دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگریہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔

{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ: تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔} یہاں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اِس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکروفریب کو کھول کر رکھ دیاہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔ اگر قرآن میں غور کریں تو یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا رسول ہے۔

قرآنِ مجید میں غورو فکر کرنا عبادت ہے لیکن!

            اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ امام غزالی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔(احیاء علوم الدین، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، ۵ / ۱۷۰)

            قرآن کا ذکر کرنا، اسے پڑھنا، دیکھنا، چھونا سب عبادت ہے۔ قرآن میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ قرآن میں وہی غوروفکر مُعْتَبر اور صحیح ہے جو صاحب ِ قرآنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فرامین اور حضور پُرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحبت یافتہ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اور ان سے تربیت حاصل کرنے والے تابعین  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکے علوم کی روشنی میں ہو کیونکہ وہ غور و فکر جو اُس ذات کے فرامین کے خلاف ہو جن پر قرآن اترا اور اس غور و فکر کے خلاف ہو جو وحی کے نزول کا مُشاہدہ کرنے والے بزرگوں کے غوروفکر کے خلاف ہو، وہ یقیناً معتبر نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے دورِ جدید کے اُن نت نئے مُحققین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علماء ، فُقہاء،محدثین ومفسرین اور ساری امت کے فَہم کو غلط قرار دے کر قولاً یا عملاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے ، پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے۔ یہ لوگ یقیناً گمراہ ہیں۔

{وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ: اور اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا۔}یہاں قرآنِ پاک کی حقانیت پر ایک نہایت آسان اور واضح دلیل دی جارہی ہے کہ اگر قرآنِ پاک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا  تو اس میں بہت زیادہ اختلاف ہوتا، اس میں جو غیب کی خبریں دی گئی ہیں وہ سو فیصد پوری نہ ہوتیں بلکہ کوئی بات توپوری ہوجاتی اور کوئی نہ ہوتی لیکن جب ایسا نہ ہوا بلکہ قرآنِ پاک کی تما م غیبی خبریں بالکل سچی ثابت ہورہی ہیں تو ثابت ہوا کہ یقیناً یہ کتاب، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے نیز اس کے مضامین میں بھی باہم اختلاف نہیں کہ کہیں کوئی بات کہہ دی اور کہیں اس کے برخلاف کوئی دوسری بات کہہ دی۔ اسی طرح فصاحت و بلاغت میں بھی اس میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ مخلوق کا کلام فصیح بھی ہو تو سب یکساں نہیں ہوتا کچھ بلاغت سے بھرپور ہوتا ہے تو کچھ رکیک و گھٹیا قسم کا ہوتا ہے جیسا کہ شُعراء اور زباندانوں کے کلام میں دیکھا جاتا ہے کہ بڑے سے بڑے شاعر کا کوئی کلام بڑا شاندار ہوتا ہے اور کوئی بالکل گیا گزرا۔ لیکن قرآن چونکہ اللہتعالیٰ کا کلام ہے اوراللہ تعالیٰ ہی کے کلام کی شان ہے کہ اس کا تمام کلام فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ مرتبے پر ہے۔

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖؕ-وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ-وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان یا ڈر کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بات میں کاوش کرتے ہیں اور اگر تم پر اللہ  کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے مگر تھوڑے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور جب امن یا خوف کی کوئی بات ان کے پاس آتی ہے تو اسے پھیلانے لگتے ہیں حالانکہ اگر  اس بات کو رسول اور اپنے بااختیار لوگوں کی خدمت میں پیش کرتے تو ضرور اُن میں سے نتیجہ نکالنے کی صلاحیت رکھنے والے اُس (خبر کی حقیقت) کوجان لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم میں سے چند ایک کے علاوہ سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

{وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ: اور جب امن یا خوف کی کوئی بات ان کے پاس آتی ہے۔} یہاں اگرچہ ایک خاص سیاق و سباق میں ایک چیز بیان کی گئی ہے لیکن اِس میں جو حکم بیان کیا گیا ہے یہ ہماری زندگی کے ہزاروں گوشوں میں اصلاح کیلئے کافی ہے۔ خلاصہ کلام یہ فرمایا گیا کہ جب کبھی امن مثلاًمسلمانوں کی فتح یا خوف مثلاً مسلمانوں کی شکست کی کوئی بات لوگوں کے پاس آتی ہے جو فساد کا باعث بن سکتی ہے تو وہ فوراً اُسے پھیلانے لگتے ہیں حالانکہ اگر اس بات کو یہ لوگ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور اپنے بااختیار لوگوں جیسے اکابر صحابہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُم  جو صاحبِ رائے اور صاحبِ بصیر ت ہیں کی خدمت میں پیش کرتے اور خود کچھ دخل نہ دیتے تو سمجھدار لوگ ضرور اپنی عقل و دانش یا اپنی تحقیق کی روشنی میں اُ س خبر کی حقیقت کوجان لیتے اور یوں بات کا بتنگڑ بننے کی بجائے حقیقت ِ حال کھل کر سامنے آجاتی ۔

زندگی کی اصلاح کا ایک اہم اصول:

             اس آیت کو سامنے رکھ کر ہم اپنے گھروں کے معاملات بلکہ ملکی و بین الاقوامی معاملات اور صحافتی معاملات کو جانچ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں کا حال یہ ہے کہ ایک بات کو کوئی شخص اچھالتا ہے اور پھر وہ موجودہ میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں گردش کرنے لگتی ہے اور کچھ عرصے بعد پتا چلتا ہے کہ اس بات کا کوئی سر پیر ہی نہیں اور وہ سراسر جھوٹی ہے۔ مسلمانوں کو اور اسلام کو بدنام کرنے کیلئے ایسی سازشیں ، افواہیں اور خبریں دن رات پھیلائی جارہی ہیں حتّٰی کہ بعض جگہوں پر یہ بات پھیلائی گئی ہے کہ مسلمانوں کا مذہب یہ ہے کہ کوئی مسلمان اس وقت تک جنت میں نہیں جائے گا جب تک وہ کسی ایک کافر کو قتل نہیں کرلے گا۔ اَ لْاَمان وَالْحفیظ، کیسا جھوٹ اور کیسی دیدہ دلیری ہے۔ کفار کے ممالک میں مسلمانوں کا جو تشخص پھیلایا جارہا ہے وہ بھی اسی طرح کی جھوٹی افواہوں کے ذریعے ہے اور پھر ایسی ہی باتیں سن کر مغرب سے مرعوب کچھ پڑھے لکھے سمجھے جانے والے ہمارے لوگ اِن باتوں کو اسلام کے نام پر پیش کرکے اِسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ یہی معاملہ گھروں میں ہے کہ کسی نے کچھ بات کہی ، وہ پھیلتے پھیلتے دس مرتبہ اضافوں کے ساتھ ایسی ہوگئی کہ خاندانوں میں لڑائیاں چھڑگئیں اور تباہیاں مچ گئیں۔ ایسی سینکڑوں باتوں کا ہم سب کو تجربہ ہوگا۔ ان سب کیلئے قرآن نے یہ اصول دیا ہے کہ جب ایسی کوئی بات پہنچے تو اہلِ دانش اور سمجھدار لوگوں تک پہنچا دی جائے وہ غور و فکر اور تحقیق سے اس کی حقیقت ِ حال معلوم کرلیں گے اور یوں بات کا بتنگڑ اور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن