30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوئے مال میں سے اس کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے خرچ کرتے تواِس میں سراسر اُن کا نفع ہی تھا۔ معلوم ہوا کہ راہِ خدا میں خرچ کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کی نیت ہونی چاہئے، بصورت ِدیگر عمل ضائع ہو جائے گا اور اس پر سزا بھی ملے گی۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ-وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا(۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو وہ اسے کئی گنا بڑھادیتا ہے اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب عطافرماتا ہے۔
{اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ:بیشک اللہ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں فرماتا۔} اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرے جتنا بھی ظلم فرمائے۔ یہاں یہ بات اس معنیٰ میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کے نیک اعمال بغیر کسی وجہ کے ضائع فرماکر ان کی جزا سے محروم کر دے یا کسی مجرم کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دیدے، یہ اس کی شان کے لائق نہیں بلکہ اپنے فضل ورحمت سے نیکی کا ثواب عمل کے مقابلے میں بہت زیادہ عطا فرماتا ہے۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ ظلم سے پاک ہے مومن نیکی کرتا ہے تو دنیا میں رزق اور آخرت میں جنت کی صورت میں ثواب پاتا ہے اور کافر کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کے بدلے دنیا میں ہی اسے رزق دے دیا جاتا ہے اور قیامت کے دن اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہو گی جس پر اسے کوئی جزا ملے۔ (مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب جزاء المؤمن بحسناتہ فی الدنیا والآخرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۵۰۸، الحدیث: ۵۶(۲۸۰۸))
فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)
ترجمۂ کنزالایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں گے۔
{فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ:تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں۔} اس آیت میں کفار و منافقین اور یہودو نصاریٰ کے لئے شدید وعیدہے کہ جب قیامت کے دن تمام انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی امت کے ہر نیک اور بد کے ایمان، کفر ،نفاق اور تمام اچھے برے اعمال کی گواہی دیں گے ،پھر ان سب پر حضور سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنایا جائے گا تو ان کا انجام کیا ہو گا۔ قیامت کے دن دی جانے والی اس گواہی کی تفصیل سورۂ بقرہ کی آیت نمبر143 کے تحت گزر چکی ہے۔
یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُؕ-وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠(۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اس دن تمنا کریں گے وہ جنہوں نے کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپاسکیں گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن کفار اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے اور وہ کوئی بات اللہ سے چھپا نہ سکیں گے۔
{یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:اس دن کافر تمنا کریں گے۔} قیامت کے دن کی ہولناکی اور اپنے اعمال کا بدلہ دیکھ کر کفار تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پیدا ہی نہ کیا گیا ہوتا۔ کاش! زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دفن ہو جائیں۔ کاش! ہمیں بھی جانوروں کی طرح مٹی کر دیا جاتا پھر جب ان کی خطاؤں پر باز پُرس ہو گی تو قسمیں کھا کر کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہم مشرک نہ تھے، تب ان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی پھرا ن کے اعضا ء بول اٹھیں گے اور سب اعمال بیان کر دیں گے،اس طرح یہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اللہ تعالیٰ سے کوئی بات بھی چھپا نہ سکیں گے۔
اللہ تعالٰی کے عذاب سے ہر ایک کو ڈرنا چاہئے:
یہ آیت تو کافروں کے بارے میں نازل ہوئی لیکن بہرحال دنیا میں تو ہر آدمی کو اللہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب سے ڈرنا چاہیے یہی وجہ ہے قیامت کی ہولناکی اور عذابِ جہنم کی شدت کے پیشِ نظر ہمارے اَکابِر اَسلاف اور بزرگانِ دین بھی تمنا کرتے تھے کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔ امیرُ المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک بار پرندے کودیکھ کر ارشاد فرمایا: اے پرندے !کاش! میں تمہاری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔ امیرُ المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرمان ہے : میری تمناہے کہ میں ایک مینڈھا ہوتا جسے میرے اہلِ خانہ اپنے مہمانوں کے لئے ذبح کر دیتے۔ حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے :کاش! میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ امیرُ المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے: میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ مجھے وفات کے بعد نہ اٹھایا جائے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرمایا کرتے: کاش! ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔ امُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرمایا کرتیں : کاش! میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے کاش! میں راکھ ہوتا۔ (قوت القلوب، الفصل الثانی والثلاثون، شرح مقام الخوف ووصف الخائفین۔۔۔ الخ،۱ / ۴۵۹-۴۶۰، ملخصاً)
یہ کلمات ان ہستیوں کے ہیں جو زبانِ رسالت سے قطعی جنتی ہونے کی بشارت سے بہرہ مند ہوئے، جبکہ اب کے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ عمل نام کی کوئی چیز پلے نہیں اور بے حساب مغفرت کایقین دل میں سجائے بیٹھے ہیں۔ اے کاش! ہمیں بھی حقیقی معنوں میں ایمان پر خاتمے کی فکر، قبرو حشر کے پُر ہَول لمحات کی تیاری کی سوچ ، عذابِ جہنم سے ڈر اور جَبّار و قَہّار رب عَزَّوَجَلَّ کا خوف نصیب ہو جائے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْاؕ-وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا(۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے نہائے مگر مسافری میں اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں کو چھوا اور پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو بے شک اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع