30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس نے ماں باپ اور اولاد (میں سے ) کوئی نہ چھوڑا اور (صرف) ماں کی طرف سے اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہوگا پھر اگر وہ (ماں کی طرف والے) بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہوں گے (یہ دونوں صورتیں بھی) میت کی اس وصیت اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد ہوں گی جس (وصیت) میں اس نے (ورثاء کو) نقصان نہ پہنچایا ہو ۔یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے اور اللہ بڑے علم والا، بڑے حلم والا ہے۔
{یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ:اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے۔} وراثت کے احکام میں کافی تفصیل ہے، انہیں جب تک باقاعدہ کسی کے پاس بیٹھ کر مشق کے ذریعے حل نہ کیا جائے تب تک سمجھنا مشکل ہے اس لئے انہیں سمجھنے کیلئے باقاعدہ کسی علم میراث کے عالم کے پاس بیٹھ کر سمجھیں۔ یہاں آیات مبارکہ کی تفسیر کے پیشِ نظر آیات میں مذکور ورثاء کی مکمل صورتیں تحریر کردی ہیں۔ انہیں دیکھ لیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہاں بیان کردہ حصوں کے ساتھ بہت سے اصولو قواعد کو ملا کر میراث کا مسئلہ حل کیا جاتا ہے لہٰذا مزید تفصیلات کیلئے میراث کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ نیز یہاں تفسیر میں تمام ورثاء کے حالات بیان نہیں کئے گئے بلکہ صرف ان کے بیان کئے ہیں جن کی صورت یہاں آیات میں مذکور ہے۔
ورثا میں وراثت کا مال تقسیم کرنے کی صورتیں :
(1)… باپ کی تین صورتیں ہیں :(۱) اگرمیت کاباپ ہو اور ساتھ میں بیٹا بھی ہو تو باپ کو 6 / 1 ایک بٹا چھ ملے گا۔ (۲) اگرمیت کاباپ ہو اور ساتھ میں بیٹا نہ ہوبلکہ صرف بیٹی ہوتو باپ کو 6 / 1ایک بٹاچھ ملے گا اور بقیہ ورثاء کو دینے کے بعد اگرکچھ بچ جائے تووہ باپ کو بطورِ عَصبہ کے ملے گا۔ (۳) اگرمیت کاباپ ہو اور ساتھ میں نہ کوئی بیٹا ہو اور نہ کوئی بیٹی ہو تو باپ کوبطور عصبہ کے ملے گا۔
(2)…ماں شریک بھائی کی تین صورتیں ہیں : (۱)اَخیافی بھائی اگر ایک ہو تو اخیافی بھائی کو 6 / 1 ایک بٹا چھ ملے گا۔ (۲) اخیافی بھائی اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں خواہ بھائی ہو یا بہنیں یا دونوں مل کر توانہیں3 / 1 ایک بٹا تین ملے گا۔ (۳) باپ، دادا، بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی کے ہوتے ہوئے اخیافی بھائی محروم ہوجائے گا۔ اسی طرح اخیافی بہن کے بھی یہی تین احوال ہیں۔
(3)…شوہرکی دوصورتیں ہیں : (۱)اگرفوت ہونے والی کی اولاد ہے تو شوہر کو 4 / 1 ایک بٹا چار ملے گا۔ (۲) اگر فوت ہونے والی کی اولاد نہیں تو شوہر کو2 / 1 ایک بٹا دوملے گا۔
(4)… بیوی کی دو صورتیں ہیں : (۱) اگر فوت ہونے والے کی اولاد ہے توبیوی کو 8 / 1 ایک بٹا آٹھ ملے گا۔ (۲) اگر فوت ہونے والے کی اولاد نہیں ہے تو بیوی کو 4 / 1 ایک بٹا چار ملے گا۔
(5)… بیٹی کی تین صورتیں ہیں : (۱) اگر بیٹی ایک ہو تو 2 / 1 ایک بٹا دو یعنی آدھا مال ملے گا۔ (۲) اگر دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں توان کو3 / 2 دو بٹا تین ملے گا۔ (۳) اگربیٹیوں کے ساتھ بیٹابھی ہوتوبیٹیاں عصبہ بن جائیں گی اور لڑکے کولڑکی سے دوگنا دیا جائے گا۔
(6)…ماں کی تین صورتیں ہیں : (۱) اگر میت کا بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی یاکسی بھی قسم کے دوبہن بھائی ہوں تو ماں کوکل مال کا 6 / 1 ایک بٹا چھ ملے گا۔ (۲) اگر میت کا بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی کوئی نہ ہو اور بہن بھائیوں میں سے دو افراد نہ ہوں خواہ ایک ہو تو ماں کوکل مال کا3 / 1 ایک بٹاتین ملے گا۔ (۳) اگر میت نے بیوی اورماں باپ یا شوہر اور ماں باپ چھوڑے ہوں توبیوی یا شوہر کواس کاحصہ دینے کے بعد جو مال باقی بچے ا س کا3 / 1 ایک بٹا تین ماں کودیا جائے گا۔
(1)… بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملتا ہے اور جہاں بھائی عصبہ بنتے ہوں وہاں انہیں بہنوں سے دگنا ملتا ہے اور کئی جگہ بہنیں بھی عصبہ بن جاتی ہیں اور اصحابِ فرائض کو دینے کے بعد بقیہ سارا مال لے لیتی ہیں۔
(2)… ایک اور اہم قاعدہ ہے کہ قریبی کے ہوتے ہوئے دور والا محروم ہوجاتا ہے جیسے بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتا، باپ کے ہوتے ہوئے دادا، بھائی کے ہوتے ہوئے بھائی کی اولاد وغیرہ۔
تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۳)وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا ۪- وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠(۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے تو اللہ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی (تمام) حدوں سے گزر جائے تو اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں (وہ) ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسوا کُن عذاب ہے۔
{تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ: یہ اللہ کی حدیں ہیں۔} وراثت کے مسائل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حدود قرار دیا اور ان کے توڑنے کو اللہ کی حدیں توڑنا قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ میراث کی تقسیم میں ظلم کرنا عذابِ الہٰی کا باعث ہے۔ اس سے ان مسلمانوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو لڑکیوں یا دوسرے وارثوں کو وراثت سے محروم کرتے ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے’’ جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جنت میں ا س کے حصے سے محروم کر دے گا۔(ابن ماجہ، کتاب الوصایا، باب الحیف فی الوصیۃ، ۳ / ۳۰۴، الحدیث: ۲۷۰۳)
{وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ:اور جو اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے تو اللہ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا۔} اِس آیت میں سیدُ المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت پر جنت کا وعدہ ہے اور اگلی آیت میں حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی پر جہنم کی وعید ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اطاعت فرض ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی حرام ہے۔ نیز کسی بھی حد ِ شرعی کو توڑنا حرام ہے لیکن تمام حدود کو توڑنے والا کافر ہی ہے یعنی جو ایمان کی حد بھی توڑ دیتا ہے اور اگلی آیتوں میں یہی مراد ہے کیونکہ وہاں نافرمان کیلئے ہمیشہ جہنم میں داخلے کی وعید ہے اور جہنم میں ہمیشہ کافر ہی رہے گا مسلمان نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع