30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں پھر اگر وہ تم سے کنارہ نہ کریں اور صلح کی گردن نہ ڈالیں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور یہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں صریح اختیار دیا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: عنقریب تم کچھ دوسروں کو پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ وہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی انہیں فتنے کی طرف پھیرا جاتا ہے تو اس میں اوندھے جاپڑتے ہیں۔ پھر اگر وہ تم سے کنارہ کشی نہ کریں اور تمہارے ساتھ صلح نہ کریں اور اپنے ہاتھ تم (سے لڑنے) سے نہ روکیں تو تم انہیں پکڑ لو اور جہاں پاؤ انہیں قتل کردو اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمہیں کھلا اختیار دیا ہے۔
{سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ: عنقریب تم کچھ دوسروں کو پاؤ گے۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں اسد و غطفان دو قبیلوں کے لوگ ریاکاری کے طور پر کلمہ پڑھتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اور جب ان میں سے کوئی اپنی قوم سے ملتا اور وہ لوگ ان سے کہتے کہ تم کس چیز پر ایمان لائے؟ تویہ کہتے کہ بندروں بچھوؤں وغیرہ پر (یعنی اسلام کا مذاق اڑاتے)۔ اس انداز سے ان کا مطلب یہ تھا کہ دونوں طرف تعلقات رکھیں اور کسی جانب سے انہیں نقصان نہ پہنچے یہ لوگ منافقین تھے، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۹۱، ۱ / ۴۱۲)
اور ان کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ تم سے بھی امن چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی لیکن حقیقت میں تمہارے ساتھ نہیں ہیں کیونکہ جب انہیں کسی فتنے مثلاً شرک یا مسلمانوں سے جنگ کی طرف بلایا جاتا ہے تویہ مسلمانوں کے دشمنوں ہی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ مزیدان کے متعلق فرمایا کہ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ جنگ کرنے سے باز آکرایک طرف نہ ہوجائیں اور تمہارے ساتھ صلح نہ کریں تو ان کے کفر اور غداری اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے سبب ہم نے تمہیں ان کے قتل کرنے کا کھلااختیار دیا ہے۔
وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــٴًـاۚ-وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــٴًـا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْاؕ-فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍؕ-وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍۚ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ٘-تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۹۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ہے اور خوں بہا کہ مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے مگر یہ کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور خود مسلمان ہے، تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کی جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے ہوجائے اور جو کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کردے تو ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا اور دیت دینا لازم ہے جو مقتول کے گھروالوں کے حوالے کی جائے گی سوائے اس کے کہ وہ معاف کردیں پھر اگر وہ مقتول تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مقتول خود مسلمان ہو تو صرف ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا لازم ہے اور اگر وہ مقتول اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو تو اس کے گھر والوں کے حوالے دیت کی جائے اور ایک مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کیا جائے پھر جسے (غلام) نہ ملے تو دومہینے کے مسلسل روزے ( لازم ہیں۔ یہ ) اللہ کی بارگاہ میں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔
{وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا: اور کسی مسلمان کیلئے دوسرے مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں۔}یہ آیت ِ مبارکہ عیاش بن ربیعہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی ۔ ان کا واقعہ یوں ہے کہ وہ ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں مسلمان ہوگئے اور گھر والوں کے خوف سے مدینہ طیبہ جا کر پناہ گزیں ہوگئے۔ ان کی ماں کو اس سے بہت بے قراری ہوئی اور اس نے حارث اور ابوجہل اپنے دونوں بیٹوں سے جو عیاش کے سوتیلے بھائی تھے یہ کہا کہ خدا کی قسم نہ میں سایہ میں بیٹھوں گی اور نہ کھانا چکھوں گی اور نہ پانی پیوں گی جب تک تم عیاش کو میرے پاس نہ لے کر آؤ۔ وہ دونوں حارث بن زید کو ساتھ لے کر تلاش کے لیے نکلے اور مدینہ طیبہ پہنچ کر عیاش کو پالیا اور ان کوماں کے جزع فزع کرنے، بے قراری اور کھانا پینا چھوڑنے کی خبر سنائی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر یہ عہد کیا کہ ہم دین کے متعلق تجھ سے کچھ نہ کہیں گے، بس تم مکہ مکرمہ چلو۔ اس طرح وہ عیاش کو مدینہ سے نکال لائے اور مدینہ سے باہر آکر اس کو باندھا اور ہر ایک نے سو سو کوڑے مارے پھر ماں کے پاس لائے تو ماں نے کہا میں تیری مشکیں نہ کھولوں گی جب تک تو اپنا دین ترک نہ کرے گا، پھر عیاش کو دھوپ میں بندھا ہوا ڈال دیا اور ان مصیبتوں میں مبتلا ہو کر عیاش نے ان کا کہا مان لیا اور اپنا دین ترک کردیا۔ اس پر حارث بن زید نے عیاش کو ملامت کی اور کہا تواسلام پر تھا، اگر یہ حق تھا تو تو نے حق کو چھوڑ دیا اور اگر باطل تھا توتو باطل دین پر رہا۔ یہ بات عیاش کو بڑی ناگوار گزری اور عیاش نے حارث سے کہا کہ میں تجھے اکیلا پاؤں گا تو خدا کی قسم ،ضرور تمہیں قتل کردوں گا اس کے بعد عیاش اسلام لے آئے اور انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کرلی اور ان کے بعد حارث بھی اسلام لے آئے اور وہ بھی ہجرت کرکے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں پہنچ گئے لیکن اس روز عیاش موجود نہ تھے اور نہ انہیں حارث کے اسلام کی اطلاع ہوئی۔ قباء شریف کے قریب عیاش نے حارث کو دیکھ لیا اور قتل کردیا تو لوگوں نے کہا، اے عیاش! تم نے بہت برا کیا، حارث اسلام لاچکے تھے ۔اس پر عیاش کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے رحمت ِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا اور کہا کہ مجھے قتل کے وقت تک ان کے اسلام کی خبر ہی نہ ہوئی اس پر یہ آیۂ کریمہ نازل ہوئی اور کفارے کی صورت بیان کی گئی۔(بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۹۲، ۱ / ۳۶۸)
{وَ مَنْ قَتَلَ: اور جو قتل کرے۔} یہاں آیت میں قتل کی چار صورتوں کا بیان ہے اور پھر تین صورتوں میں کفارے کا بیان ہے۔
پہلی صورت یہ کہ مسلمان کا کسی دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے۔
دوسری صورت یہ کہ کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو غلطی سے قتل کردے جیسے شکار کو مار رہا ہومگر گولی مسلمان کو لگ جائے یا کسی کو حربی کافر سمجھ کر مارا لیکن قتل کے بعد معلوم ہوا کہ مقتول تو مسلمان ہے۔ اس صورت میں قاتل پر ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا لازم ہے اور اس کے ساتھ وہ دِیت بھی ادا کرے گا جومقتول کے وارثوں کو دی جائے گی اوروہ اسے میراث کی طرح تقسیم کرلیں۔دِیت مقتول کے ترکہ کے حکم میں ہے، اس سے مقتول کا قرضہ بھی ادا کیا جائے گا اور وصیت بھی پوری کی جائے گی۔ ہاں اگر مقتول کے وُرثاء دیت معاف کردیں تو وہ معاف ہوجائے گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع