دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-3-Para-7-To-9 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-سوئم- پارہ سات تا نو

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-سوئم- پارہ سات تا نو

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَتم نے گزشتہ کتابوں کوپڑھ لیا ہے اور وہی پڑھ کر ہمیں بتار ہے ہو۔

اِتَّبِـعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۰۶)وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْاؕ-وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاۚ-وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ(۱۰۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اس پر چلو جو تمہیں تمہارے رب کی طرف سے وحی ہوتی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔  اور اللہ چاہتا تو وہ شریک نہیں کرتے اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں کیا اور تم ان پر کڑوڑے نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔  اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں بنایا اور نہ آپ ان پر نگران ہیں۔

{ اِتَّبِـعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ:تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے۔} سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے فرمایا گیا کہ’’ تم اس وحی کی پیروی کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بھیجی گئی ہے اور کفار کی بے ہودہ گوئیوں کی طرف التفات نہ کرو ۔اس میں نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تسکینِ خاطر ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکفّار کی یاوہ گوئیوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ یہ ان کی بدنصیبی ہے کہ وہ ایسی واضح دلیلوں سے فائدہ نہ اُٹھائیں۔

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ۪-ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۰۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کردیے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتادے گا جو کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اُنہیں برابھلا نہ کہو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ زیادتی کرتے ہوئے جہالت کی وجہ سے اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل کو آراستہ کردیا پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے تو وہ انہیں بتادے گا جووہ کرتے تھے۔

{ وَ لَا تَسُبُّوا: اور برا نہ کہو۔} حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ مسلمان کفار کے بتوں کی بُرائی کیا کرتے تھے تاکہ کفار کو نصیحت ہو اور وہ بت پرستی کے عیب سے باخبر ہوں مگر ان ناخدا شناس جاہلوں نے بجائے نصیحت حاصل کرنے کے شانِ الہٰی میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولنی شروع کی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۲ / ۱۰۰)کہ اگرچہ بتوں کو برا کہنا اور ان کی حقیقت کا اظہار طاعت و ثواب ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی شان میں کفارکی بدگوئیوں کو روکنے کے لئے اس کو منع فرمایا گیا۔ ابنِ انباری کا قول ہے کہ یہ حکم اول زمانہ میں تھا جب مسلمانوں میں طاقت آگئی کہ کفار کو ربعَزَّوَجَلَّکی شان میں گستاخی سے روک سکیں تو انہیں اس کی اجازت مل گئی۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۲ / ۴۶) ورنہ توخود قرآنِ کریم میں شیطان اور بتوں اور سردارانِ قریش کی برائیاں بکثرت بیان کی گئی ہیں۔

آیت ’’وَ لَا تَسُبُّوا‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            مفتی احمد یار خاں نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے چند مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ اگر غیر ضروری عبادت ایسے فساد کا ذریعہ بن جائے جو ہم سے مٹ نہ سکے تو اس کو چھوڑ دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ واعظ و عالم اس طریقے سے وعظ نہ کرے جس سے لوگوں میں ضد پیدا ہو جائے اور فساد اور مار پیٹ تک نوبت پہنچے۔ تیسرے یہ کہ اگر کسی کے متعلق یہ قوی اندیشہ ہو کہ اسے نصیحت کرنا اور زیادہ خرابی کا باعث ہو گا تو نہ کرے۔ چوتھے یہ کہ کبھی ضد سے انسان اپنا دین بھی کھو بیٹھتا ہے کیونکہ کفار ِمکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو مانتے تھے پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکی ضد میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شان میں بھی بے ادبی کرتے تھے۔(نورالعرفان،الانعام،تحت الآیۃ:۱۰۸،ص:۲۲۴)

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىٕنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْۙ-اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ تم فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائیں گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں نے بڑی تاکید سے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔تم فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ جب وہ (نشانیاں ) آئیں گی تو (بھی) یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

{ وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ:اور انہوں نے بڑی تاکید سے اللہکی قسم کھائی۔}کفارِ مکہ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں عرض کیاکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات بیان فرماتے ہیں۔ اگر ہم کو ہماری منہ مانگی نشانیاں دکھا دیں تو ہم آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں گے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’ تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے یا ہمارے بعض مردے جی کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی گواہی دے دیں یا فرشتے ہمارے سامنے آجائیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے فرمایا:’’ اگر ان میں سے کچھ دکھا دوں تو ایمان لے آؤ گے ۔ وہ قسمیں کھا کر بولے کہ’’ ضرور۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارادہ فرمایا کہ دعا کریں۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے آکر عرض کیا کہ’’ اے محبوب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَآ پ جو دعا کریں گے قبول ہوگی۔ لیکن اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے تو ابھی ہلاک کر دئیے جائیں گے اور اگر زندہ رہے تو شاید ان میں کوئی ایمان لے آئے۔ تب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے دعا کا ارادہ چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۲ / ۱۰۰-۱۰۱)

وَ نُقَلِّبُ اَفْـٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠(۱۱۰)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن