دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کے بندے اور رسول ہیں۔(مستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی  عنہم، ذکر اسلام زید بن سعنۃ۔۔۔ الخ، ۴ / ۷۹۲، الحدیث: ۶۶۰۶)

{وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِ:اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔ } یعنی اہم کاموں میں ان سے مشورہ بھی لیتے رہیں کیونکہ اِس میں اِن کی دِلداری بھی ہے اور عزت افزائی بھی اور یہ فائدہ بھی کہ مشورہ سنت ہوجائے گا اور آئندہ امت اِس سے نفع اُٹھاتی رہے گی،پھرجب مشورے کے بعد آپ کسی بات کا پختہ ارادہ کرلیں تو اپنے کام کو پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں بیشک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور ان کی مدد کرتا اور انہیں ا س چیز کی طرف ہدایت دیتا ہے جو ان کے لئے بہتر ہو ۔

مشورہ اور تَوَکُّل کے معنی اور توکل کی ترغیب:

            مشورہ کے معنی ہیں کسی معاملے میں دوسرے کی رائے دریافت کرنا۔ مشورہ لینے کے ساتھ اللہتعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ’’ مشورے کے بعد جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کسی چیز کا پختہ ارادہ کرلیں تو اسی پر عمل کریں اور اللہ عَزَّوَجَلَّپر توکل کریں۔ توکل کے معنی ہیں اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی پر اعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد کردینا۔ مقصود یہ ہے کہ بندے کا اعتماد تمام کاموں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ہونا چاہئے ، صرف اسباب پر نظر نہ رکھے ۔

            حضرت عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو اللہ عَزَّوَجَلَّپر بھروسہ کرے تو ہر مشکل میں اللہتعالیٰ اسے کافی ہو گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو اور جو دنیا پر بھروسہ کرے تو اللہتعالیٰ اسے دنیا کے سپرد فرما دیتا ہے ۔ (معجم الاوسط، باب الجیم، من اسمہ جعفر، ۲ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۳۵۹)

            حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ  پر جیسا چاہیے ویسا توکل کرو تو تم کو ایسے رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں۔(ترمذی، کتاب الزہد، باب فی التوکل علی اللہ، ۴ / ۱۵۴، الحدیث: ۲۳۵۱)

اِنْ  یَّنْصُرْكُمُ  اللّٰهُ  فَلَا  غَالِبَ  لَكُمْۚ-وَ  اِنْ  یَّخْذُلْكُمْ  فَمَنْ  ذَا  الَّذِیْ  یَنْصُرُكُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِهٖؕ-وَ  عَلَى  اللّٰهِ  فَلْیَتَوَكَّلِ  الْمُؤْمِنُوْنَ(۱۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان:اگر اللہ  تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر اللہ  تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھراس کے بعد کون تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ اور مسلمانوں کواللہ  ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

{اِنْ  یَّنْصُرْكُمُ  اللّٰهُ: اگر اللہ  تمہاری مدد کرے۔ } ارشاد فرمایا کہ’’اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور یہ یاد رکھو کہ اللہ  تعالیٰ کی مدد وہی پاتا ہے جو اپنی قوت وطاقت پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ اللہ  تعالیٰ کی قدرت و رحمت کا امیدوار رہتا ہے اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے چھوڑنے کے بعد کون تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ یقیناً کوئی نہیں۔ غزوہ بَدر و حنین سے دونوں باتیں واضح ہوجاتی ہیں۔ غزوۂ بدر میں کفار کا لشکر تعداد، اسلحہ اور جنگی طاقت کے اعتبار سے مسلمانوں سے بڑھ کر تھالیکن مسلمانوں کا پورا بھروسہ اللہ  تعالیٰ کی ذات پر تھا جس کا نتیجہ مسلمانوں کی فتح و کامرانی کی شکل میں ظاہر ہوا اورفرشتوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوئی جبکہ غزوہ حنین میں بعض مسلمانوں نے اپنی عددی کثرت پر فخر کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا ۔ پورا واقعہ سورۂ توبہ آیت 25 میں مذکور ہے ۔

وَ  مَا  كَانَ  لِنَبِیٍّ  اَنْ  یَّغُلَّؕ-وَ  مَنْ  یَّغْلُلْ  یَاْتِ  بِمَا  غَلَّ  یَوْمَ  الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ  تُوَفّٰى  كُلُّ  نَفْسٍ  مَّا  كَسَبَتْ  وَ  هُمْ  لَا  یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان:اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

{وَ  مَا  كَانَ  لِنَبِیٍّ  اَنْ  یَّغُلَّ: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ } نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔(جمل علی الجلالین،  اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)

            اس سے کئی مسئلے معلوم ہوئے ۔ ایک یہ کہ غنیمت کی تقسیم کے بغیر ناجائز طریقہ پر کچھ لینا سخت حرام ہے۔ دو سرا یہ کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَامگناہوں سے معصوم ہیں۔ گناہ اور نبوت میں وہی نسبت ہے جو اندھیرے اور اجالے میں ہے ۔تیسرا یہ کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام پر بد گمانی منافقوں کا کام ہے اور کفر ہے۔ چوتھا یہ کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام ربُّ العالمین عَزَّوَجَلَّ کے ایسے پیارے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر سے لوگوں کی تہمتیں دور فرماتا ہے ۔

خیانت کی مذمت:

            اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ  سرورِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵))

            حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴ / ۲۷۱، الحدیث: ۱۲۳۸۶)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن