30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)…تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حاکم ہیں۔
(5)…اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی حاکم ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی البتہ دونوں میں لامُتَناہی فرق ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بہت سی صفات جواللہ تعالیٰ کیلئے استعمال ہوتی ہیں اگر وہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے استعمال کی جائیں تو شرک لازم نہیں آتا جب تک کہ شرک کی حقیقت نہ پائی جائے۔
(6)…رسو لِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم دل و جان سے ماننا ضروری ہے اور اس کے بارے میں دل میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ۔ اسی لئے آیت کے آخر میں فرمایا کہ پھر اپنے دلوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم کے متعلق کوئی رکاوٹ نہ پائیں اور دل و جان سے تسلیم کرلیں۔
(7)…اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلامی احکام کا ماننا فرض ہے اور ان کو نہ ماننا کفر ہے نیز ان پر اعتراض کرنا، ان کا مذاق اڑانا کفر ہے۔ اس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو کافروں کے قوانین کو اسلامی قوانین پرفَوْقِیَّت دیتے ہیں۔
وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْؕ-وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ(۶۶) وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ(۶۷) وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا(۶۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ہم ان پر فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر وہ کرتے جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے تو اس میں ان کا بھلا تھا اور ایمان پر خوب جمنا ۔ اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم ان پر فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر وہ ہر وہ کام کرلیتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو ان کے لئے بہت بہتراورثابت قدمی کا ذریعہ ہوتا۔ اور ایسا ہوتا تو ہم ضرور انہیں اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب عطا فرماتے۔اور ہم انہیں ضرور سیدھے راستے کی ہدایت دیتے۔
{وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ: اور اگر ہم ان پر فرض کردیتے۔} یہاں مخلص و منافق سب کے اعتبار سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر ہم ان پر فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرویا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل جانے اور توبہ کے لئے اپنے آپ کو قتل کا حکم دیا تھا۔ اس آیت کا شانِ نزول کچھ اس طرح ہے کہ حضرت ثابت بن قیس بن شَماس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ایک یہودی نے کہا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے ہم پر خود کو قتل کرنا اور گھر بار چھوڑ نا فرض کیا تھا، ہم اس کو بجالائے تھے۔ اس پر حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم پر فرض کرتا تو ہم بھی ضرور بجالاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر طبری، النساء، تحت الآیۃ: ۶۶، ۴ / ۱۶۳)
کہ یہ کہنا تو آسان ہے لیکن اگر واقعی ایسا حکم دیدیا جاتا تو ایک بڑی تعداد اس حکم پر عمل نہ کرتی۔ اس میں بطورِ خاص منافقین یا نئے نئے مسلمان ہونے والے داخل ہوں گے جیسے منافقین اکثر جہاد سے فرار کی راہ ہی اختیار کرتے تھے اور نئے نئے مسلمان ہونے والے بھی کئی جنگوں میں ثابت قدم نہ رہ سکے۔ جہاں تک مُخلِصین یعنی جلیلُ القدر صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا تعلق ہے تو کتنے ہی صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایسے ہیں جنہوں نے مختلف جنگوں میں خود کو سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے آگے کھڑا کردیا اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کردیں۔ مزید فرمایا کہ اگر تمہیں خود کو قتل کرنے یا اپنے گھروں سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا تو تم میں سے تھوڑے لوگ ہی کرتے لیکن اگر وہ ہر اُس حکم پر عمل کریں جو انہیں دیا جائے خواہ خود کو جان سے ماردینے کا ہو یا گھروں سے نکل جانے کا بہرصورت یہ ان کیلئے بہت بہتر ہوتا اور ایمان پر ثابت قدمی کا ذریعہ ہوتا اور اس پر ہم انہیں عظیم اجروثواب عطا فرماتے اور انہیں صراط ِ مستقیم کی اعلیٰ درجے کی ہدایت عطا فرماتے۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پراللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جواللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔
{وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ: اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے۔} آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول کچھ اس طرح ہے کہ حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تاجدارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ کمال درجے کی محبت رکھتے تھے اور انہیں جدائی کی تاب نہ تھی۔ ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرے کا رنگ بدل گیاتھا تو رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَنے دریافت فرمایا، آج رنگ کیوں بدلاہوا ہے ؟عرض کیا: نہ مجھے کوئی بیماری ہے اورنہ درد سوائے اس کے کہ جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سامنے نہیں ہوتے تو اِنتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہوجاتی ہے، جب آخرت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا؟ آپ اعلیٰ ترین مقام میں ہوں گے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے جنت بھی دی تو اس مقام عالی تک رسائی کہاں ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۶۹، ۱ / ۴۰۰)
اور انہیں تسکین دی گئی کہ منزلوں کے فرق کے باوجودفرمانبرداروں کو نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضری اور مَعِیَّت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا اور انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مخلص فرمانبردار جنت میں اُن کی صحبت ودیدار سے محروم نہ ہوں گے۔حدیث شریف میں ہے:آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرے۔ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب اخبار الرجل الرجل بمحبتہ ایاہ، ۴ / ۴۲۹، الحدیث: ۵۱۲۷)
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا شوقِ رفاقت:
اس سے معلوم ہو اکہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رفاقت صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو بہت محبوب تھی اور دنیا کی رفاقت کے ساتھ ساتھ اُخروی رفاقت کا شوق بھی ان کے دلوں میں رچا بسا تھا اور وہ ا س کے لئے بڑے فکر مند ہو اکرتے تھے۔ ذیلی سُطور میں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے شوقِ رفاقت کے چند اور واقعات ملاحظہ ہوں ، چنانچہ
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ میں رات کو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ اقدس میں رہا کرتا تھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وضو کیلئے پانی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع