30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے علم نہیں تھا اور جب مشرکین عمل کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ کو علم ہو گا بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایسامعاملہ فرمائے گا جیسا امتحان لینے والا لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور اسے ہر چیز کا ہمیشہ سے علم ہے۔
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍۙ-قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُؕ-قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْۚ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے یا اسی کو بدل دیجئے تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ہم سے ملاقات کی امید نہ رکھنے والے کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے کر آؤ یا اسے تبدیل کردو ۔ تم فرماؤ: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے تبدیل کردوں۔ میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے ۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
{وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ:اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیات کی تلاوت کی جاتی ہے۔} شانِ نزول : کفار کی ایک جماعت نے نبیٔ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے سوا دوسرا قرآن لائیے جس میں لات،عُزّیٰ، مَنات وغیرہ بتوں کی برائی اور ان کی عبادت چھوڑنے کا حکم نہ ہو اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسا قرآن نازل نہ کرے تو آپ اپنی طرف سے بنالیجئے یا اسی قرآن کو بدل کر ہماری مرضی کے مطابق کردیجئے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ ان کا یہ کلام یا تو تمسخر واِستہزاء کے طور پرتھا یا انہوں نے تجربہ و امتحان کے لئے ایسا کہا تھا کہ اگر یہ دوسرا قرآن بنا لائیں یا اس کو بدل دیں تو ثابت ہوجائے گا کہ قرآن کلامِ ربّانی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں کہ میرے لئے حلال نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو کمی زیادتی اور تبدیلی کے بغیر صرف اسی کا تابع ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی فرماتا ہے اور یہ میرا کلام نہیں کہ میں اس میں تبدیلی کر سکوں بلکہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام ہے اگر میں نے اپنی طرف سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کلام میں کوئی تبدیلی کر کے اس کی نافرمانی کی تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے اور ویسے بھی دوسرا قرآن بنانا انسان کے بس کی بات ہی نہیں کیونکہ انسا ن کااس سے عاجز ہونا تو اچھی طرح ظاہر ہو چکا ہے۔(بغوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۵، ۲ / ۲۹۳، صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳ / ۸۵۹، مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۴۶۶، ملتقطاً)
اسلام کی کسی قطعی چیز پر کفار سے معاہدہ نہیں ہو سکتا:
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ کفار کے ساتھ اسلام کے قَطْعِیّات میں سے کسی چیز پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کی خوشنودی کیلئے اسلام کی کوئی قطعی چیز چھوڑ دیں جیسے ان کی خوشی کیلئے سود کی اجازت دیں ، یا پردے کو ختم کردیں ،یا نمازوں میں کمی کرلیں یا گائے کی قربانی بند کردیں۔
قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ ﳲ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے خبردار کرتا تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اگر اللہ چاہتا تو میں تمہارے سامنے اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ وہ تمہیں اس سے خبردار کرتا تو بیشک میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟
{قُلْ:تم فرماؤ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان مشرکین سے فرما دیں جنہوں نے قرآن میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو مجھ پر نہ تویہ قرآن نازل کیا جاتا اور نہ میں تمہارے سامنے اس کی تلاوت کرتا اور نہ تمہیں خبردار کیا جاتا لہٰذا اس کی تلاوت محض اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہے، نیز میں اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے تم میں چالیس سال کا عرصہ گزار چکا ہوں اور اس زمانے میں تمہارے پاس کوئی کتاب نہیں لایا اور نہ تمہیں پہلے ایسی کوئی چیز سنائی ہے ، تم نے میرے اَحوال کا خوب مُشاہدہ کیا ہے، میں نے کسی سے ایک حرف نہیں پڑھا۔ کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ، اس کے بعد یہ عظیم کتاب لایا ہوں جس کے سامنے ہر ایک فصیح کلام پَست اور بے حقیقت ہوگیا، اس کتاب میں نفیس عُلوم ہیں ، اُصول و فُروع کا بیان ہے، اَحکام و آداب میں مکارمِ اَخلاق کی تعلیم ہے، غیبی خبریں ہیں ،اس کی فصاحت و بلاغت نے ملک بھر کے فصیح و بلیغ افراد کو عاجز کردیا ہے، ہر عقلِ سلیم رکھنے والے کے لئے یہبات سورج سے زیادہ روشن ہوگئی ہے کہ ایسا کلام اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر ممکن ہی نہیں تو کیا تمہیں عقل نہیں کہ اتنا سمجھ سکو کہ یہ قرآن اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ہے مخلوق کی قدرت میں نہیں کہ اس کی مثل بنا سکے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۶، ۲ / ۳۰۵-۳۰۶)
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ(۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے بیشک مجرموں کا بھلا نہ ہوگا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے؟ بیشک مجرم فلاح نہیں پائیں گے۔
{فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا:تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔} مشرکین نے یہ کہا تھا کہ قرآن نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا اپنا بنایا ہوا کلام ہے اور آپ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھا ہے ، ان کے رد میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھے یعنی بفرضِ محال اگر میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے کلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہوتا تو آپ سب سے بڑے ظالم قرار پاتے لیکن جب دلائل سے ثابت ہو چکا کہ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ قرآن اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام اوراس کی وحی ہے تو اب جو مشرکین اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام نہیں مانتے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیات کو جھٹلانے والے اور لوگوں میں سب سے بڑے ظالم ہیں۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۱۷، ۶ / ۲۲۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع