30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ لو گے۔
{وَ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا:اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو۔} چونکہ عورتوں کے حقوق کا بیان چل رہا ہے۔ یہاں مزید ان کے حقوق بیان فرمائے گئے ہیں ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارا ارادہ بیوی کو چھوڑنے کا ہو تو مہر کی صورت میں جومال تم اسے دے چکے ہو تواس میں سے کچھ واپس نہ لو ۔ا ہلِ عرب میں یہ بھی طریقہ تھا کہ اپنی بیوی کے علاوہ کوئی دوسری عورت انہیں پسند آجاتی تو ا پنی بیوی پر جھوٹی تہمت لگاتے تاکہ وہ اس سے پریشان ہو کر جو کچھ لے چکی ہے واپس کردے اور طلاق حاصل کر لے۔(بیضاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۲۰، ۲ / ۱۶۳)
اسی کو فرمایا کہ کیا تم بہتان اور گناہ کے ذریعے ان سے مال لینا چاہتے ہو، یہ حرام ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 229کی تفسیر میں وضاحت سے ہم خُلع اور دیگر صورتوں میں مال لینے اور نہ لینے کی صورتیں بیان کرچکے ہیں۔ اس کا مطالعہ بھی یہاں کرلینا چاہیے۔
اس آیت میں ڈھیروں مال دینے کا تذکرہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ مہر مقرر کرنا جائز ہے اگرچہ بہتر کم مہر ہے یا اتنا مہر کہ جس کی ادائیگی آسان ہو۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ برسر منبر فرمایا: عورت کے مہر زیادہ مقرر نہ کرو۔ ایک عورت نے یہی آیت پڑھ کر کہا : اے امیر المؤمنین! اللہ ہمیں دیتا ہے اور تم منع کرتے ہو۔ اس پر حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا اے عمر! تم سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے، (اے لوگو!) تم جو چاہو مہر مقرر کرو۔ (مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۲۰، ص۲۱۹)
سُبْحَانَ اللہ! حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شانِ انصاف اور طہارت ِنفس کس قدر اعلیٰ تھی، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا(۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کیوں کر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم وہ (مال) کیسے واپس لے سکتے ہو حالانکہ تم (تنہائی میں ) ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور وہ تم سے مضبوط عہد (بھی) لے چکی ہیں۔
{وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ :اور تم وہ (مال) کیسے واپس لے سکتے ہو۔} مہر کی واپسی کا بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا تم وہ مال عورتوں سے کیسے واپس لے سکتے ہو حالانکہ تم تنہائی میں ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور وہ تم سے مضبوط عہد بھی لے چکی ہیں۔ وہ عہد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشا دہے:
فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ (بقرہ: ۲۲۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کہ اچھے طریقے سے انہیں رکھو گے اور اگرچھوڑو گے تو اچھے طریقے سے چھوڑو گے۔
خَلْوَتِ صحیحہ کی تعریف اور ا س کا حکم:
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خلوتِ صحیحہ ہو جانے سے پور امہر دینا پڑتا ہے۔ خلوتِ صحیحہ یہ ہے کہ میاں بیوی کسی ایسی جگہ جمع ہو جائیں جہاں ہم بستری کرنے سے کوئی چیز رکاوٹ نہ ہو۔ اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لئے بہار شریعت حصہ 7کا مطالعہ کیجئے۔
وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًاؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠(۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرومگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی اور غضب کا کام ہے اور بہت بری راہ ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنے باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کروالبتہ جو پہلے ہوچکا (وہ معاف ہے۔) بیشک یہ بے حیائی اور غضب کا سبب ہے، اور یہ بہت برا راستہ ہے۔
{ وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ: اور اپنے باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو۔} زما نہ ٔجاہلیت میں رواج تھا کہ باپ کے انتقال کے بعد بیٹا اپنی سگی ماں کو چھوڑ کر باپ کی دوسری بیوی سے شادی کر لیتا تھا، اس آیت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا۔(تفسیر قرطبی، النساء، تحت الآیۃ: ۲۲، ۳ / ۷۳، الجزء الخامس)
یہاں اگر نکاح سے مراد عَقدِ نکاح ہے تو معلوم ہوا کہ سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے اگرچہ باپ نے خلوت سے پہلے اسے طلاق دے دی ہو اور اگر نکاح سے مراد صحبت ہے تو معلوم ہوا کہ جس عورت سے اپنا باپ صحبت کرے خواہ نکاح کر کے یا زنا کی صورت میں یا لونڈی بنا کر بہر صورت وہ عورت بیٹے پر حرام ہے کیونکہ یہ بیٹے کی ماں کی طرح ہے۔
{مَا قَدْ سَلَفَ:جو ہو گزرا۔} یعنی جاہلیت کے زمانہ میں تم نے جو ایسے نکاح کر لئے اور اب وہ عورتیں مر بھی چکیں تم پر اس کا گناہ نہیں کیونکہ وہ گناہ قانون بننے سے پہلے تھے۔ یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ اگر مجوسی اسلام لائے اور اس کے نکاح میں اپنی ماں یا بہن ہے تو اسے چھوڑ دینا فرض ہے لیکن اس نے زمانہ کفر میں جو نکاح کئے ہوں ، ان سے جو اولاد ہو چکی ہو وہ اولاد حلالی ہو گئی، کیونکہ کفار پر اس طرح کے شرعی احکام جاری نہیں۔
حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘-وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ- وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ(۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں ا ور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم پر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع