دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ضرور دیر لگائیں گے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت آ پڑے تو دیر لگانےوالاکہے گا: بیشک اللہ نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فضل ملے تو (تکلیف پہنچنے والی صورت میں تو ) گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی ہی نہ تھی (جبکہ اب) ضرو ر کہے گا : اے کاش میں (بھی) ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرلیتا۔

 {وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ: اور تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ضرور دیر لگائیں گے۔} یہاں منافقوں کا بیان ہے کہ منافقوں کی حالت یہ ہے کہ حتَّی الامکان میدانِ جنگ میں جانے میں دیر لگائیں گے تاکہ کسی طرح ان کی جان چھوٹ جائے اور اگر پھر واقعی ایسا ہوجائے کہ مسلمانوں کو کوئی مصیبت آپہنچے اور یہ منافقین وہاں موجود نہ ہوں تو بڑی خوشی سے کہیں گے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ہے کہ میں وہاں موجود نہ تھا ورنہ میں بھی مصیبت میں پڑجاتا۔ اور اگر اس کی جگہ مسلمانوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خصوصی فضل ہوجائے کہ انہیں فتح حاصل ہوجائے اور مالِ غنیمت مل جائے تو پھر وہی جو تکلیف کے وقت اجنبی اور بیگانے بن گئے تھے اب کہیں گے کہ اے کاش کہ ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے تو ہمیں بھی کچھ مال مل جاتا۔ گویا منافقین کا اول وآخر صرف مال کی ہوس ہے۔ انہیں نہ مسلمانوں کی فتح سے خوشی اورنہ شکست سے رنج بلکہ شکست پر خوش اور فتح پر رنجیدہ ہوتے ہیں۔

خود غرضی اور مفاد پرستی کی مذمت:

             اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خود غرضی، موقع شناسی، مفاد پرستی اور مال کی ہوس منافقوں کا طریقہ ہے۔ دنیا میں وہ شخص کبھی کامیاب نہیں ہوتا جو تکلیف کے موقع پر تو کسی کا ساتھ نہ دے لیکن اپنے مفاد کے موقع پر آگے آگے ہوتا پھرے۔ مفاد پرست اور خود غرض آدمی کچھ عرصہ تک تو اپنی منافقت چھپا سکتا ہے لیکن اس کے بعد ذلت و رسوائی اس کا مقدر ہوتی ہے۔

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِؕ-وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا(۷۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ  کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں بیچ دیتے ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں لڑیں اور جواللہ کی راہ میں لڑے پھر شہید کردیا جائے یا غالب آجائے تو عنقریب ہم اسے بہت بڑا ثواب عطا فرمائیں گے۔

{فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: تواللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے۔} یہاں اہلِ ایمان کا بیان ہے کہ جن لوگوں کی نگاہیں آخرت کی زندگی پر لگی ہوئی ہیں اور وہ آخرت کی خاطر دنیا کی زندگی قربان کرنے کو تیار ہیں انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں لڑنا چاہیے اور اس میں دُنیوی نفع کا ہرگز خیال نہ کریں بلکہ ان کا مطلوب و مقصود اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا ،دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کا بول بالاہونا چاہیے۔ جب اس نیت سے کوئی جہاد کرے گا تو وہ شہید ہوجائے یا بچ کر آجائے دونوں صورتوں میں بارگاہِ الہٰی میں مقبول ہوجائے گا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عظیم اَجر کا مُستحق ہوگا۔

 حضرت انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا جذبۂ شہادت:

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میرے چچا حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ بدر میں نہ جاسکے ، انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی :آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مشرکین سے جو پہلی جنگ کی تھی میں اس میں حاضر نہ ہو سکا۔ اگراب اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کاموقع دیا تو اللہ تعالیٰ دکھا دے گا جو میں کروں گا، پھر جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا توکچھ لوگ بھاگنے لگے، حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! ان بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں ، میں ان کی طرف سے معذرت خواہ ہوں اور جو مشرک ہیں ، میں اُن سے بری ہوں۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  تلوار لے کر میدانِ جنگ کی طرف دیوانہ وار بڑھے۔ راستے میں حضرت سعد بن معاذ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات ہوئی تو فرمایا ’’اے سعد ! رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ، جنت۔ اس پاک پرورد گار عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں اُحد پہاڑ کے قریب جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُ  فرماتے ہیں : جیسا کارنامہ انہوں نے سر انجام دیا ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔ حضرت انس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نے انہیں شہیدوں میں اس حال میں پایا کہ ان کے جسم مبارک پر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے اسّی (80) سے زائد زخم تھے، اور آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اعضاء جگہ جگہ سے کاٹ دیئے گئے تھے ، آپ  رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہچاننابہت مشکل ہوچکاتھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہمشیرہ نے آپ کواُنگلیوں کے نشانات سے پہچانا۔(بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قول اللہ تعالٰی: من المؤمنین رجال صدقوا۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۵۵، الحدیث: ۲۸۰۵، عیون الحکایات، الحکایۃ العاشرۃ، ص۲۷، ملتقطاً)

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ(۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے جویہ دعا کر رہے ہیں کہ اے رب ہمارے ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے  دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑواور کمزور مرد وں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر (نہ لڑو جو) یہ دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس شہرسے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنادے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنادے۔

{وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو ۔} ارشاد فرمایا گیا کہ جہاد فرض ہے اور اس کے ترک کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں تو تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد نہ کرو حالانکہ دوسری طرف مسلمان مرد وعورت اور بچے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اُن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں اور وہ ربُّ العٰلَمینعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ!عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس بستی کے ظالموں سے نجات عطا فرما اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار عطا فرما۔ تو جب مسلمان مظلوم ہیں اور تم ان کو بچانے کی طاقت رکھتے ہو تو کیوں ان کی مدد کیلئے نہیں اٹھتے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن