دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

            اور کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والے کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(النساء:۹۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ جہنم ہے عرصہ دراز تک اس میں رہے گااور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

            اورمُرْتَدْ ہونے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ (بقرہ:۲۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہوجائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

(3)… خود کو ہلاک کرنے کی تیسری صورت خود کشی کرنا ہے۔ خود کشی بھی حرام ہے ۔حدیث شریف میں ہے: حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے اپنا گلا گھونٹا تو وہ جہنم کی آگ میں اپنا گلا گھونٹتا رہے گا اور جس نے خود کو نیزہ مارا وہ جہنم کی آگ میں خود کو نیزہ مارتا رہے گا۔(بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی قاتل النفس، ۴ / ۴۶۰، الحدیث: ۱۳۶۵)

            ان ہی سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’جو پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ نارِ دوزخ میں ہمیشہ گرتا رہے گا اور جو شخص زہر کھا کر خود کشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا۔ جس نے لوہے کے ہتھیار سے خود کشی کی تو دوزخ کی آگ میں وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ اس سے اپنے آپ کو ہمیشہ زخمی کرتا رہے گا۔(بخاری، کتاب الطب، باب شرب السمّ والدواء بہ۔۔۔ الخ، ۴ / ۴۳، الحدیث: ۵۷۷۸)

(4)…ایسا کام کرناجس کے نتیجے میں کام کرنے والا دنیا یا آخرت میں ہلاکت میں پڑجائے جیسے بھوک ہڑتال کرنا یا باطل طریقے سے مال کھانا وغیرہ۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مجھے غزوۂ ذاتُ السلاسل کے وقت ایک سرد رات میں احتلام ہو گیا، مجھے غسل کرنے کی صورت میں ( سردی سے) ہلاک ہونے کا خوف لاحق ہوا تو میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ لی۔ انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’ اے عمرو! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، تم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ا س حال میں نماز پڑھ لی کہ تم جنبی تھے۔ میں نے غسل نہ کرنے کا عذر بیان کیا اور عرض کی :میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا ہے:

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(النساء:۲۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔

            یہ سن کر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسکرا دئیے اور کچھ نہ فرمایا۔(ابو داؤد، کتاب الطہارۃ، باب اذا خاف الجنب البرد۔۔۔ الخ، ۱ / ۱۵۳، الحدیث: ۳۳۴)

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًاؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ  کو آسان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

{وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا:اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا ۔} یہاں ظلم و زیادتی کی قید اس لئے لگائی کہ جن صورتوں میں مومن کا قتل جائز ہے اس صورت میں قتل کرنا جرم نہیں جیسے مُرْتَد کو سزا میں یا قاتل کو قِصاص میں یا شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے میں یا ڈاکو کو مقابلے یا سزا میں یا باغیوں کو لڑائی میں قتل کرنا یہ سب حکومت کیلئے جائز ہے بلکہ حکومت کو اس کا حکم ہے۔ قتل کے بارے میں مزید تفصیل سورہ مائدہ کی متعدد آیات کے تحت آئے گی۔

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے دوسرے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔

{اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ:اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو ۔} اس سے پہلی آیات میں بعض کبیرہ گناہ کرنے پر وعید بیان کی گئی اور اس آیت میں کبیرہ گناہوں سے بچنے پر (صغیرہ گناہ بخشنے اور عزت کی جگہ داخل کرنے کا) وعدہ ذکر کیا گیا ہے۔ (البحر المحیط، النساء، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳ / ۲۴۳)

 کبیرہ گناہ کی تعریف اور تعداد:

             کبیرہ گناہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ گناہ جس کا مُرْتَکِب قرآن وسنت میں بیان کی گئی کسی خاص سخت وعید کا مستحق ہو۔(الزواجر، مقدمۃ فی تعریف الکبیرۃ، ۱ / ۱۲)

 کبیرہ گناہوں کی تعداد مختلف بیان کی گئی ہے چنانچہ 7، 10، 17، 40 اور 700 تک بیان کی گئی ہے۔

گناہوں سے متعلق3 احادیث:

(1)… حضرت ابو ثعلبہ خُشَنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کئے ہیں لہٰذا تم انہیں ہرگز ضائع نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں انہیں ہرگز ہلکا نہ جانو، کچھ حدیں قائم کی ہیں تم ہرگزان سے تجاوز نہ کرو، اور اس نے تم پر رحمت فرماتے ہوئے جان بوجھ کر کچھ چیزوں کے متعلق کچھ نہیں فرمایاتوان کی جستجونہ کرو۔ (دار قطنی، کتاب الرضاع، ۴ / ۲۱۷، الحدیث: ۴۳۵۰)

(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے، جب وہ اس گناہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن