دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

دونیم ان کی ٹھوکر سے دریا و صحرا                   سمٹ کر پہاڑ اِن کی ہیبت سے رائی

اَلَّذِیْنَ  قَالَ  لَهُمُ  النَّاسُ  اِنَّ  النَّاسَ  قَدْ  جَمَعُوْا  لَكُمْ  فَاخْشَوْهُمْ  فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا  ﳓ  وَّ  قَالُوْا  حَسْبُنَا  اللّٰهُ  وَ  نِعْمَ  الْوَكِیْلُ(۱۷۳)فَانْقَلَبُوْا  بِنِعْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  فَضْلٍ  لَّمْ  یَمْسَسْهُمْ  سُوْٓءٌۙ-وَّ  اتَّبَعُوْا  رِضْوَانَ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  ذُوْ  فَضْلٍ  عَظِیْمٍ(۱۷۴)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز۔ تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہکی خوشی پر چلے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے (ایک لشکر) جمع کرلیاہے سوان سے ڈرو توان کے ایمان میں اور اضافہ ہوگیااور کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اورکیا ہی اچھا کارساز ہے۔ پھر یہ اللہ  کے احسان اور فضل کے ساتھ واپس لوٹے ، انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اوراللہ  بڑے فضل والا ہے ۔

{اَلَّذِیْنَ  قَالَ  لَهُمُ  النَّاسُ: یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا ۔ } شانِ نزول: جنگ اُحد سے واپس ہوتے ہوئے ابوسفیان نے نبیٔ  کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوپکار کر کہہ دیا تھا کہ اگلے سال ہماری آپ کی مقامِ بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے جواب میں فرمایا: ’’اِنْ شَآءَ اللہ‘‘ جب وہ وقت آیا اور ابوسفیان اہلِ مکہ کو لے کر جنگ کے لیے روانہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں خوف ڈالا اور انہوں نے واپس ہونے کا ارادہ کیا ۔ اس موقع پر ابوسفیان کی نُعَیْم بن مسعود سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا۔ ابوسفیان نے اس سے کہا کہ اے نُعَیْم ! اِس زمانہ میں میری لڑائی مقامِ بدر میں محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ طے ہوچکی ہے اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں بلکہ واپس چلاجاؤں۔ لہٰذا تم مدینے جاؤ اور حکمت و تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں جانے سے روک دو۔ اس کے عوض میں تجھے دس اونٹ دوں گا۔ نُعَیْم نے مدینہ پہنچ کر دیکھا کہ مسلمان جنگ کی تیاری کررہے ہیں ، یہ دیکھ کر اُن سے کہنے لگا کہ تم جنگ کے لئے جانا چاہتے ہو ، اہلِ مکہ نے تمہارے لئے بڑے لشکر جمع کئے ہیں۔ خدا کی قسم !تم میں سے ایک بھی سلامت واپس نہ آئے گا۔ حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم، میں ضرور جاؤں گا چاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو۔ چنانچہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ستر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو ساتھ لے کر ’’ حَسْبُنَا اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ‘‘ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے اور بدر میں پہنچے ، وہاں آٹھ دن قیام کیا، مال تجارت ساتھ تھااسے فروخت کیا اورخوب نفع ہوا اور پھر سلامتی کے ساتھ مدینہ طیبہ واپس آئے اور جنگ نہیں ہوئی۔ چونکہ ابو سفیان اور اہلِ مکہ خوف زَدہ ہو کر مکہ مکرمہ کو واپس ہوگئے تھے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۷۲، ۱ / ۳۲۵-۳۲۶)

            اس واقعہ کو بدر ِصغریٰ کا واقعہ کہتے ہیں۔ اِس واقعہ سے بھی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت واضح ہوتی ہے کہ جب انہیں کافروں کے بڑے بڑے لشکروں سے ڈرایا جارہا ہے تو بجائے ڈرنے اور بزدلی دکھانے کے ان کی ہمت اور جوانمردی اور بڑھ جاتی ہے ، ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کی زبانوں پر ایک ہی وظیفہ جاری ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کافی ہے اور وہی سب سے اچھا کارساز ہے۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ                مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

اِنَّمَا  ذٰلِكُمُ  الشَّیْطٰنُ  یُخَوِّفُ  اَوْلِیَآءَهٗ   ۪-فَلَا  تَخَافُوْهُمْ  وَ  خَافُوْنِ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان:وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک وہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو ۔

{اِنَّمَا  ذٰلِكُمُ  الشَّیْطٰنُ : بیشک وہ تو شیطان ہی ہے ۔ }یہاں پچھلے واقعے ہی کا بیان ہے کہ وہ تو شیطان ہے جو مسلمانوں کو مشرکین کی کثرت سے ڈراتا ہے جیسا کہ نعیم بن مسعود نے کیا کہ وہ اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ان منافقین اور مشرکین کا خوف نہ کرو جو شیطان کے دوست ہیں ، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ ایمان کا تقاضا ہی یہ ہے کہ بندے کو خداعَزَّوَجَلَّہی کا خوف ہو اور جب یہ خوف پیدا ہوجاتا ہے تو پھر کسی دوسرے کا خوف باقی نہیں رہتا۔ اس آیتِ مبارکہ سے پتہ چلا کہ مسلمانوں کو کافروں سے ڈرانا، مسلمانوں کے حوصلے پَست کرنا، ان کے سامنے کافروںکی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا تاکہ مسلمان ہمت ہار بیٹھیں اور کفار سے مقابلے کا نام تک نہ لیں یہ سب حرکتیں کفار و منافقین کی ہیں۔ ایسے لوگوں کی ہمارے زمانے میں کمی نہیں جنہیں مسلمانوں کو تو ہمت وحوصلہ دینے کی توفیق نہیں لیکن وہ کفار کی طاقت کو ایسا بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے کہ مسلمان ان سے مقابلے کا نام لینے سے بھی گھبرائیں۔ اخبار وغیرہ کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں۔

وَ  لَا  یَحْزُنْكَ  الَّذِیْنَ  یُسَارِعُوْنَ  فِی  الْكُفْرِۚ-اِنَّهُمْ  لَنْ  یَّضُرُّوا  اللّٰهَ  شَیْــٴًـاؕ-یُرِیْدُ  اللّٰهُ  اَلَّا  یَجْعَلَ  لَهُمْ  حَظًّا  فِی  الْاٰخِرَةِۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  عَظِیْمٌ(۱۷۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اور اے محبوب تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں وہ اللہکا کچھ نہ بگاڑیں گے اللہچاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے حبیب!تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفرمیں دوڑے جاتے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔

{وَ  لَا  یَحْزُنْكَ  الَّذِیْنَ  یُسَارِعُوْنَ  فِی  الْكُفْرِ: اور اے حبیب!تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفرمیں دوڑے جاتے ہیں۔} حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کیلئے یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان لوگوں کا غم نہ کریں جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں اور اس کیلئے کوشش کرتے ہیں خواہ وہ کفارِ قریش ہوں یا منافقین یایہودیوں کے سردار یا مرتدین ، یہ سب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقابلہ کے لیے کتنے ہی لشکر جمع کرلیں ، کامیاب نہ ہوں گے۔ اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ملنے والے ثواب میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اسی لئے اس نے انہیں ان کے کفر و سرکشی میں بھٹکتا چھوڑ دیا اور ان کے لئے اخروی ثواب سے مکمل طور پر محرومی کے ساتھ ساتھ جہنم کا بڑا عذاب بھی ہے تو اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن کے لئے ناکامی، محرومی اور دردناک عذاب مقدر ہو چکا ہے ان سے کوئی اندیشہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن