30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بد دعا دو، نہ اپنی اولاد کو بد دعا دو اور نہ اپنے اَموال کو بد دعا دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وہ گھڑی ہو جس میں اللہ تعالیٰ سے کسی عطا کاسوال کیا جائے تو وہ دعا قبول ہوتی ہو۔ (مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب حدیث جابر الطویل وقصۃ ابی الیسر، ص۱۶۰۴، الحدیث: ۳۰۰۹)
وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآىٕمًاۚ-فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗؕ-كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب آدمی کو تکلیف پہنچتی ہے ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں چل دیتا ہے گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا یونہی بھلے کر دکھائے ہیں حد سے بڑھنے والے کو ان کے کام۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب آدمی کوتکلیف پہنچتی ہے تولیٹے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے (ہرحالت میں ) ہم سے دعا کرتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو یوں چل دیتا ہے گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہیں تھا۔ حد سے بڑھنے والوں کے لئے ان کے اعمال اسی طرح خوشنما بنا دئیے گئے۔
{وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ:اور جب آدمی کوتکلیف پہنچتی ہے۔} یعنی کافر کو جب تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے ، بیٹھے، کھڑے ہر حال میں ہم سے دعا کرتا ہے اور جب تک اُس کی تکلیف زائل نہ ہو دعا میں مشغول رہتا ہے، پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تووہ ہم سے منہ موڑ کر اپنے پہلے طریقہ پر چل دیتا ہے اور وہی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اور تکلیف کے وقت کو بھول جاتا ہے گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر اس نے ہمیں پکارا ہی نہیں تھا۔ کافروں کے لئے ان کے اعمال اسی طرح خوشنما بنا دئیے گئے۔ اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ انسا ن مصیبت کے وقت بہت ہی بے صبر ا ہے اور راحت کے وقت نہایت ناشکرا جب تکلیف پہنچتی ہے تو کھڑے لیٹے بیٹھے ہر حال میں دعا کرتا ہے اور جب اللہ عَزَّوَجَلَّ تکلیف دور کردے تو شکر بجانہیں لاتا اور اپنی سابقہ حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ یہ حال غافل کا ہے ۔ عقلمند مومن کا حال اس کے خلاف ہے وہ مصیبت و بلا پر صبر کرتا ہے راحت و آسائش میں شکر کرتا ہے ، تکلیف و راحت کے جملہ اَحوال میں اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور دعا کرتا ہے اور ایک مقام اس سے بھی اعلیٰ ہے جو مومنوں میں بھی مخصوص بندوں کو حاصل ہے کہ جب کوئی مصیبت و بلا آتی ہے اس پر صبر کرنے کے ساتھ ساتھ دل و جان سے قضائِ الہٰی پر نہ صرف راضی رہتے ہیں بلکہ اس حال میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہیں۔(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲ / ۳۰۴، ملخصاً)
مصیبت اور راحت کے وقت ہمارا حال:
مذکورہ بالا تفسیر کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے حال پر غور کرنا چاہیے کہ ہم کس گروہ کے پیچھے ہیں اور ہمارے اندر کس گروہ کی علامات پائی جارہی ہیں۔ کیا ہم بھی مصیبت میں نمازی، پرہیزگار، ذاکر و شاغل اور مصیبت دور ہونے کے بعد بے نمازی، جَری و بیباک اور غافل ہوتے ہیں یا خوشی و غمی دونوں حالتوں میں ہم تقویٰ کو اختیار کرتے ہیں اور ذکرِ خدا میں مشغول رہتے ہیں۔
وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْاۙ-وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْاؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ(۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی سنگتیں ہلاک فرما دیں جب وہ حد سے بڑھے اور ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے ہم یونہی بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی قوموں کوہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم کیا اور ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلائل لے کر تشریف لائے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے ۔ ہم یونہی مجرموں کوبدلہ دیتے ہیں۔
{وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ:اور بیشک ہم نے تم سے پہلی قوموں کوہلاک کردیا۔} یعنی اے کفارِ مکہ! تم سے پہلی قوموں نے جب شرک کر کے اپنی جانوں پرظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا اور ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلائل لے کر تشریف لائے جو اُن کے صدق کی بہت واضح دلیلیں تھیں لیکن اُنہوں نے نہ مانا اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تصدیق نہ کی اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ رسولوں پر ایمان لاتے اور جو کچھ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے لائے تھے اس کی تصدیق کرتے تو جس طرح رسولوں کو جھٹلانے کے سبب ہم نے ان گزری ہوئی قوموں کو ہلاک کر دیا اسی طرح اے مشرکو! میں اپنے حبیب محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تکذیب کرنے پر تمہیں بھی ہلاک کر دوں گا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۳، ۲ / ۳۰۴-۳۰۵)
ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىٕفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ(۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو؟
{ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىٕفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ:پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین بنایا ۔} اس آیت میں خطاب اہلِ مکہ سے ہے جبکہ آیت کا معنی یہ ہے کہ اے لوگو! پھر ہم نے گزشتہ اُمتوں کے بعد جنہیں ہلاک کردیا گیا تمہیں زمین میں ان کا جانشین بنایا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۴، ۲ / ۳۰۵)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’ جس دن سے اللہ تعالیٰ نے نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مبعوث فرمایا اس سے لے کر قیامت تک ان کی امت میں مسلمان یا کافر جتنے لوگ ہوں گے سب زمین میں گزشتہ قوموں کے جانشین ہیں۔(صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۱۴، ۳ / ۸۵۹)
{لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ:تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو؟} یعنی تاکہ ہم تمہارے اعمال کا امتحان لیں کہ تم اچھے یا برے کیسے عمل کرتے ہو اور تمہارے اعمال کے مطابق تم سے معاملہ فرمائیں۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۴، ۲ / ۳۰۵)
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’بے شک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس میں جانشین بنایا ہے، پس وہ دیکھتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔( ترمذی، کتاب الفتن، باب ما اخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ بما ہو کائن الی یوم القیامۃ، ۴ / ۸۱، الحدیث: ۲۱۹۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع