30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھوڑ دو ۔اس سے معلوم ہوا کہ تعزیر کا مستحق مجرم اگر تعزیر سے پہلے صحیح معنی میں توبہ کر لے تو ا س پر خواہ مخواہ تعزیر لگانا ضروری نہیں۔
توبہ کے معنی ہوتے ہیں رجوع کرنا، لوٹنا۔ اگر یہ بندے کی صفت ہو تو معنی ہوں گے گناہ یا ارادہ ِگناہ سے رجوع کرنااور اگر رب تعالیٰ کی صفت ہو تو معنی ہوں گے بندے کی توبہ قبول فرمانا یا اپنی رحمت کو بندے کی طرف متوجہ کرنا۔
اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓىٕكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی ہی دیر میں توبہ کرلیں ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
{ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ:پھر تھوڑی دیر میں توبہ کر لیں۔} اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہے کہ گناہ کے بعد توبہ کرنے پر معاف فرما دیتا ہے اور موت کے وقت تک توبہ قبول فرماتا ہے ۔ یہاں فرمایا گیا کہ جو گناہ کرکے تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں تو یہاں تھوڑی دیر سے مراد ایک آدھ گھنٹا یا دو چار سال نہیں بلکہ موت سے پہلے جب بھی توبہ کرلی وہ قریب ہی شمار ہوگی ۔ ہاں جب موت کا عالَم طاری ہوجائے اور غیب کا معاملہ ظاہر ہوجائے تو اس وقت توبہ مقبول نہیں۔
{وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا:اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔} اسلام میں توبہ کا قانون بنانا عین حکمت و علم پر مَبنی ہے ۔ جن دینوں میں توبہ نہیں ان کے ماننے والے گناہ پر زیادہ دلیر ہوتے ہیں کیونکہ مایوسی جرم پر دلیر کر دیتی ہے اور معافی کی امید توبہ پر ابھارتی ہے۔ جس شخص کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ہو اسے سب سے جدا قید میں رکھا جاتا ہے تا کہ کسی اور کو قتل نہ کر دے کیونکہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوچکا ہے اور جسے ایک مقررہ مدت تک سزا کے بعد رہائی کا حکم ہو اسے دیگر مجرموں کے ساتھ قید میں رکھا جاتا ہے، اس سے یہ خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ اسے رہائی کی امید ہے۔[1]
وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِۚ-حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْـٰٔنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان لوگوں کی توبہ نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہنے لگے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان لوگوں کی (کوئی توبہ ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔
{وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ:اور توبہ قبول نہیں۔} اوپر والی آیت میں توبہ کی قبولیت کا جووعدہ گزرا اس کی وضاحت کردی گئی ، اب ان افراد کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ جن کی توبہ قبول نہ ہو گی۔ آیت میں ’’سَیِّاٰت ‘‘سے مراد گناہ ہوں تو معنی یہ ہو گا کہ جو لوگ کفر کے علاوہ دیگر گناہوں میں مُلَوَّث رہے جب موت کے آثار ظاہر ہوئے، عذاباتِ الہٰی کا مشاہدہ کر لیا اور روح حلق تک آپہنچی، اب توبہ کریں تو مقبول نہیں لیکن یہ وقت آنے سے ایک لمحہ پہلے بھی اگر توبہ کر لی تو قبول ہے اور اگر ان مسلمانوں کی توبہ مقبول نہ بھی ہو تب بھی وہ افراد ہمیشہ جہنم میں نہ رہیں گے اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں بخش دے، چاہے تو سزا دے لیکن سزا پوری ہونے کے بعد جنت میں جائیں گے البتہ وہ لوگ جو کافر مرے قیامت کے دن ان کی توبہ قبول نہیں یعنی کسی صورت نجات نہ پائیں گے، ہمیشہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ آیت میں ’’سَیِّاٰت ‘‘ سے مراد کفر ہے ،اس صورت معنی یہ ہو گا کہ وہ کفار جو موت کے آثار دیکھ کر یعنی غیب کا مشاہدہ کرنے کے بعد اپنے کفر سے توبہ کریں اور اپنے ایمان کا اقرار کریں تو ان کی یہ توبہ اور اقرارِ ایمان قابل قبول نہیں ، ایسی توبہ تو فرعون نے بھی کی تھی یونہی وہ لوگ جو حالت کفر میں مر گئے یعنی بوقت موت بھی توبہ نہ کی تو وہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی سزا پائیں گے۔(تفسیر قرطبی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳ / ۶۶، الجزء الخامس، تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۱۸، ۴ / ۸، ملتقطاً)
کافر کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا شرعی حکم:
جو کسی کافر کے لئے ا س کے مرنے کے بعد اس کے کفر کا علم ہونے کی صورت میں دعائے مغفرت کرے یا کسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور کہے یا کسی مرے ہوئے ہندو کو بیکنٹھ باشی (یعنی جنتی) کہے وہ خود کافر ہے۔(بہار شریعت، حصہ اول، ایمان وکفر کا بیان، ۱ / ۱۸۵)
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ( توبہ: ۱۱۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:نبی اور ایمان والوں کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان کے لئے واضح ہوچکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًاؕ-وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍۚ-وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ-فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا(۱۹)
[1] …توبہ کی ترغیب اورفضائل واحکام وغیرہ جاننے کے لئے کتاب’’ توبہ کی روایات وحکایات ‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کیجئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع