30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بخل جہنم میں ایک درخت ہے، جو بخیل ہے اُس نے اس کی ٹہنی پکڑ لی ہے، وہ ٹہنی اُسے جہنم میں داخل کیے بغیر نہ چھوڑے گی۔ (شعب الایمان، الرابع و السبعون من شعب الایمان، ۷ / ۴۳۵، الحدیث: ۱۰۸۷۷)
بخل کا علاج یوں ممکن ہے کہ بخل کے اسباب پر غور کر کے انہیں دور کرنے کی کوشش کرے ،جیسے بخل کا بہت بڑا سبب مال کی محبت ہے ، مال سے محبت نفسانی خواہش اور لمبی عمر تک زندہ رہنے کی امید کی وجہ سے ہوتی ہے، اسے قناعت اور صبر کے ذریعے اور بکثر ت موت کی یادا ور دنیا سے جانے والوں کے حالات پر غور کر کے دور کرے ۔ یونہی بخل کی مذمت اور سخاوت کی فضیلت، حُبّ مال کی آفات پر مشتمل اَحادیث و روایات اور حکایات کا مطالعہ کر کے غورو فکر کرنا بھی اس مُہلِک مرض سے نجات حاصل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گا ۔ (کیمیائے سعادت، رکن سوم، اصل ششم، علاج بخل، ۲ / ۶۵۰-۶۵۱، ملخصاً)
لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُۘ-سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّۙ-وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ(۱۸۱)ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ(۱۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اللہنے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ نے ان کا قول سن لیا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اب ہم ان کی کہی ہوئی بات اور ان کا انبیاء کو ناحق شہید کرنا لکھ رکھیں گے اور کہیں گے: جلادینے والے عذاب کا مزہ چکھو۔یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے اور اللہبندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
{لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ: بیشک اللہ نے سن لیا۔ }اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ’’مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا‘‘ کہ کون ہے جو رب تعالیٰ کو اچھا قرض دے ،تو یہود یوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگ رہا ہے تو ہم غنی ہوئے اوراللہ تعالیٰ فقیر ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ اتری ۔ (تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۸۱، ۳ / ۴۴۶)
اور فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن گستاخوں کی بات سن لی ہے جنہوں نے کہا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اب ہم ان کے اعمال ناموں میں ان کی کہی ہوئی بات اور ان کے دوسرے کفریات جیسے ان کا انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کرنا لکھ رکھیں گے اورقیامت کے دن اِن کی اِن گستاخیوں کے بدلے میں کہیں گے کہ’’ اب جلا دینے والے عذاب کا مزہ چکھو ۔
انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی گستاخی اللہ تعالٰی کی گستاخی ہے:
یہاں آیت میں اللہ تعالیٰ کی گستاخی اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کرنے کو ساتھ ساتھ بیان کرکے عذاب کی ایک ہی وعید بیان کی ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں جرم بہت عظیم ترین ہیں اور قباحت میں برابر ہیں اور شانِ انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں گستاخی کرنے والا شانِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں گستاخی کرنے والے کی طرح جہنم کا مستحق ہے کیونکہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی گستاخی اللہتعالیٰ کی گستاخی ہے ۔
اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُؕ-قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے قرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جسے آ گ کھائے تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو کہتے ہیں (کہ) اللہ نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ ہم کسی رسول کی اس وقت تک تصدیق نہ کریں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آگ کھاجائے ۔ اے حبیب! تم فرمادو(کہ) بیشک مجھ سے پہلے بہت سے رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور وہی (معجزات) لے کر آئے جو تم نے کہے تھے پھر اگر تم سچے ہوتو تم نے انہیں کیوں شہید کیا؟۔
{اَلَّذِیْنَ قَالُوْا: وہ جو کہتے ہیں۔ }اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کہا تھا کہ ہم سے توریت میں عہد لیا گیا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والا جو شخص ایسی قربانی پیش نہ کرسکے جسے آسمان سے سفید آگ اتر کر کھائے ،اس پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۸۳،۱ / ۵۲۳)
اور اُن کے اِس خالص جھوٹ اور بہتان کو باطل قرار دیا گیا کیونکہ اِس شرط کا توریت میں نام و نشان بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نبی کی تصدیق کے لیے معجزہ کافی ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو، جب نبی نے کوئی معجزہ دکھادیا تواس کے سچا ہونے پر دلیل قائم ہوگئی، اب اُس کی تصدیق کرنا اور اُس کی نبوت کو ماننا لازم ہوگیا ۔ نبوت کی صداقت ثابت ہوجانے کے بعد پھر کسی خاص معجزے کا اصرارکرنا حقیقت میں نبی کی تصدیق کا انکار ہے۔پھر یہ بات بھی بیان فرمادی کہ گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبعض اوقات وہی معجزات لے کر آئے جس کا تم نے ان سے مطالبہ کیا، جیسے بعض انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قربانی لانے والا معجزہ بھی دکھا دیا لیکن اس کے باوجود تم نے انہیں نہ مانا بلکہ بہت سے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کردیا ، اگر تم سچے تھے تو ان کو کیوں شہید کیا؟ تمہارا سابقہ کردار اس بات کی گواہی دیتاہے کہ تمہارا مقصد صرف حیلے بہانے کر کے اسلام قبول کرنے سے بچنا اور اپنے جاہلوں کو ورغلانا ہے ورنہ دلیل نام کی کوئی چیز تمہارے پاس نہیں۔
اوپر کی پوری گفتگو سے ایک بہت مفید بات سامنے آتی ہے کہ جب کوئی چیز کسی معقول دلیل سے ثابت ہو جائے تو اسے مان لینا لازم ہے۔ دلیل سے ثابت ہوجانے کے بعد خواہ مخواہ مخصوص قسم کی دلیل کا مطالبہ کرنا یہودیوں کا کام ہے اور اس میں بھی ایسے لوگوں کامقصد ماننا نہیں ہوتا بلکہ مفت کی بحث کرنا ہوتا ہے۔ جیسے مسلمانوں میں رائج بہت سے معمولات ایسے ہیں جو معقول شرعی دلیل سے ثابت ہیں لیکن بعض لوگوں کا خواہ مخواہ اِصرار ہوتا ہے کہ نہیں ، اسے حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے سے ثابت کرو، اسے بخاری سے ثابت کرو۔ یہ طرزِ عمل سراسر جاہلانہ ہے اور ایسے لوگوں کو سمجھانا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع