دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

اسے نکاح کرنا ممنوع وناجائز ہے، اگر کرے گی تو گناہگار ہو گی۔ اگر اسے ان چیزوں کا خوف یقینی ہو تو اسے نکاح کرنا حرام قطعی ہے۔ جس عورت کو اپنے نفس سے ایسا خوف نہ ہو اسے اگر نکاح کی شدید حاجت ہے کہ نکاح کے بغیر مَعَاذَ اللہ گناہ میں مبتلاء ہو جانے کا ظنِ غالب ہے تو ایسی عورت کو نکاح کرنا واجب ہے اور اگر نکاح کے بغیر گناہ میں پڑنے کا یقین کلی ہو تو اس پر نکاح کرنا فرض ہے۔ اگر حاجت کی حالت اعتدال پر ہو یعنی نہ نکاح سے بالکل بے پروائی ہو، نہ اس شدت کا شوق ہو کہ نکاح کے بغیر گناہ میں پڑنے کا ظنِ غالب ہو تو ایسی حالت میں اس کے لئے نکاح کرنا سنت ہے جبکہ وہ اپنے آپ پر اس بات کا کافی اطمینان رکھتی ہو کہ ا س سے شوہر کی اطاعت ترک نہ ہوگی اور وہ شوہر کے حقوق اصلاً ضائع نہ کرے گی۔(فتاوی رضویہ، ۱۲ / ۲۹۱-۲۹۳، ملخصاً)

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لیے صاف بیان کردے اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتاوے اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے بیان کردے اور تمہیں تم سے پہلے لوگوں کے طریقے بتادے اور تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

{وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ:اور تمہیں تم سے پہلے لوگوں کے طریقے بتادے۔} اس سے مراد یہ ہے کہ ما قبل آیات میں تمہارے لئے جو عورتیں حرام یا حلال ہیں بیان ہوئیں یہی عورتیں پچھلی شریعتوں میں بھی اسی طرح حرام و حلال تھیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ تمہارے لئے جس کام میں بہتری ہے اللہ تعالیٰ وہ بیان کر دے جیسا کہ پہلے لوگوں سے بیان کیا تھا۔ (جمل، النساء، تحت الآیۃ: ۲۶، ۲ / ۴۱، خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱ / ۳۶۹، ملتقطاً) اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جو شرعی احکام قرآن یا حدیث میں تردید کے بغیر منقول ہوئے وہ ہمارے لئے بھی لائق عمل ہیں اور جوممانعت کے ساتھ نقل ہوئے ان پر ہمیں عمل جائز نہیں۔

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ- وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے اور جو لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت دور ہوجاؤ۔

{وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ:اور جو لوگ نفسانی خواہشات کی پیروی کررہے ہیں۔} شانِ نزول: یہود و نصاریٰ اور مجوسی بھائی اور بہن کی بیٹیوں سے نکاح حلال سمجھتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے ان سے نکاح کرنے کوحرام فرمایا تو وہ مسلمانوں سے کہنے لگے کہ جس طرح آپ خالہ اور پھوپھی کی بیٹی سے نکاح جائز سمجھتے ہو جبکہ خالہ اور پھوپھی تم پر حرام ہے اسی طرح تم بھائی اور بہن کی بیٹیوں سے بھی نکاح کرو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح زنا میں پڑ جاؤ۔ (مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۲۲۳،  تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۲۷، ۴ / ۵۴-۵۵، جلالین، النساء، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۷۵، ملتقطاً)

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْۚ-وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان:اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللہ چاہتا ہے کہ تم پرآسانی کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا ہے۔

{یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ:اللہ چاہتا ہے کہ تم پرآسانی کرے۔} اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر آسانی چاہتا ہے اسی لئے انہیں نرم احکام عطا فرماتا ہے اور کئی جگہ رخصتیں عطا فرماتا ہے، لوگوں کی طاقت کے مطابق ہی انہیں حکم دیتا ہے اور ان کے فطری تقاضوں کی رعایت فرماتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے اوراسی فطری کمزوری کا یہ نتیجہ ہے کہ مرد عورت کی طرف بڑی جلدی مائل ہو جاتا ہے، اس کے لئے عورت اور شہوت سے صبر دشوار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے مردوں کے لئے عورتوں سے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے نفع اٹھانے کی اجازت دی اور صرف ان عورتوں سے منع کیا جن سے نفع اٹھانے میں فسادِ عظیم اور بڑے نقصان کا خدشہ تھا۔ اسی لئے مُتقی، پرہیزگار اور گناہوں کا تقاضا اور موقع موجود ہونے کے باوجود گناہوں سے بچ رہنے والے اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں بڑے محبوب ہیں کہ انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کیلئے اپنی کمزوری کا مقابلہ کیا اور اپنی خواہشات کو پس پشت ڈالا۔ ترغیب کیلئے ایک ایسے ہی متقی بزرگ کا واقعہ پیشِ خدمت ہے:

مشک کی خوشبو میں بسے ہوئے بزرگ:

            بصرہ میں ایک بزرگ مِسکی یعنی ’’مشک کی خوشبو میں بسا ہوا ‘‘ کے نام سے مشہور تھے، کسی نے بَاِ صْرار اس خوشبو سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا ’’ میں کوئی خوشبو نہیں لگاتا، میرا قصہ بڑا عجیب ہے، میں بغدادِ معلیٰ کا رہنے والا ہوں ، جوانی میں بہت حسین وجمیل تھا اور صاحبِ شرم و حیاء بھی۔ ایک کپڑے والے کی دوکان پر میں نے ملازمت اختیار کی، ایک روز ایک بڑھیا آئی اور اس نے کچھ قیمتی کپڑے نکلوائے اور دوکاندار سے کہا: میں ان کپڑوں کو گھر لے جانا چاہتی ہوں ، اس نوجوان کو میرے ساتھ بھیج دیں ، جوکپڑے پسند آئیں گے وہ رکھ لیں گے پھر ان کی قیمت اور بقیہ کپڑے اس نوجوان کے ہاتھ بھیج دیں گے۔ چنانچہ مالک ِدکان کے کہنے پر میں بڑھیا کے ساتھ ہو لیا۔ وہ مجھے ایک عالیشان کوٹھی پر لے آئی اور مجھے ایک کمرے میں بٹھا دیا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان عورت کمرے میں داخل ہوئی اور اس نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا، پھر میرے قریب بیٹھ گئی، میں گھبرا کر نگاہیں نیچی کئے فورا ًوہاں سے ہٹ گیا مگر اس پر شہوت سوار تھی وہ میرے پیچھے پڑ گئی، میں نے بہت کہا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر ،وہ ہمیں دیکھ رہا ہے لیکن وہ میرے ساتھ منہ کالا کرنے پر مُصِرّ تھی۔ میرے ذہن میں اس گناہ سے بچنے کی ایک تجویز آئی تو میں نے اس سے کہا: مجھے بیتُ الْخَلاء جانے دو، اس نے اجازت دے دی۔ میں نے بیت الخلاء میں جا کر دل مضبوط کر کے وہاں کی نجاست اپنے ہاتھ منہ اور کپڑوں پر مل لی، اب جوں ہی باہر آیا تو میری عاشقہ گھبرا کر بھاگی اور کوٹھی میں ’’پاگل، پاگل‘‘ کا شور اٹھا۔ میں نے وہاں سے بھاگ کر ایک باغ میں پناہ لی، غسل کیا اور کپڑے پاک کر کے وہاں سے چل دیا۔ رات جب میں سویا تو خواب میں دیکھا کہ کوئی آیا ہے اور میرے چہرے اور لباس پر اپنا ہاتھ پھیر رہا ہے اور کہہ رہا ہے: مجھے جانتے ہو میں کون ہوں ؟سنو! میں جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام ہوں۔ جب میری آنکھ کھلی تو میرے سارے بدن اور لباس میں خوشبو آ رہی تھی جو آج تک قائم ہے اور یہ سب حضرت سیدنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کے ہاتھ کی برکت ہے۔(روض الریاحین،الحکایۃ السابعۃ عشرۃ بعد الاربع مائۃ، ص۳۳۴-۳۳۵)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن