30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے ،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب میری امت پندرہ کاموں کو کرے گی تو اس پر مَصائب کا آنا حلال ہو جائے گا۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! وہ کیا کام ہیں ؟ ارشاد فرمایا:’’ جب مالِ غنیمت کو ذاتی دولت بنا لیا جائے گا، امانت کو مالِ غنیمت بنالیا جائے گا، زکوٰۃ کو جرمانہ سمجھ لیا جائے گا، جب لوگ اپنی بیوی کی اطاعت کریں گے اور اپنی ماں کی نافرمانی کریں گے، جب دوست کے ساتھ نیکی کریں گے اور باپ کے ساتھ برائی کریں گے، جب مسجدوں میں آوازیں بلند کی جائیں گی، ذلیل ترین شخص کو قوم کا سردار بنا دیا جائے گا، جب کسی شخص کے شر کے ڈر سے اس کی عزت کی جائے گی، شراب پی جائے گی، ریشم پہنا جائے گا، گانے والیاں اور ساز رکھے جائیں گے اور اس امت کے آخری لوگ پہلوں کو برا کہیں گے۔ اس وقت تم سرخ آندھیوں ، زمین کے دھنسنے اور مَسخ کا انتظار کرنا۔ (جامع الاصول، حرف القاف، الکتاب التاسع، الباب الاول، الفصل الحادی عشر، ۱۰ / ۳۸۴، الحدیث: ۷۹۲۵)
(5) …حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت ہر گز اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو،پھر آپ نے دھویں ،دجّال، دابَّۃُ الارض، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، حضرت عیسیٰ بن مریم کے نزول، یاجوج ماجوج کا اور تین مرتبہ زمین دھنسنے کا ذکر فرمایا، ایک مرتبہ مشرق میں ،ایک مرتبہ مغرب میں ، ایک مرتبہ جزیرۂ عرب میں اور سب کے آخر میں ایک آگ ظاہر ہو گی جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔ (مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب فی الآیات التی تکون قبل الساعۃ، ص۱۵۵۱، الحدیث: ۳۹ (۲۹۰۱))
(6)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے منقول ایک طویل روایت کے آخر میں ہے کہ قیامت یومِ عاشوراء یعنی محرم کے مہینہ کی دس تاریخ کو ہو گی۔ (فضائل الاوقات للبیہقی، باب تخصیص یوم عاشوراء بالذکر، ص۱۱۹، الحدیث: ۲۸۲)
(7)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے بہتر دن جس میں سورج طلوع ہو تا ہے وہ جمعہ کا ہے ،اسی دن حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پیدا کئے گئے، اسی دن جنت میں داخل کئے گئے اورا سی دن جنت سے باہر لائے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہو گی۔ (مسلم، کتاب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ، ص۴۲۵، الحدیث: ۱۸ (۸۵۴))
(8)…حضرت عبداللہبن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی آخری ساعت میں حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پید اکیا اور اسی ساعت میں قیامت قائم ہو گی۔ (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی، باب بدء الخلق، ۲ / ۲۵۰، رقم: ۸۱۱)
حضور سید المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے قیامت کی اس قدر تفصیلی علامات بیان فرمائی ہیں کہ دیگر نشانیوں کے ساتھ ساتھ قیامت کا مہینہ، دن ،تاریخ اور وہ گھڑی بھی بتا دی کہ جس میں قیامت واقع ہو گی البتہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ نہیں بتایا کہ کس سن میں قیامت واقع ہو گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرسن بھی بتا دیتے تو ہمیں معلوم ہوجاتا کہ قیامت آنے میں اب کتنے سال، کتنے دن اور کتنی گھڑیاں باقی رہ گئی ہیں یوں قیامت کے اچانک آنے کا جو ذکر قرآنِ پاک میں ہے وہ ثابت نہ ہوتا لہٰذاسال نہ بتانا قرآنِ پاک کے صِدق کو قائم رکھنے کیلئے اورا س کے علاوہ بہت کچھ بتا دینا اپنا علم ظاہر کرنے کیلئے ہے۔
قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِۚۛ-وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُۚۛ-اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠(۱۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں مگر جواللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ، میں اپنی جان کے نفع اور نقصان کا خود مالک نہیں مگر جواللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تومیں بہت سی بھلائی جمع کرلیتا اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچتی۔ میں تو ایمان والوں کو صرف ڈراور خوشخبری سنانے والا ہوں۔
{قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:تم فرماؤ، میں اپنی جان کے نفع اور نقصان کا اتنا ہی مالک ہوں جتنا اللہ چاہے ۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس آیت میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو کمال درجے کی عاجزی، عظمت ِ الہٰی اور عقیدہ ِ توحید کے اظہار کا حکم فرمایا گیا کہ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے پاس جو قدرت و اختیار اور علم ہے خواہ اپنی ذات کے متعلق یا دوسروں کے بارے میں ، یونہی دنیاوی چیزوں کے بارے میں یا قیامت، آخرت اور جنت کے بارے میں وہ تمام کا تمام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے ہے لہٰذا حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا اَوّلِین و آخرین سے افضل ہونا، دنیا و آخرت کے اُمور میں تَصَرُّف فرمانا، صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو شفا عطا فرمانا بلکہ جنت عطا فرمانا، انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کرنا وغیرہا جتنی چیزیں ہیں سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے چاہنے سے ہیں۔
{وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ:اور اگر میں غیب جان لیا کرتا۔} اس آیتِ مبارکہ میں علمِ غیب کی نفی کی علماء ِکرام نے مختلف تَوجیہات بیان کی ہیں ، ان میں سے چار توجیہات درج ذیل ہیں جنہیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے علوم کے بیان پر مشتمل اپنی لاجواب کتاب’’اِنْبَاءُ الْحَیْ اَنَّ کَلَامَہُ الْمَصُوْنَ تِبْیَانٌ لِّکُلِّ شَیْءٍ‘‘ ( اللہ تعالیٰ کا کلام قرآنِ مجید ہر چیز کا روشن بیان ہے ۔) میں بیان فرمایا ہے۔
(1)…اس آیت میں علمِ عطائی کی نفی نہیں بلکہ علمِ ذاتی کی نفی ہے ۔
امام قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شفا شریف میں فرماتے ہیں ’’نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکو غُیوب پر مُطّلع فرمایا اور آئندہ ہونے والے واقعات سے با خبر کیا۔ اس باب میں احادیث کا وہ بحرِ ذَخّار ہے کہ کوئی اس کی گہرائی جان ہی نہیں سکتا اور نہ ا س کا پانی ختم ہوتا ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے معجزات میں سے یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو یقین اور وُثوق سے معلوم ہے اور ہم تک ا س کی خبریں مُتواتِر طریقے سے کثرت سے پہنچی ہیں اور غیب پر اطلاع ہونے پر اِن احادیث کے معانی و مطالب آپس میں متحد ہیں۔(شفاء شریف، فصل ومن ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب وما یکون، ص۳۳۵-۳۳۶، الجزء الاول)
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’یہ وضاحت ا ن قرآنی آیات کے منافی نہیں جن میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع