کا طلب کرنا قطعاً غیر ضروری ہے، ایسی حالت میں اس نشانی کا نازل کرنا، نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر ہے، چاہے کرے ، چاہے نہ کرے تو یہ امر غیب ہوا اور اس کے لئے انتظار لازم آیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکیا کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ یہ غیر ضروری نشانی جو کفار نے طلب کی ہے نازل فرمائے یا نہ فرمائے (اس کی مرضی لیکن بہرحال) نبوت توثابت ہوچکی اور رسالت کا ثبوت قاہر معجزات سے اپنے کمال کو پہنچ چکا۔ (تفسیرکبیر، یونس تحت الآیۃ: ۲۰، ۶ / ۲۳۰، ملخصاً)
دلیل کاجواب دینے سے عاجز ہونے پر لوگوں کو مغالطے میں ڈالنا اہلِ باطل کا ایک طریقہ ہے:
اس آیت میں اہلِ باطل کا جو طریقہ بیان ہوا ا س کی کچھ جھلک بعض اوقات ان افراد میں بھی نظر آتی ہے جو خود کو اہلِ علم مسلمانوں میں شمار کرنے کے باوجود مسلمانوں کے عقائد و نظریات پر انتہائی شاطرانہ طریقے سے وار کرتے ہیں اور مسلمانوں کے دین و ایمان کو برباد کرنے اور انہیں کفر و گمراہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب خوفِ خدا رکھنے اور مسلمانوں کے دین و ایمان کے تحفظ کی فکر کرنے والے علماء کی طرف سے ان کی علمی گرفت کی جاتی ہے تو وہ یہ کہہ کر لوگوں کی نظروں میں اس کی وقعت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس گرفت کی کوئی ایسی اہمیت نہیں جس کا جواب دے کر اپنا قیمتی وقت ضائع کیا جائے۔ اے کاش! یہ اس بات پر غور کر لیں کہ علم کے باوجود ان کا مسلمانوں کے مُسلَّمہ عقائد و نظریات سے جدا راستے پر چلنا کہیں ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر تو نہیں۔
وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَاؕ-قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًاؕ-اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ(۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب کہ ہم آدمیوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ دانؤں چلتے ہیں تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ہم لوگوں کو انہیں تکلیف پہنچنے کے بعد رحمت کا مزہ دیتے ہیں تو اسی وقت ان کا کام ہماری آیتوں کے بارے میں سازش کرنا ہوجاتا ہے ۔ تم فرماؤ: اللہسب سے جلد خفیہ تدبیرفرمانے والا ہے۔بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکروفریب کو لکھ رہے ہیں۔
{وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً:اور جب ہم (کافر) لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں۔} اس آیت میں کفار کے اس قول ’’اس (نبی) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی (خاص قسم کی) نشانی کیوں نہیں اترتی ؟‘‘ کا ایک اور جواب دیا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ا ہلِ مکہ پر اللہ تعالیٰ نے قحط مُسلط کیا جس کی مصیبت میں وہ سات برس گرفتار رہے یہاں تک کہ ہلاکت کے قریب پہنچے، پھر اس نے رحم فرمایا، بارش ہوئی، زمینیں سرسبز ہوئیں ، تو اگرچہ اس تکلیف و راحت دونوں میں قدرت کی نشانیاں تھیں اور تکلیف کے بعد راحت بڑی عظیم نعمت تھی اور اس پر شکر لازم تھا مگر انہوں نے اس سے نصیحت حاصل نہ کی اور فساد و کفر کی طرف پلٹ گئے۔ (صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳ / ۸۶۱-۸۶۲، خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۱، ۲ / ۳۰۸، ملتقطاً)
رحمت کو اللہ تعالٰی کی طرف منسوب کرنااورآفت کو منسوب نہ کرنابارگاہِ الٰہی کا ایک ادب ہے:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کا ادب یہ ہے کہ رحمتوں کو اس کی طرف منسوب کیا جائے اور آفات کو اس کی جانب منسوب نہ کیا جائے اور یہی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا طرزِ عمل ہے ،جیسے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے کافروں سے کلام کے دوران جب اللہ تعالیٰ کی شان بیان فرمائی تو ادب کی وجہ سے بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا :
’’وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ‘‘ (شعراء:۸۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
{قُلِ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں بہت جلد سزا دینے والا ہے اوران کی سازشوں کی گرفت پر بہت زیادہ قادر ہے اور اس کا عذاب دیر نہیں کرتا۔ اور ارشاد فرمایا کہ بیشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر و فریب کو لکھ رہے ہیں اور تمہاری خُفیہ تدبیریں کاتب ِ اعمال فرشتوں پر بھی مخفی نہیں ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ علیم و خبیر سے کیسے چھپ سکتی ہیں۔(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۲۱، ۲ / ۳۰۸، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۴۶۸، ملتقطاً)
کافروں پر بھی کِرامًا کاتبین فرشتے مقرر ہیں :
اس سے معلوم ہو ا کہ کِرَامًا کَاتِبِینْ اعمالِ کفار پر بھی مقرر ہیں جو ان کے ہر قول و عمل کو لکھتے ہیں۔ البتہ گناہ لکھنے والا فرشتہ تو لکھتا رہتا ہے اور نیکیاں لکھنے والا فرشتہ اس پر گواہ رہتا ہے وہ کچھ نہیں لکھتا کیونکہ ان کی نیکی نیکی نہیں۔ (تفسیر روح البیان، یونس، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴ / ۳۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع