30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گناہگار مسلمان ضرور جہنم میں جائیں گے لہٰذا ہمیں جہنم کے عذاب اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سیدُ المَعصُومِین ہیں لیکن اس کے باوجود تعلیمِ امت کیلئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ عذاب ِ جہنم سے کس قدر پناہ مانگتے تھے اس کا اندازہ احادیثِ طیبہ کے مطالعہ سے ہوسکتا ہے ۔ یونہی صحابہ و تابعین اور بزرگانِ دین بھی ہمیشہ جہنم کے عذاب سے خائف اور لرزاں و ترساں رہتے تھے۔ ترغیب کیلئے یہاں چند احادیث و واقعات پیشِ خدمت ہیں :
(1)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ یوں دعا مانگا کرتے ’’ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ‘‘ اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔(نسائی، کتاب الاستعاذۃ، الاستعاذۃ من عذاب القبر، ص۸۷۴، الحدیث: ۵۵۱۴)
(2)…حضرت حُمرَان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے (ایک مرتبہ) ان آیاتِ کریمہ:
’’ اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ(۱۲) وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًا‘‘ (مزمل۱۲، ۱۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے اور گلے میں پھنسنے والاکھانا اور دردناک عذاب ہے۔
کی تلاوت فرمائی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَپر غشی طاری ہو گئی۔ (الزہد لابن حنبل، تمہید، ص۶۲، رقم: ۱۴۶)
(3)… حضرت بَرَاء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’ہم سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اقدس سے نکلنے والے آنسوؤں سے مٹی نم ہوگئی۔ پھر فرمایا ’’اے بھائیو! اس قبر کے لئے تیاری کرو۔ ‘‘ (ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الحزن والبکائ، ۴ / ۴۶۶، الحدیث: ۴۱۹۵)
(4)… حضرت سلیمان بن سحیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’مجھے اس شخص نے بتایا جس نے خود حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نماز میں جھکتے، اٹھتے اور سوز و گدازکی حالت میں نماز ادا
کرتے، اگر کوئی ناواقف شخص آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی اس حالت کو دیکھتا تو کہتا کہ ان پر جنون طاری ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی یہ کیفیت جہنم کے خوف کی وجہ سے اس وقت ہوتی کہ جب آپ یہ آیت:
’’ وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا‘‘ (الفرقان:۱۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب انہیں اس آگ کی کسی تنگ جگہ میں زنجیروں میں جکڑکر ڈالا جائے گا تو وہاں موت مانگیں گے۔
یا اس جیسی کوئی اور آیت تلاوت فرماتے۔(کنز العمال، کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، فضائل الفاروق رضی اللہ عنہ، ۶ / ۲۶۴، الحدیث: ۳۵۸۲۶، الجزء الثانی عشر)
(5)…حضرت عبداللہ رومی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’مجھے امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’اگر میں جنت اور جہنم کے درمیان ہوں اور مجھے یہ معلوم نہ ہو کہ ان میں سے کس کی طرف جانے کا مجھے حکم دیا جائے گا تو میں اس بات کو اختیار کروں گا کہ میں یہ معلوم ہونے سے پہلے ہی راکھ ہو جاؤں کہ میں کہاں جاؤں گا۔ (الزہد لابن حنبل، زہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، ص۱۵۵، رقم: ۶۸۶)
(6)…ایک انصاری نوجوان کے دل میں جہنم کا خوف پیدا ہوا تواس کی وجہ سے وہ گھر میں ہی بیٹھ گئے، جب نبی ٔاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تعظیم میں کھڑے ہو گئے ، پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکے مقدس سینے سے چمٹ گئے ، اس کے بعد ایک چیخ ماری اور ان کی روح پرواز کر گئی، غمگسار آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی کے کفن دفن کی تیاری کرو، جہنم کے خوف نے اس کا جگر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ (الزہد لابن حنبل، زہد عبید بن عمیر، ص۳۹۴، رقم: ۲۳۴۹)
(7)…حضرت ابو سلیمان دارانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’(مشہور تابعی بزرگ) حضرت طاؤس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (کا جہنم کے خوف کی وجہ سے یہ حال تھا کہ آپ) سونے کے لئے بستر بچھاتے اور اس پر لیٹ جاتے ، پھر ایسے تڑپنے لگتے جیسے دانہ ہنڈیا میں اچھلتا ہے، پھر اپنے بستر کی گدی بنا دیتے ، پھر اسے بھی لپیٹ دیتے اور قبلہ رخ ہو کر بیٹھ جاتے یہاں تک کے صبح ہو جاتی اور فرماتے ’’جہنم کی یاد نے عبادت گزاروں پر نیند حرام کر دی ہے۔ (التخویف من النار، الباب الثانی فی الخوف من النار۔۔۔ الخ، فصل من الخائفین من منعہ خوف جہنم من النوم، ص۳۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم کے عذابات سے ڈرنے اور اپنی آخرت کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ۫-یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًاۙ-وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖؕ-اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُؕ-تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ(۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا بڑی برکت والا ہے اللہرب سارے جہان کا ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے، رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانپ دیتا ہے کہ( ایک) دوسرے کے پیچھے جلد جلد چلا آرہا ہے اور اس نے سورج اور چاند اور ستاروں کو بنایا اس حال میں کہ سب اس کے حکم کے پابند ہیں۔ سن لو! پیدا کرنا اور تمام کاموں میں تصرف کرنا اسی کے لائق ہے۔ اللہ بڑی برکت والا ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
{ اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ:بیشک تمہارا رب اللہ ہے۔} گزشتہ آیات میں چونکہ قیامت کے احوال کا بڑی تفصیل سے تذکرہ ہوا اور یہاں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت، قدرت، وحدانیت اوروقوعِ قیامت پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع