دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ(۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ توان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ پھرتم سب ایک جیسے ہو جاؤ۔ توتم ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ ہی مددگار۔

{ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا: وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ ۔} اس سے پہلی آیات میں منافقوں کی اپنی سرکشی کا بیان ہوا اور اس آیت میں ان کے کفر و سرکشی میں حد سے بڑھنے کا بیان ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو! جو منافق ایمان چھوڑ کر کفر و ارتداد کی طرف پلٹ گئے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ پھرتم سب کفر میں ایک جیسے ہو جاؤ اور جب ان کا یہ حال ہے توتم ان میں سے کسی کو اس وقت تک اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت نہ کریں اور اِس سے اُن کے ایمان کا ثبوت نہ مل جائے کہ ان کا ایمان اللہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضا کے لئے ہے کسی دنیوی مقصد کے لئے نہیں ہے، پھر اگر وہ ہجرت کرنے سے منہ پھیریں اور کفر پر قائم رہنے کو اختیار کریں تو اے مسلمانو! تم انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور اگر وہ تمہاری دوستی کا دعویٰ کریں اور دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کے لیے تیار ہوں تو ان کی مدد نہ قبول کرو کیونکہ یہ بھی دشمن ہیں۔(روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲ / ۲۵۶، خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۸۹، ۱ / ۴۱۱، ملتقطاً)

آیت ’’وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:

            اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں

(1)… دوسرے کو کافر کرنے کی کوشش کرنا کفر ہے۔

(2)… کافر، مرتد ، بد مذہب کو دوست بنانا اور ان سے دلی محبت رکھنا حرام ہے اگرچہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے کو مسلمان کہتا ہو جیسے اُس زمانے کے منافق تھے۔ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : کفار اور مشرکین سے اتحاد ووداد حرامِ قطعی ہے قرآنِ عظیم کی نُصوص اُس کی تحریم سے گونج رہے ہیں اور کچھ نہ ہو تو اتنا کافی ہے کہ

وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ(مائدہ:۵۱)

واحد قہار فرماتا ہے کہ تم میں جوکوئی ان سے دوستی رکھے گا وہ بے شک انہیں میں سے ہے۔ (فتاوی رضویہ، ۲۱ / ۲۲۹)

(3)… دینی امور میں مشرک سے مد د نہ لی جائے۔ حضرت ابو حُمید ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ہم مشرکین سے مدد نہیں لیں گے۔(مستدرک، کتاب الجہاد، لا نستعین بالمشرکین علی المشرکین، ۲ / ۴۵۶، الحدیث: ۲۶۱۰)

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْۚ-فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْااِلَیْكُمُ السَّلَمَۙ- فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا(۹۰)

ترجمۂ کنزالایمان: مگر وہ جو ایسی قوم سے علاقہ رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سَکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  مگر (ان لوگوں کو قتل نہ کرو) جو ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں کہ تمہارے اور ان کے درمیان ( امن کا) معاہدہ ہو یا تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ ان کے دل تم سے لڑائی کرنے سے تنگ آچکے ہوں یا (تمہارے ساتھ مل کر) اپنی قوم سے لڑیں اوراللہاگر چاہتا تو ضرور انہیں تم پر مسلط کر دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے دور رہیں اور نہ لڑیں اور تمہاری طرف صلح کا پیغام بھیجیں تو (صلح کی صورت میں ) اللہ نے تمہیں ان پر(لڑائی) کا کوئی راستہ نہیں رکھا۔

{اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍ: مگر جو ایسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ }گزشتہ آیت میں قتل کا حکم دیا گیا تھا، اب فرمایا جارہا ہے کہ کچھ لوگ اس حکم سے خارج ہیں ، وہ یہ ہیں :

(1)…وہ لوگ جن کا ایسی قوم سے تعلق ہو جن سے تمہارا امن کا معاہدہ ہوچکا ہو۔

(2)…وہ لوگ جو تم سے لڑائی نہ کریں۔

(3)…وہ لوگ جوتمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑیں۔ ان سب لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا مزید احسان بیان فرمایا کہ اگراللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر مُسلَّط کر دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے اور تم پر غالب بھی آجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔

{فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ: پھر اگر وہ تم سے دور رہیں۔} یہاں فرمایا کہ اگر کفار تم سے دور رہیں اور نہ لڑیں بلکہ صلح کا پیغام بھیجیں تو اس صورت میں تمہیں اجازت نہیں کہ تم ان سے جنگ کرو ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اب اسلامی سلطان کو صلح کرنے، نہ کرنے کا اختیار ہے۔(جمل، النساء، تحت الآیۃ: ۹۰، ۲ / ۹۹، خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۹۰، ۱ / ۴۱۲، ملتقطاً)

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْؕ-كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَاۚ-فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْؕ-وَ اُولٰٓىٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠(۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اب کچھ اور تم ایسے پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امان میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امان میں رہیں جب کبھی ان کی قوم انہیں فساد کی طرف پھیرے تو اس پر اوندھے گرتے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن