دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

تمہیں دودھ پلایا اور دودھ (کے رشتے) سے تمہاری بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (جو اُن بیویوں سے ہوں ) جن سے تم ہم بستری کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان (بیویوں ) سے ہم بستری نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں اور تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں اور دو بہنوں کو اکٹھا کرنا (حرام ہے۔) البتہ جوپہلے گزر گیا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

 {حُرِّمَتْ  عَلَیْكُمْ  اُمَّهٰتُكُمْ:تم پر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں۔}نسب کی وجہ سے سات عورتیں حرام ہیں وہ یہ ہیں(1) ماں ، اسی طرح وہ عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعے سے نسب بنتا ہو یعنی دادیاں ونانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں۔ سوتیلی ماؤں کی حرمت کا ذکر پہلے ہو چکا۔ (2) بیٹی، پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں۔ (3) بہن (4) پھوپھی (5) خالہ (6) بھتیجی (7) بھانجی،  اس میں بھانجیاں ، بھتیجیاں اور ان کی اولاد بھی داخل ہے خلاصہ یہ ہے کہ اپنی اولاد اور اپنے اصول حرام ہیں۔ اس کی تصریح خود اسی آیت میں آگے آرہی ہے۔

{وَ  اُمَّهٰتُكُمُ  الّٰتِیْۤ  اَرْضَعْنَكُمْ:تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔}رضاعی رشتے دودھ کے رشتوں کو کہتے ہیں۔ رضاعی ماؤں اور رضاعی بہن بھائیوں سے بھی نکاح حرام ہے بلکہ رضاعی بھتیجے، بھانجے، خالہ، ماموں وغیرہ سب سے نکاح حرام ہے۔ حدیثِ مبارک میں فرمایا گیا کہ جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔(بخاری، کتاب الشہادات، باب الشہادۃ علی الانساب۔۔۔ الخ، ۲ / ۱۹۱، الحدیث: ۲۶۴۵)

{وَ  اُمَّهٰتُ  نِسَآىٕكُمْ: اور تمہاری بیویوں کی مائیں۔} چار طرح کی عورتیں مُصاہَرت کی وجہ سے حرام ہیں اور وہ یہ ہیں (1) وہ بیوی جس سے صحبت کی گئی ہو ا س کی لڑکیاں۔ (2) بیوی کی ماں ، دادیاں ، نانیاں۔ (3) باپ داد ا وغیرہ ا صول کی بیویاں۔ (4) بیٹے پوتے وغیرہ فروع کی بیویاں۔

{وَ  رَبَآىٕبُكُمْ:اور تمہاری سوتیلی بیٹیاں۔} جن بیویوں سے صحبت کر لی ہو ان کی دوسرے شوہر سے جو بیٹی ہو اس سے نکاح حرام ہے اگرچہ وہ شوہر کی پرورش میں نہ ہو کیونکہ پرورش کی قید اتفاقی ہے مگر یہ سوتیلی لڑکی صرف شوہر کیلئے حرام ہے، شوہر کی اولاد کے لئے حلال اور شوہر کیلئے بھی جب حرام ہے جبکہ بیوی سے صحبت کر لی ہواور اگر بغیر صحبت طلاق دی یا وہ فوت ہو گئی تو اس کی بیٹی حلال ہے۔

{وَ  حَلَآىٕلُ  اَبْنَآىٕكُمْ:تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں۔}اس سے معلوم ہوا کہ منہ بولے بیٹوں کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی بیٹے کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بھی بیٹوں میں داخل ہیں۔

{وَ  اَنْ  تَجْمَعُوْا  بَیْنَ  الْاُخْتَیْنِ:اور دو بہنوں کو اکٹھاکرنا۔} یعنی ایک بہن نکاح میں موجود ہے اور دوسری سے نکاح کرلینا، یہ حرام ہے اور حدیث شریف میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی کونکاح میں جمع کرنا بھی حرام فرمایا گیا ہے۔ (بخاری، کتاب النکاح، باب لا تنکح المرأۃ علی عمّتہا، ۳ / ۴۳۵، الحدیث: ۵۱۰۹)

                 نوٹ تفصیلی معلومات کے لئے فتاوی رضویہ جلد نمبر 11سے اور بہار شریعت حصہ 7سے’’محرمات کا بیان ‘‘پڑھئے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن