دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

کومیدانِ بدر میں پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ ہمیں یہ تکلیف کیسے آگئی؟ جبکہ ہم مسلمان ہیں اور ہم میں سید المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تشریف فرما ہیں۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،تم ان سے فرمادو کہ یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے آئی ہے کہ تم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مرضیکے خلاف مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے پر اِصرار کیا، پھر وہاں پہنچنے کے بعد تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شدید ممانعت کے باوجود غنیمت کے لئے مرکز کوچھوڑا ۔ یہی بات تمہارے قتل اور نقصان کا سبب بنی ہے۔ مزید اگلی آیت میں فرمایا کہ میدانِ اُحد میں کافروں اور مسلمانوں کے مقابلے کے دن تمہیں جو تکلیف پہنچی تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے تھی اور اس لئے پہنچی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایمان والوں کی پہچان کرادے لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے پر راضی رہو ۔

وَ  لِیَعْلَمَ  الَّذِیْنَ  نَافَقُوْا ۚۖ-وَ  قِیْلَ  لَهُمْ  تَعَالَوْا  قَاتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَوِ  ادْفَعُوْاؕ-قَالُوْا  لَوْ  نَعْلَمُ  قِتَالًا  لَّا  اتَّبَعْنٰكُمْؕ-هُمْ  لِلْكُفْرِ  یَوْمَىٕذٍ  اَقْرَبُ  مِنْهُمْ  لِلْاِیْمَانِۚ-یَقُوْلُوْنَ  بِاَفْوَاهِهِمْ  مَّا  لَیْسَ   فِیْ  قُلُوْبِهِمْؕ-وَ  اللّٰهُ  اَعْلَمُ  بِمَا  یَكْتُمُوْنَۚ(۱۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس لئے کہ پہچان کرادے ان کی جو منافق ہوئے اور ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ اللہکی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپارہے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس لئے ( پہنچی) کہ اللہ منافقوں کی پہچان کرادے اور (جب ) ان سے کہا گیا کہ ا ٓؤ اللہکی راہ میں جہاد کرویا دشمنوں سے دفاع کرو تو کہنے لگے: اگر ہم اچھے طریقے سے لڑنا جانتے (یا کہنے لگے کہ اگر ہم اس لڑائی کو صحیح سمجھتے) تو ضرو ر تمہارا ساتھ دیتے ،یہ لوگ اس دن ظاہری ایمان کی نسبت کھلے کفرکے زیادہ قریب تھے ۔ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں اور اللہ  بہتر جانتا ہے جو باتیں یہ چھپارہے ہیں۔

{ وَ  لِیَعْلَمَ  الَّذِیْنَ  نَافَقُوْا: اور تاکہ منافقوں کی پہچان کروادے ۔ } غزوہ اُحد میں مسلمانوں کے نقصان اٹھانے کی حکمتوں کو متعدد مقامات پربیان فرمایا گیا ہے جس میں بہت بڑی حکمت مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز ظاہر کرنا تھا چنانچہ یہاں پر بھی فرمایا گیا کہ مسلمان لشکر کو میدانِ اُحد میں اس لئے تکلیف پہنچی تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ لوگوں کومنافقوں کی پہچان کرادے ، کیونکہ منافقوں کی حالت یہ تھی کہ جب جنگِ اُحد شروع ہونے سے پہلیعبداللہبن اُبی وغیرہ منافقوں سے کہا گیا کہ ا ٓؤ اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں جہاد کرویا صرف ہمارے ساتھ مل کر ہماری تعداد بڑھاؤ جس سے ایک قسم کا دفاع مضبوط ہوگا تو یہ منافق کہنے لگے کہ’’اگر ہم اچھے طریقے سے لڑنا جانتے ‘‘یا کہنے لگے کہ’’ اگر ہم اس لڑائی کو صحیح سمجھتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے ۔ ان منافقین کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ درحقیقت اس دن اپنے ظاہری ایمان کی نسبت کھلے کفر کے زیادہ قریب تھے۔ یہ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں یعنی یہ منہ سے تو یہ کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں لیکن ہم جنگ کر نا نہیں جانتے لیکن دل میں یہ کہتے ہیں کہ’’ کفا ر کو اپنا دشمن نہ بنا ؤ،مسلمانوں کو ان کے ہاتھوں تباہ ہو جانے دو۔

اَلَّذِیْنَ  قَالُوْا  لِاِخْوَانِهِمْ  وَ  قَعَدُوْا  لَوْ  اَطَاعُوْنَا  مَا  قُتِلُوْاؕ-قُلْ  فَادْرَءُوْا  عَنْ  اَنْفُسِكُمُ  الْمَوْتَ  اِنْ  كُنْتُمْ  صٰدِقِیْنَ(۱۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہنا مانتے تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اورخود بیٹھے رہے کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ۔ اے حبیب! تم فرمادواگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت دور کر کے دکھادو۔

{اَلَّذِیْنَ  قَالُوْا  لِاِخْوَانِهِمْ: جنہوں نے اپنے بھائیوں کے متعلق کہا ۔ }منافقین نے اُحد میں شہید ہونے والوں کے بارے میں کہا کہ اگر یہ لوگ ہماری بات مان لیتے اور ہماری طرح گھر بیٹھے رہتے تو مارے نہ جاتے ۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت کو دور کرکے تو دکھاؤ۔ یقیناً موت تو بہرحال آکر ہی رہے گی خواہ آدمی گھر میں چھپ کر بیٹھ جائے ،تو یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ’’ اگر لوگ ہماری بات مان کر جہاد میں نہ جاتے تو نہ مارے جاتے۔

وَ  لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  قُتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَمْوَاتًاؕ-بَلْ  اَحْیَآءٌ  عِنْدَ  رَبِّهِمْ  یُرْزَقُوْنَۙ(۱۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جواللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔

{وَ  لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  قُتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَمْوَاتًا: اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا ۔}  شانِ نزول: اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت شہداء احد کے حق میں نازل ہوئی ۔ حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب تمہارے بھائی اُحد میں شہید ہوئے تواللہتعالیٰ نے ان کی اَرواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرمائے ،وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں ، جنتی میوے کھاتے ہیں ، سونے کی اُن قندیلوں میں رہتے ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں۔جب ان شہداء کرام نے کھانے ، پینے اور رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ پیچھے دنیا میں رہ جانے والے ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جہادسے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی فضل الشہادۃ، ۳ / ۲۲، الحدیث: ۲۵۲۰)

شہداء کی شان :

            اس سے ثابت ہوا کہ اَرواح باقی ہیں جسم کے فنا ہونے کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں۔ یہاں آیت میں شہدا ء کی کئی شانیں بیان ہوئی ہیں : فرمایا کہ وہ کامل زندگی والے ہیں ،وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہیں ،انہیں رب کریم کی طرف سے روزی ملتی رہتی ہے، وہ بہت خوش باش ہیں۔ شہداء کرام زندوں کی طرح کھاتے پیتے اورعیش کرتے ہیں۔ آیتِ مبارکہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ شہیدوں کے روح اور جسم دونوں زندہ ہیں۔علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں ، مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں اور اس کے بعداس بات کا بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو ان کے جسم تر و تازہ پائے گئے ۔    (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۹، ۱ / ۳۲۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن