اسلامی سرحد کی نگہبانی کرنے کے فضائل
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی نہیں کی بلکہ میں نے تو اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی کی ہے تاکہ مجھے یہاں گلے پر تیر لگے اور میں شہید ہو کر جنت میں داخل ہوجاؤں۔حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اگر تم (اپنی بات میں مخلص اور) سچے ہوتو اللہتعالیٰ تمہاری یہ خواہش ضرورپوری فرمائے گا۔اس کے بعد لوگ کچھ دیر کے لئے ٹھہرے رہے، پھر دشمن کے ساتھ جہاد کے لئے اٹھے تو(جہاد کے دوران) کچھ آدمی اُس اعرابی کو اِس حال میں سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں لائے کہا اسے وہیں تیر لگا ہو اتھا جہاں تیر لگنے کااس نے اشارہ کیا تھا۔حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا یہ وہی شخص ہے ؟عرض کیا گیا: جی ہاں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا’’ یہ اپنی بات میں مخلص تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش پوری فرمادی۔حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے(برکت کے لئے ) اسے اپنے جبہ مبارکہ میں کفن دیا ،پھر اسے اپنے سامنے رکھا اور اس کا جنازہ پڑھایا۔اس کی نماز جنازہ میں جو دعا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمائی وہ یہ تھی:

’’اَللّٰھُمَّ ھَذَاعَبْدُکَ خَرَجَ مُھَاجِرًا فِیْ سَبِیْلِکَ فَقُتِلَ شَھِیْدًااَنَاشَھِیْدٌ عَلٰی ذٰلِک‘‘

اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، یہ تیرا وہی بندہ ہے جس نے تیری راہ میں ہجرت کی اور شہید ہوگیا اور میں اس چیز کا گواہ ہوں۔(نسائی، کتاب الجنائز، الصلاۃ علی الشہداء، ص۳۳۰، الحدیث: ۱۹۵۰)

لَا  یَغُرَّنَّكَ  تَقَلُّبُ  الَّذِیْنَ  كَفَرُوْا  فِی  الْبِلَادِؕ(۱۹۶) مَتَاعٌ  قَلِیْلٌ-  ثُمَّ  مَاْوٰىهُمْ  جَهَنَّمُؕ-وَ  بِئْسَ   الْمِهَادُ(۱۹۷)

ترجمۂ کنزالایمان:اے سننے والے کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے۔تھوڑا برتناہے پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کیا ہی برا بچھونا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اے مخاطب! کافروں کا شہروں میں چلنا پھرناہرگز تجھے دھوکا نہ دے ۔ (یہ تو زندگی گزارنے کا ) تھوڑا سا سامان ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

{لَا  یَغُرَّنَّكَ: تجھے ہرگز دھوکہ نہ دے۔ }شانِ نزول: مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا کہ کفار ومشرکین اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن ہیں لیکن یہ تو عیش و آرام میں ہیں اور ہم تنگی او رمشقت میں مبتلا ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(بیضاوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۶،۲ / ۱۳۵)

            اور انہیں بتایا گیا کفار کا یہ عیش و آرام دنیوی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے جبکہ ان کا انجام بہت برا ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ کسی کو کہا جائے بھائی آپ دس منٹ دھوپ میں کھڑے ہوجائیں ، اس کے بعداُسے ہمیشہ کیلئے ائیر کنڈیشنڈ بنگلہ دیدیا جائے اور دوسرے شخص کو دس منٹ سائے دار درخت کے نیچے بٹھا نے کے بعد ہمیشہ کیلئے تپتے ہوئے صحرا میں رکھا جائے تو دونوں میں فائدے میں کون رہا؟ یقیناً پہلے والا ۔ مسلمان کی حالت پہلے شخص کی طرح بلکہ اس سے بھی بہتر ہے اور کافروں کی حالت دوسرے شخص سے بھی بدتر ہے۔

لٰكِنِ  الَّذِیْنَ  اتَّقَوْا  رَبَّهُمْ  لَهُمْ  جَنّٰتٌ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُ  خٰلِدِیْنَ  فِیْهَا  نُزُلًا  مِّنْ  عِنْدِ  اللّٰهِؕ-وَ  مَا  عِنْدَ  اللّٰهِ  خَیْرٌ  لِّلْاَبْرَارِ(۱۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ  کی طرف کی مہمانی اور جو اللہ  کے پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، ہمیشہ ان میں رہیں گے (یہ) اللہکی طرف سے مہمان نوازی کا سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے لئے بہترین چیز ہے ۔

{لَهُمْ  جَنّٰتٌ: ان کیلئے جنتیں ہیں۔ }کافروں کی دنیاوی ، عارضی اورفانی راحت و آرام کے ذکر کے بعد مسلمانوں کے آخرت کے دائمی، اَبدی راحت و آرام یعنی جنت کا بیان ہورہا ہے۔

دنیا کی راحتیں اور جنت کی ابدی نعمتیں کس کے لئے ہیں ؟:

            صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درِ رحمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سلطانِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَایک بوریئے پر آرام فرما رہے ہیں ، سرِ اقدس کے نیچے چمڑے کا تکیہ ہے جس میں ناریل کے ریشے بھرے ہوئے ہیں اور جسم مبارک پر بوریئے کے نشانات نقش ہو گئے ہیں۔ یہ حال دیکھ کر سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رو پڑے۔ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے رونے کا سبب دریافت کیا تو عرض کیا کہ’’ یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قیصر و کسریٰ تو عیش وآرام میں ہوں اور آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہو کر اس حالت میں۔ نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اے عمر! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب تبتغی مرضاۃ ازواجک۔۔۔ الخ، ۳ / ۳۵۹، الحدیث: ۴۹۱۳)

            حضرت جابر بنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ایک دن سرکارِ عالی وقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت فاطمۃُ الزہراء رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر تشریف لے گئے، آپ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا اونٹ کے بالوں سے بنا موٹا لباس پہنے چکی میں آٹا پیس رہی تھیں ، جب نَبِیُّوں کے سلطانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ان پر نظر پڑی تو آنکھوں سے سَیلِ اشک رواں ہو گیا ، رحمت عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’دنیا کی تنگی و سختی کا گھونٹ پی لوتاکہ جنت کی ابدی نعمتیں حاصل ہوں۔(احیاء علوم الدین، کتاب الفقر والزہد، بیان تفضیل الزہد فیما ہو من ضروریات الحیاۃ، ۴ / ۲۸۷)

            حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک مرتبہ پانی طلب فرمایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو شہد کا پیالہ پیش کیا گیا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس پیالے کو اپنے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا ’’اگر میں اسے پی لوں تو اس کی مٹھاس چلی جائے گی لیکن ا س کا حساب (میرے ذمے ) باقی رہے گا۔ آپ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی، پھر وہ پیالہ ایک شخص کو دے دیا اور ا س نے وہ شہد پی لیا۔ (اسد الغابہ، باب العین والمیم، عمر بن الخطاب، ۴ / ۱۶۷)

            حضرت ابن ابی ملیکہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے سامنے کھانا رکھا ہوا تھا ، اس دوران ایک غلام نے آ کر عرض کی : حضرت عتبہ بن ابی فرقد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدروازے پر کھڑے ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں اند رآنے کی اجازت دی۔جب حضرت عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آئے تو حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کھانے میں سے کچھ انہیں دیا۔ حضرت عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے کھایا تو وہ ایسا بد مزہ تھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسے نگل نہ سکے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : اے امیر المؤمنین!رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُُ، کیا آپ کو حواری نامی کھانے میں رغبت ہے (تاکہ آپ کی بارگاہ میں وہ کھاناپیش کیا جائے) ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’کیا وہ کھانا ہر مسلمان کو مُیَسَّر ہے ؟ حضرت عتبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: خدا کی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن