30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرچہ ا س کی توجہ مخلوق کی طرف نہ ہو اور نہ ہی وہ ان کو دکھا رہا ہو ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر ظاہر کاباطن کے خلاف ہونا قصد وارادے سے ہو تو وہ ریا ہے اور ا س سے اخلاص ختم ہو جاتا ہے اور قصدو ارادے کے بغیر ہو تو اس سے صدق فوت ہو جاتا ہے اور اس قسم کی خرابی سے نجات کی صورت یہی ہے کہ ظاہر وباطن ایک جیسا ہو بلکہ باطن ظاہر سے بہتر ہو۔
چھٹا اور سب سے اعلیٰ و مُعَزَّز درجے کا صدق’’ مقامات دین میں صدق‘‘ ہے، جیسے خوف ، امید، تعظیم، زُہد، رضا، تَوَکُّل، محبت اور باقی اُمورِ دینیہ میں صدق پایا جانا ۔ان امور کی کچھ بنیادیں ہیں جن کے ظاہر ہونے سے یہ نام بولے جاتے ہیں ،پھر ان کے کچھ مقاصد اور حقائق ہیں تو حقیقی صادق وہ ہے جو ان امور کی حقیقت کو پا لے اور جب کوئی چیز غالب آ جائے اور اس کی حقیقت کامل ہو تو ا س سے موصوف شخص کو صادق کہا جاتا ہے۔(احیاء علوم الدین، کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، الباب الثالث، بیان حقیقۃ الصدق ومعناہ ومراتبہ، ۵ / ۱۱۷-۱۲۲)
یاد رہے کہ اس آیت میں صدیقین سے سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَکابِر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسب سے پہلے مراد ہیں جیسے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ شہداء سے مراد وہ حضرات ہیں جنہوں نے راہِ خدا میں جانیں دیں اور صالحین سے مراد وہ دیندار لوگ ہیں جو حق العِباد اور حقُّ اللہ دونوں ادا کریں اور اُن کے احوال و اعمال اور ظاہر و باطن اچھے اور پاک ہوں۔
ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠(۷۰)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ جاننے والاکافی ہے۔
{ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ:یہ اللہ کا فضل ہے۔} معلوم ہوا کہ جنت میں حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قرب جنت کی بہت بڑی نعمت ہوگی کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے بطورِ خاص فضیلت میں شمار فرمایا اور اسے اپنا فضل قرار دیا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا(۷۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو ہوشیاری سے کام لوپھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ہوشیاری سے کام لو پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو ۔
{خُذُوْا حِذْرَكُمْ: ہوشیاری سے کام لو۔} اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ اس نے ہمیں زندگی کے کسی بھی شعبے میں اپنے احکام سے محروم نہیں رکھا بلکہ ہر جگہ ہماری رہنمائی فرمائی۔ ماں باپ، بیوی بچے، رشتے دار، پڑوسی، اپنے بیگانے سب کے متعلق واضح ہدایات عطا فرمائیں۔ اسی سلسلے میں ہماری بھلائی کیلئے ہمیں ہوشیار رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ دنیا کے دیگر معاملات کی طرح دشمنوں کے مقابلے میں بھی ہوشیاری اور سمجھداری سے کام لو، دُشمن کی گھات سے بچو اور اُسے اپنے اوپر موقع نہ دو اور اپنی حفاظت کا سامان لے رکھو پھر موقع محل کی مناسبت سے دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو ۔ یعنی جہاں جو مناسب ہو امیر کی اطاعت میں رہتے ہوئے اور تجربات و عقل کی روشنی میں مفید تدبیریں اختیار کرو۔ یہ آیت ِ مبارکہ جنگی تیاریوں ، جنگی چالوں ، دشمنوں کی حربی طاقت کے اندازے لگانے، معلومات رکھنے، ان کے مقابلے میں بھرپور تیاری اور بہترین جنگی حکمت ِ عملی کے جملہ اصولوں میں رہنمائی کرتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسباب کا اختیار کرنا بھی نہایت اہم ہے۔ بغیر اسباب لڑنا مرنے کے مُتَرادِف ہے، تَوَکُّل ترک ِ اَسباب کا نام نہیں بلکہ اسباب اختیار کرکے امیدیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے وابستہ کرنے کا نام ہے۔
جنگی تیاری کیلئے حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی ہدایا ت ملاحظہ فرمائیں:
(1)… حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ( اس آیت) ’’وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ ‘‘ اور ان کے لئے تیار رکھو جو قوت تم سے بن پڑ ے ۔ (کی تفسیر میں )فرمایا ’’خبردار! وہ قوت تیر اندازی ہے، خبردار! وہ قوت تیر اندازی ہے، خبردار! وہ قوت تیر اندازی ہے۔(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرمی والحث علیہ۔۔۔ الخ، ص۱۰۶۱، الحدیث: ۱۶۷(۱۹۱۷))
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مشرکین سے ،اپنے مال، ہاتھ اور زبان سے جہاد کرو ( یعنی دینِ حق کی اشاعت میں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہو جاؤ)(نسائی، کتاب الجہاد، باب وجوب الجہاد، ص۵۰۳، الحدیث: ۳۰۹۳)
(3)…حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرورِ کائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے بدلے تین افراد کو جنت میں داخل فرمائے گا (1) ثواب کی نیت سے تیر بنانے والے کو (2) تیر پھینکنے والے کو (3) تیر پکڑوانے والے کو۔ اور تیر اندازی اور گھڑ سواری میں مقابلہ کیا کرو، تمہارا تیر اندازی میں مقابلہ کرنا شَہسواری میں مقابلہ کرنے سے زیادہ مجھے پسند ہے اور جو تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے غفلت کرتے ہوئے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کو گنوا دیا۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی الرمی، ۳ / ۱۹، الحدیث: ۲۵۱۳)
(4)… حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اہلِ شام کو خط لکھا کہ اپنی اولاد کو تیراکی اور گھڑ سواری سکھاؤ۔ (در منثور، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۰، ۴ / ۸۶)
وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّۚ-فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا(۷۲)وَ لَىٕنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا(۷۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا۔ اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے تو ضرو ر کہے گویا تم میں اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع