دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’میں نے حضرت میاں صاحب قبلہ قُدِّسَ سِرُّہٗ کو فرماتے سنا : ایک جگہ کوئی قبر کھل گئی اور مردہ نظر آنے لگا ۔ دیکھا کہ گلاب کی دو شاخیں اس کے بد ن سے لپٹی ہیں اور گلاب کے دو پھول اس کے نتھنو ں پر رکھے ہیں۔ اس کے عزیزوں نے اِس خیال سے کہ یہاں قبر پانی کے صدمہ سے کھل گئی، دو سری جگہ قبر کھود کر اس میں رکھیں ، اب جو دیکھیں تو دو اژدہے اس کے بدن سے لپٹے اپنے پھَنوں سے اس کا منہ بھَموڑ رہے ہیں ، حیران ہوئے ۔ کسی صاحبِ دل سے یہ واقعہ بیان کیا، انہوں نے فرمایا: وہاں بھی یہ اژدہا ہی تھے مگر ایک ولیُّ اللہ کے مزار کا قرب تھا اس کی برکت سے وہ عذاب رحمت ہوگیا تھا، وہ اژدھے درخت ِگُل کی شکل ہوگئے تھے اوران کے پھَن گلاب کے پھول۔ اِس کی خیریت چاہو تو وہیں لے جاکر دفن کرو ۔ وہیں لے جاکر رکھا پھروہی درختِ گل تھے اور وہی گلاب کے پھول ۔ (ملفوظات اعلیٰ حضرت، حصہ دوم، ص۲۷۰ )

فَاسْتَجَابَ  لَهُمْ  رَبُّهُمْ  اَنِّیْ  لَاۤ  اُضِیْعُ  عَمَلَ  عَامِلٍ  مِّنْكُمْ  مِّنْ  ذَكَرٍ  اَوْ  اُنْثٰىۚ-بَعْضُكُمْ  مِّنْۢ  بَعْضٍۚ-فَالَّذِیْنَ  هَاجَرُوْا  وَ  اُخْرِجُوْا  مِنْ  دِیَارِهِمْ  وَ  اُوْذُوْا  فِیْ  سَبِیْلِیْ  وَ  قٰتَلُوْا  وَ  قُتِلُوْا  لَاُكَفِّرَنَّ  عَنْهُمْ  سَیِّاٰتِهِمْ  وَ  لَاُدْخِلَنَّهُمْ  جَنّٰتٍ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا  مِّنْ  عِنْدِ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  عِنْدَهٗ  حُسْنُ  الثَّوَابِ(۱۹۵)

ترجمۂ کنزالایمان:تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اَکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہوتو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گئے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں اللہ کے پاس کا ثواب اوراللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو ان کے رب نے ان کی دعاقبول فرمالی کہ میں تم میں سے عمل کرنے والوں کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا وہ مرد ہو یا عورت ۔تم آپس میں ایک ہی ہو،پس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اور انہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ) اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔

{فَاسْتَجَابَ  لَهُمْ  رَبُّهُمْ: تو ان کے رب نے ان کی دعاقبول فرمالی۔}ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں وہ عطا کر دیا جو انہوں نے مانگا اور ان سے فرمایا کہ اے ایمان والو! میں تم میں سے کسی مرد یا عورت کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا بلکہ ا س عمل کا ثواب عطا فرماؤں گا۔     (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۱ / ۳۳۸)

دعا قبول ہونے کے لئے ایک عمل:

            یہاں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمالی۔اس کے بارے میں علماء کرام نے فرمایا ہے کہ یہاں دعا میں پانچ بار ’’رَبَّنَا‘‘ آیا ہے اور اس کے بعد دعا کی قبولیت کی بات ہورہی ہے، تو اگر دعا میں پانچ مرتبہ ’’یَا رَبَّنَا‘‘ کہہ دیا جائے تو قبولیت ِدعا کی امید ہے۔

{بَعْضُكُمْ  مِّنْۢ  بَعْضٍ:تم آپس میں ایک ہی ہو۔}اس کا ایک معنی یہ ہے کہ تم سب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرات حواء رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اولاد ہی ہو ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اطاعت پر ثواب ملنے اور نافرمانی پر سزا ملنے میں تم سب ایک ہی ہو ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۱ / ۳۳۸)

{فَالَّذِیْنَ  هَاجَرُوْا:پس جنہوں نے ہجرت کی۔ }ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں نے میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت کے لئے اپنے وطنوں سے ہجرت کی اور وہ مشرکوں کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں کے سبب اپنے ان گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے جہاں وہ پلے بڑھے تھے اور مجھ پر ایمان لانے اور میری وحدانیت کا اقرار کرنے کی وجہ سے انہیں مشرکوں کی طرف سے ستایا گیااورانہوں نے میری راہ میں کافروں کے ساتھ جہاد کیا اور شہیدکردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ یہ اللہ  تعالیٰ کی بارگاہ سے ان کے لئے اجر ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔ (روح البیان، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۹۵، ۲ / ۱۵۱)

ہجرت اور جہاد سے متعلق احادیث:

            اس آیت میں ہجرت اور جہاد کے ثواب کابیان ہوا اس مناسبت سے ہم یہاں ہجرت اور جہاد سے متعلق 3 احادیث ذکر کرتے ہیں ،چنانچہ

            حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اورہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ، تو جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ  تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف ہی ہے اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو تو اسی چیز کی طرف ہے جس کی جانب اس نے ہجرت کی۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب ما جاء انّ الاعمال بالنیۃ والحِسبۃ۔۔۔ الخ، ۱ / ۳۴، الحدیث: ۵۴)

                حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا’’ جسے راہِ خدا میں کوئی زخم آئے تو وہ قیامت کے دن ا س طرح آئے گا کہ ا س کے زخم سے سرخ رنگ کا خون بہہ رہا ہو گا اور اس کی خوشبو مشک جیسی ہو گی۔     (بخاری، کتاب الذبائح والصید۔۔۔ الخ، باب المسک، ۳ / ۵۶۶، الحدیث: ۵۵۳۳)

            حضرت شداد بن ہادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک اعرابی حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لایا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سامنے سر تسلیم خَم کیا، پھر عرض کی : میں ہجرت کر کے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ رہنا چاہتاہوں۔نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (اسے ہجرت کی اجازت عطا فرمائی اور )اپنے بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اس (کے رہن سہن وغیرہ کا انتظام کرنے ) کے بارے میں کچھ حکم فرمایا۔ جب ایک غزوہ میں نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو چند قیدی بطور غنیمت حاصل ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان قیدیوں کوتقسیم فرما دیا اور اس اعرابی کا حصہ نکال کر صحابۂ کرام رَضِی َاللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے سپرد کر دیا۔ وہ اعرابی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُان کے پیچھے پہرہ دیاکرتے تھے(تاکہ دشمن اچانک حملہ نہ کر دے) ۔ جب وہ (پہرے کی جگہ سے) آیا تو صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ا س کا حصہ اسے دیا۔اس نے عرض کی:یہ کیا ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے فرمایا’’ یہ تمہارا حصہ ہے ،جو نبیٔ  کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے عطافرمایا ہے۔وہ اعرابی اپنے حصے کو لے کر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگا ہ میں حاضرہوئے اور عرض کی ’’یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،یہ کیا ہے ؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا’’میں نے یہ تمہارا حصہ نکالا ہے ۔اس نے عرض کی ’’یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،میں نے مال کے حصول کے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن