30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وراثت تقسیم کرنے سے پہلے غیر وارثوں کو دینا :
اس آیت میں غیر وارثوں کو وراثت کے مال میں سے کچھ دینے کا جوحکم دیا گیا ہے، یہ دینا مستحب ہے ۔ امام محمد بن سیرین رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے حضرت عبیدہ سلمانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے میراث تقسیم کی تو اسی آیت پر عمل کرتے ہوئے ایک بکری ذبح کروا کر کھانا پکوایا پھر یتیموں میں تقسیم کر دیا اور کہا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں یہ سب خرچہ اپنے مال سے کرتا۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۸، ۱ / ۳۴۸)
تفسیر قرطبی میں یوں ہے کہ’’ یہ عمل عبیدہ سلمانی اور امام محمد بن سیرین رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما دونوں نے کیا۔ (قرطبی، النساء، تحت الآیۃ: ۸، ۳ / ۳۶، الجزء الخامس)
در منثور میں ایک روایت یہ ہے کہ’’حضرت عبد الرحمٰن بن ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے جب اپنے والد کی میراث تقسیم کی تو اُسی مال سے ایک بکری ذبح کروا کر کھانا پکوایا، جب یہ بات حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کی بارگاہ میں عرض کی گئی تو انہوں نے فرمایا: عبد الرحمٰن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے قرآن پر عمل کیا۔ (در منثور، النساء، تحت الآیۃ: ۸، ۲ / ۴۴۰)
اس مستحب حکم پر یوں بھی عمل ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات کوئی بیٹا یتیم بچے چھوڑ کر فوت ہوجاتا ہے اور اس کے بعد باپ کا انتقال ہوتا ہے تو وہ یتیم بچے چونکہ پوتے بنتے ہیں اور چچا یعنی فوت ہونے والے کا دوسرا بیٹا موجود ہونے کی وجہ سے یہ پوتے داد ا کی میراث سے محروم ہوتے ہیں تو دادا کو چاہیے کہ ایسے پوتوں کو وصیت کر کے مال کا مستحق بنا دے اور اگر دادا نے ایسا نہ کیا ہو تو وارثوں کو چاہیے کہ اوپر والے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے حصہ میں سے اسے کچھ دے دیں۔ اس حکم پر عمل کرنے میں مسلمانوں میں بہت سستی پائی جاتی ہے بلکہ اس حکم کا علم ہی نہیں ہوتا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نابالغ اور غیر موجود وارث کے حصہ میں سے دینے کی اجازت نہیں۔
وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ ۪- فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا(۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ڈریں وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتوان اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ لوگ ڈریں جو اگر اپنے پیچھے کمزور اولاد چھوڑ تے تو ان کے بارے میں کیسے اندیشوں کا شکار ہوتے۔ تو انہیں چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور درست بات کہیں۔
{وَ لْیَخْشَ: اور چاہیے کہ ڈریں۔} یتیموں کے سرپرستوں کو فرمایا جارہا ہے کہ وہ یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اوراُن کی یہ سمجھ کر پرورش کریں کہ اگر ہمارے بچے یتیم رہ جائیں اور کوئی دوسرا ان کی پرورش کرے تو وہ کیسی پرورش چاہتے ہیں ، تو ایسی ہی پرورش وہ دوسرے کے یتیموں کی کریں۔ یہ آیتِ کریمہ اخلاق کی بہترین تعلیم ہے ۔ ہمیشہ دوسرے کے ساتھ وہ معاملہ کرنا چاہیے جو اپنے ساتھ پسند ہے اورجو اپنے لئے پسند نہ ہو وہ دوسروں کے لئے بھی پسند نہیں ہونا چاہیے۔ حدیث ِ مبارک میں بھی فرمایا گیا کہ تم میں کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کیلئے وہ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحبّ لاخیہ۔۔۔ الخ، ۱ / ۱۶، الحدیث: ۱۳)
لہٰذا یتیموں کے سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان سے اچھی اور صحیح بات کہیں مثلاً یہ کہ تم فکر نہ کرو ہم بھی تمہارے باپ جیسے ہیں ، تمہیں پریشانی نہیں آنے دیں گے۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۹، ۱ / ۳۴۹، مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۹، ص۲۱۲، ملتقطاً)
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آ گ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آگ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا:بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں۔} اس سے پہلی آیات میں یتیموں کا مال ناحق کھانے سے منع کیا گیا اور ا س آیت میں یتیموں کا مال ناحق کھانے پر سخت وعید بیان کی گئی ہے اور یہ سب یتیموں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کیونکہ وہ انتہائی کمزور اور عاجز ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے مزید لطف و کرم کے حقدارتھے۔اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا گیا کہ’’ وہ اپنے پیٹ میں بالکل آ گ بھرتے ہیں ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ یتیموں کا مال ناحق کھانا گویا آگ کھانا ہے کیونکہ یہ مال کھانا جہنم کی آگ کے عذاب کا سبب ہے۔(تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰، ۳ / ۵۰۶)
یتیموں کا مال ناحق کھانے کی وعیدیں :
احادیثِ مبارکہ میں بھی یتیموں کا مال ناحق کھانے پر کثیر وعیدیں بیان کی گئی ہیں ،ان میں سے 3وعیدیں درج ذیل ہیں:
(1)…حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن ایک قوم اپنی قبروں سے اس طرح اٹھائی جائے گی کہ ان کے مونہوں سے آگ نکل رہی ہو گی۔عرض کی گئی: یا رسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ کون لوگ ہوں گے؟ ارشاد فرمایا ’’کیا تم نے اللہتعالیٰ کے اس فرمان کو نہیں دیکھا ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا‘‘ بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آ گ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔(کنز العمال، کتاب البیوع، قسم الاقوال، ۲ / ۹، الجزء الرابع، الحدیث: ۹۲۷۹)
(2)… حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ میں نے معراج کی رات ایسی قوم دیکھی جن کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں کی طرح تھے اور ان پر ایسے لوگ مقرر تھے جو ان کے ہونٹوں کو پکڑتے پھر ان کے مونہوں میں آگ کے پتھر ڈالتے جو ان کے پیچھے سے نکل جاتے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! عَلَیْہِ السَّلَام، یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کی: ’’یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کامال ظلم سے کھاتے تھے۔ (تہذیب الآثار، مسند عبد اللہ بن عباس، السفر الاول، ذکر من روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ رأی، ۲ / ۴۶۷، الحدیث: ۷۲۵)
(3)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ چارشخص ایسے ہیں جنہیں جنت میں داخل نہ کرنا اور اس کی نعمتیں نہ چکھانا اللہ تعالیٰ پر حق ہے۔ (1) شراب کا عادی۔ (2) سود کھانے والا۔ (3) ناحق یتیم کا مال کھانے والا۔ (4) والدین کا نافرمان۔(مستدرک، کتاب البیوع، انّ اربی الربا عرض الرجل المسلم، ۲ / ۳۳۸، الحدیث: ۲۳۰۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع