30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ: اور اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچے۔} یہاں سے منافقین کا بیان ہے کہ اگرانہیں کوئی بھلائی پہنچے جیسے مال میں فراوانی آجائے، کاروبار اچھا ہو جائے، پیداوار زیادہ ہوجائے تو کہتے ہیں یہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے جیسے قحط پڑجائے یا کوئی اور مصیبت آجائے تو کہتے ہیں : اے محمد! یہ آپ کی وجہ سے آئی ہے، جب سے آپ آئے ہیں ایسی ہی سختیاں پیش آرہی ہیں۔ محبوبِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دفاع میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تم ان سے فرما دو کہ رزق میں کمی بیشی، قحط یا خوشحالی، رنج یا راحت، فتح یا شکست سب حقیقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہیں یعنی ہر راحت و مصیبت اللہ عَزَّوَجَلَّکے ارادے سے آتی ہے، ہاں ہم اس کے اسباب مہیاکر لیتے ہیں نیز یہ بات بھی یاد رہے کہ نیکی راحت کا ذریعہ ہے اورگناہ مصیبت کا سبب ہے۔
مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ٘-وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ-وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا(۷۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لیے رسول بھیجا اور اللہ کافی ہے گواہ ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے سننے والے! تجھے جو بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور تجھے جو برائی پہنچتی ہے وہ تیری اپنی طرف سے ہے اور اے حبیب! ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بنا کربھیجا ہے اور گواہی کے لئے اللہہی کافی ہے۔
{مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ: تجھے جو بھلائی پہنچتی ہے ۔} ارشادفرمایا گیا کہ اے مخاطب! تمہیں جو بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کریم کا فضل و رحمت ہے اور تجھے جو برائی پہنچتی ہے وہ تیری اپنی وجہ سے ہے کہ تو نے ایسے گناہوں کا ارتکاب کیا کہ تو اس کا مستحق ہوا۔ یہاں بھلائی کی نسبت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف اور برائی کی نسبت بندے کی طرف کی گئی ہے جب کہ اوپر کی آیت میں سب کی نسبت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہے ،خلاصہ یہ ہے کہ بندہ جب مُؤثّر ِ حقیقی کی طرف نظر کرے تو ہر چیز کو اُسی کی طرف سے جانے اور جب اسباب پر نظر کرے تو برائیوں کو اپنی شامت ِنفس کے سبب سے سمجھے۔
{وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا: اور اے حبیب! ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بنا کربھیجا ہے۔} رسولِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتمام عرب و عجم اور ساری مخلوق کے لئے رسول بنائے گئے اور کل جہان آپ کا امتی کیا گیا۔ یہ سرورِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے جلیلُ القدر منصب اورعظیمُ الْمَرتَبَت قدر و مَنزِلَت کا بیان ہے۔ اَوّلین وآخرین سارے انسانوں کے آپ نبی ہیں ، حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر یَوم قیامت تک سب انسان آپ کے امتی ہیں ، اسی لئے تمام نَبِیُّوں نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیچھے نماز پڑھی۔
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ(۸۰)
ترجمۂ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہکا حکم مانا اور جس نے منہ پھیرا تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا اور جس نے منہ موڑا تو ہم نے تمہیں انہیں بچانے کے لئے نہیں بھیجا ۔
{مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ: جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔} آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول کچھ اس طرح ہے کہ سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک مرتبہ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّسے محبت کی، اِس پر آج کل کے گستاخ بددینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو رب ماناہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے رد میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کلام کی تصدیق فرما دی کہ بے شک رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔(بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۸۰، ۱ / ۳۶۲)
تو جس نے ان کی اطاعت سے اِعراض کیا تو اس کا وبال اسی پر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے نہیں بھیجا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبہرصورت انہیں جہنم سے بچائیں بلکہ صرف تبلیغ کیلئے بھیجا ہے۔
وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ٘-فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُؕ-وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَۚ-فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا(۸۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کہتے ہیں :ہم نے فرمانبرداری کی پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو ان میں ایک گروہ آپ کے فرمان کے برخلاف رات کو منصوبے بناتا ہے اوراللہ ان کے رات کے منصوبے لکھ رہاہے تو اے حبیب! تم ان سے چشم پوشی کرو اوراللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی کارساز ہے۔
{وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ: اور کہتے ہیں :ہم نے فرمانبرداری کی۔} یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ،جو نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سامنے کہتے تھے کہ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی اطاعت ہم پر فرض ہے لیکن وہاں سے اٹھ کر اس کے خلاف کرتے تھے۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۸۱، ۱ / ۴۰۵)
ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے سب منصوبے ان کے نامۂ اعمال میں لکھے جا رہے ہیں اور اِنہیں اُس کا بدلہ بھی ملے گا۔ لیکن چونکہ یہ ظاہراً کلمہ پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر کفر نہیں کرتے تھے اس لئے ان کے بارے میں کہا گیا کہ ان سے چشم پوشی کرو یعنی ان کے کافروں کی طرح دنیوی احکام نہیں ہیں۔ ہاں چونکہ ان کی طرف سے خطرہ پایا جاتا ہے تو اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ رکھو، ان کی طرف سے اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو کفایت کرے گا۔
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ-وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا(۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع