دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-3-Para-7-To-9 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-سوئم- پارہ سات تا نو

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-سوئم- پارہ سات تا نو

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گےاگر سچے ہو۔ بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے توکیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر تم سچے ہو۔بلکہ تم اسی (اللہ) کو پکارو گے تو اگراللہ چاہے تو وہ مصیبت ہٹا دے جس کی طرف تم اسے پکارو گے اور تم شریکوں کو بھول جاؤ گے۔

{ قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، آپ ان مشرکوں سے فرمائیں کہ بھلا بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے توکیا اس وقت بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اور جن کو دنیا میں معبود مانتے تھے اُن سے حاجت روائی چاہو گے ؟اگر تم  اپنے اس دعویٰ میں کہ معاذ اللہ بت معبود ہیں ، سچے ہو تو اس وقت انہیں پکارو مگر ایسا نہ کرو گے بلکہ تمام ہولناکیوں اور تکلیفوں میں تم اللہ عَزَّوَجَلَّہی کو پکارو گے تو اگراللہ عَزَّوَجَلَّچاہے تو تم سے وہ مصیبت ہٹادے جس کو دور کرنے کی طرف تم اسے پکارو گے اور اگر وہ چاہے تو اس مصیبت کو دور نہ کرے اور اس وقت تم ان بتوں کو بھول جاؤ گے جنہیں تم خدا عَزَّوَجَلَّ کا شریک قرار دیتے تھے اور  جنہیں اپنے اعتقاد ِباطل میں تم معبود جانتے تھے اور اُن کی طرف التفات بھی نہ کرو گے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہارے کام نہیں آسکتے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف سے پکڑا کہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف میں گرفتارکردیا تاکہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں۔

{ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا:اور ہم نے رسول بھیجے۔}ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے لیکن لوگ ان پر ایمان نہیں لائے تو ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں گرفتار کردیا اور فقرو اِفلاس اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کیا تاکہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے باز آئیں۔ اس سے معلوم ہوا  کہ دنیا میں تکالیف اور مصیبتیں بعض اوقات رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بن جاتی ہیں کہ بندوں کو رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور صالحین کے درجات بلند کرتی ہیں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۴۳)فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان:تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے تو دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے۔ پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئی تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملا تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑاتے لیکن ان کے تودل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے آراستہ کردئیے تھے۔پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔

{ فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا:تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑاتے}اس آیت اور اِس کے بعد والی آیت میں مجموعی طور پر یہ فرمایا گیا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ گڑگڑاتے تاکہ ہم انہیں توبہ کا موقع دیتے لیکن ان کے تودل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے آراستہ کردئیے تھے پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں اور وہ کسی طرح نصیحت قبول کرنے کی طرف نہ آئے ، نہ تو پیش آنے والی مصیبتوں سے اور نہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نصیحتوں سے، توہم نے ان پر ہر چیز یعنی  صحت و سلامت اور وسعتِ رزق و عیش و غیرہ کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس عیش و عشرت پرخوش ہوگئے اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھنے لگے اور قارون کی طرح تکبر کرنے لگے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا اور انہیں مبتلائے عذاب کردیا اور اب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہونے کا حکم:

            یاد رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت پر خوش ہونا اگر فخر، تکبر اور شیخی کے طور پر ہو تو برا ہے اور کفار کا طریقہ ہے اور اگر شکر کے طور پر ہو تو بہتر ہے اور صالحین کا طریقہ بلکہ حکمِ الہٰی ہے، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:

’’ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) ‘‘ (والضحی: ۱۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

اور ارشاد فرماتا ہے:

’’ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا ‘‘ (یونس: ۵۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔

کفر اور گناہوں کے باوجود دنیوی خوشحالی کا اصلی سبب:

             اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفر اور گناہوں کے باوجود دنیاوی راحتیں ملنا در اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل اور اس کا غضب و عذاب ہے کہ اس سے انسان اور زیادہ غافل ہو کر گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے بلکہ کبھی خیال کرتا ہے کہ گناہ اچھی چیز ہے ورنہ مجھے یہ نعمتیں نہ ملتیں اور یہ کفر ہے ۔

             حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے گناہوں کے باوجود ان کی پسند

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن