30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۵۷)(مومن۵۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ۔
تو تمہیں حکم دیاگیاہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں غوروفکر کرو ۔آسمان کی نیلاہٹ اور ستاروں کی ٹمٹماہٹ کو دیکھ لینا غور نہیں کہ یہ تو جانور بھی کر لیتے ہیں بلکہ مقامِ افسوس تو یہ ہے کہ تو اپنے عجائب اور اپنی ذات کو جو تیرے پاس ہیں اور وہ زمین و آسمان کے عجائب کی بہ نسبت ایک ذرہ بھی نہیں جس کو تو پہچان سکتا تو پھر زمین و آسمان کے عجائب کو کیسے پہچان سکے گا۔ تجھے بَتَدریج معرفت کے درجات پر ترقی کرنی چاہئے۔تجھے پہلے اپنی ذات کو پہچاننا چاہئے ،پھر زمین اور ا س کی تمام اَشیاء کا عرفان حاصل کرنا چاہئے،پھر ہوا ،بادل وغیرہ کے عجائب کی پہچان کرنی چاہئے،پھر آسمان اور ستاروں کی معرفت حاصل کرنی چاہئے ، پھر کرسی اور عرش کو پہچاننا چاہئے،پھر عالَمِ اَجسام سے نکل کر عالمِ ارواح کی سیر کرنی چاہئے،پھر فرشتوں ، جنوں اور شیطانوں کو جاننا چاہئے ،پھر فرشتوں کے درجات اور مقامات کاعرفان حاصل کرنا چاہئے،آسمان اور ستاروں کی گردش، ان کی حرکت اور ان کے مَشارق و مَغارب کو دیکھنا چاہئے کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔ستاروں کی کثرت پر غور و فکرکرنا چاہئے۔ انہیں کوئی بھی شمار نہیں کر سکتا،ان میں ہر ستارے کا رنگ مختلف ہے،کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک کی شکل مختلف ہے مثلاً کچھ بیل کی شکل کے ہیں اور کچھ بچھو کی شکل کے۔پھر انسان ان کی مختلف حرکات پر غور کرے ، کئی ایک ماہ میں سارے آسمان کو طے کر جاتے ہیں۔کچھ سال بھر لگاتے ہیں ،کئی انہیں طے کرنے میں بارہ سال لگاتے ہیں ،کئی ستارے تیس سالوں میں سارے آسمانوں کی گردش پوری کرتے ہیں ،اکثر ستارے 30,000 سال میں سارے آسمانوں کی مساحت طے کرتے ہیں۔ جب تو نے زمین کے کچھ عجائبات کو جان لیا تو یہ بھی سمجھ لے کہ عجائبات کا فرق ہر ایک چیز کی شکل کے اختلاف کے مطابق ہوتا ہے ، کیونکہ زمین اگرچہ اتنی وسیع ہے کہ کوئی ا س کی حد کو نہیں چھو سکتا مگر سورج زمین سے بڑا ہے۔اس سے معلوم ہو جانا چاہئے کہ آفتاب کتنا دور ہے جو اتنا چھوٹا نظر آتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہو اکہ وہ کتنی تیزی سے حرکت کرتا ہے کہ آدھی ساعت میں آفتاب کا تمام گھیرا زمین سے نکلتا ہے ۔۔۔۔۔ یونہی آسمان پر ایک ستارہ ہے جو زمین سے سو گُنا بڑا ہے۔وہ بلندی کی وجہ سے چھوٹا نظر آتا ہے،ایک ستارہ اگر اتنا بڑا ہے تو سارے آسمان کا اندازہ لگائیں کہ وہ کتنا بڑا ہو گا۔ان سب کی عظمت و بزرگی کے باو جو د تیری نگاہوں میں چھوٹاکر دیا گیا تاکہ تو اس سے مالک ِحقیقی کی عظمت وفضیلت سے آگاہی حاصل کر سکے۔(کیمیائے سعادت، رکن چہارم، اصل ہفتم، ۲ / ۹۱۷-۹۱۸)
اَلَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(۱۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان: جواللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب!تو نے یہ سب بیکار نہیں بنایا۔ تو پاک ہے ، تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے ۔
{اَلَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ: وہ جواللہ کو یاد کرتے ہیں۔} یہاں عقلمند لوگوں کا بیان ہے کہ وہ ہیں کون؟ اور ان کے چند اہم کام بیان فرمائے گئے ہیں۔
(1)…عقلمند لوگ کھڑے، بیٹھے اور بستروں پر لیٹے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ مولیٰ کریم کی یاد ہر وقت ان کے دلوں پر چھائی رہتی ہے۔
(2)…عقلمند لوگ کائنات میں غوروفکر کرتے ہیں ، آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور کائنات کے دیگر عجائبات میں غور کرتے ہیں اور ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنا ہے۔
(3)…کائنات میں غور وفکر کے بعد اللہتعالیٰ کی عظمت ان پر آشکار ہوتی ہے اور ان کے دل اللہ عَزَّوَجَلَّکی عظمت کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی زبانیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت کے ترانے پڑھتی ہیں۔
(4)…اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں۔
مذکورہ بالا تمام چیزیں کاملُ الایمان لوگوں کے اوصاف ہیں ، ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہے ۔ ہمارے اَسلاف اللہ عَزَّوَجَلَّکی یاد میں بہت رَغبت رکھتے تھے، چنانچہ حضرت سری سقطی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِِ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جرجانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِِ کے پا س ستو دیکھے جس سے وہ بھوک مٹا لیتے تھے۔ میں نے کہا: آپ کھانا اور دوسری اشیا ء کیوں نہیں کھاتے ؟ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: میں نے چبانے اور یہ ستو کھا کر گزارہ کرنے میں نوے تسبیحات کا فرق پایا ہے، لہٰذا چالیس سال سے میں نے روٹی نہیں چبائی تا کہ ان تسبیحات کا وقت ضائع نہ ہو۔
حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا معمول یہ تھا کہ آپ با زار جاتے اور اپنی دکان کھول کر اس کے آگےپردہ ڈال دیتے اور چار سو رکعت نفل ادا کر کے دکان بند کر کے گھر واپس آ جاتے۔(مکاشفۃ القلوب، الباب الحادی عشر فی طاعۃ اللہ ومحبۃ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۳۸)
جس طرح کسی کی عظمت ، قدرت ، حکمت اور علم کی معرفت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ اس کی بنائی ہوئی چیز ہوتی ہے کہ اس میں غورو فکر کرنے سے یہ سب چیزیں آشکار ہو جاتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت، حکمت، وحدانیت اور ا س کے علم کی پہچان حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ اس کی پیدا کی ہوئی یہ کائنات ہے،اس میں موجود تما م چیزیں اپنے خالق کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی اور ا س کے جلال و کبریائی کی مُظہِر ہیں اور ان میں تفکر اور تَدَبُّر کرنے سے خالقِ کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کائنات میں موجود مختلف چیزوں جیسے انسانوں کی تخلیق،زمین و آسمان کی بناوٹ ، زمین کی پیداوار،ہوا اور بارش، سمندر میں کشتیوں کی روانی، زبانوں اور رنگوں کا اختلاف وغیرہ بے شمار اَشیاء میں غور وفکر کرنے کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع