دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے اور کافروں کو مٹادے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کو نکھاردے اور کافروں کو مٹادے۔

{وَ  لِیُمَحِّصَ   اللّٰهُ : اوراس لئے کہ اللہ  نکھار دے۔} کافروں سے جہاد کی ایک اور حکمت بیان کی جارہی ہے کہ کافروں سے جو مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچتی ہیں وہ تو مسلمانوں کے لئے شہادت اورپاکیزگی کا ذریعہ بنتی ہیں جبکہ مسلمان جن کفار کو قتل کرتے ہیں تو یہ کفار کی بربادی کا ذریعہ بنتا ہے۔

اَمْ  حَسِبْتُمْ  اَنْ  تَدْخُلُوا  الْجَنَّةَ  وَ  لَمَّا  یَعْلَمِ  اللّٰهُ  الَّذِیْنَ  جٰهَدُوْا  مِنْكُمْ  وَ  یَعْلَمَ  الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں کی آزمائش کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتحان نہیں لیا اور نہ(ہی) صبر والوں کی آزمائش کی ہے۔

{اَمْ  حَسِبْتُمْ  اَنْ  تَدْخُلُوا  الْجَنَّةَ : کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے؟ }یہاں مسلمان پر آنے والی آزمائشوں کی حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر تمہیں آزمائشیں آتی ہیں تو اس پر بے قرار اور حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں ، ہمیں اللہ تعالیٰ کیوں تکلیفوں میں مبتلا فرما رہا ہے؟یاد رکھو کہ تمہارا امتحان کیا جائے گا، تمہیں ایمان کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کیسے زخم کھاتے اور تکلیف اُٹھاتے ہو اور کتنا ثابت قدم رہتے ہو۔ تھوڑی سی تکلیف پر چِلّا اٹھنا اور دہائی دینا شروع کردینا ایمان والوں کا شیوہ نہیں۔ جنت میں داخلہ مطلوب ہے تو ان آزمائشوں پر پورا اترنا پڑے گا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں قربانی دینا پڑے گی اور ہر حال میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔

زباں پہ شکوہِ رنج و اَلَم لایا نہیں کرتے               نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

             اِس میں اُن لوگوں کو سرزنش (تنبیہ) ہے جو اُحد کے دن کفار کے مقابلہ سے بھاگے تھے۔نیز اس آیت کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے اعمال اور اپنی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر ہمیں راہِ خدا میں اپنا مال یا وقت دینا پڑے تو ہم اس میں کتنا پورا اترتے ہیں ؟ افسوس کہ ہماری حالت کچھ اچھی نہیں۔ فضولیات میں خرچ کرنے کیلئے پیسہ بھی ہے اور وقت بھی لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرتے وقت نہ پیسہ باقی رہتا ہے اور نہ وقت۔

            تنبیہ: آیت میں علم کا لفظ ہے ، یہاں اس سے مراد آزمائش کرنا ہے۔

وَ  لَقَدْ  كُنْتُمْ  تَمَنَّوْنَ  الْمَوْتَ  مِنْ  قَبْلِ  اَنْ  تَلْقَوْهُ۪-فَقَدْ  رَاَیْتُمُوْهُ  وَ  اَنْتُمْ  تَنْظُرُوْنَ۠(۱۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم موت کا سامنا کرنے سے پہلے تو اس کی تمنا کیا کرتے تھے ،اب تم نے اسے آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا۔

{وَ  لَقَدْ  كُنْتُمْ  تَمَنَّوْنَ  الْمَوْتَ : اورتم موت کی تمنا کیا کرتے تھے۔} جب بدر کے شہداء کے درجے اور مرتبے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان بیان فرمائے گئے تو جو مسلمان غزوہ بدر میں شریک نہ ہوئے تھے انہیں حسرت ہوئی اور انہوں نے آرزو کی کہ کاش کسی جہاد میں انہیں حاضری میسر آئے اور شہادت کے درجات ملیں ، اِنہی لوگوں نے حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اُحد پر جانے کے لئے اِصرار کیا تھا اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(مدارک، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ص۱۸۸)

                 کہ پہلے توشہادت کی موت کی تمنا کرتے تھے مگرجب میدانِ جنگ میں پہنچے تو بھاگنے لگے، یہ کیا ہے؟ یہ گویا ان کی تفہیم ہے یعنی انہیں سمجھایا گیا ہے۔

وَ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌۚ-قَدْ  خَلَتْ  مِنْ  قَبْلِهِ  الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ  مَّاتَ  اَوْ  قُتِلَ  انْقَلَبْتُمْ  عَلٰۤى  اَعْقَابِكُمْؕ-وَ  مَنْ  یَّنْقَلِبْ  عَلٰى  عَقِبَیْهِ  فَلَنْ  یَّضُرَّ  اللّٰهَ  شَیْــٴًـاؕ-وَ  سَیَجْزِی  اللّٰهُ  الشّٰكِرِیْنَ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہوچکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور محمد ایک رسول ہی ہیں ، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وصال کر جائیں یا انہیں شہید کردیا جائے تو تم الٹے پاؤں پلٹ جاؤگے ؟اور جو الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا اور عنقریب اللہ شکر ادا کرنے والوں کو صلہ عطا فرمائے گا۔

{وَ  مَا  مُحَمَّدٌ  اِلَّا  رَسُوْلٌ: اور محمد تو ایک رسول ہی ہیں۔} شانِ نزول: جنگ اُحد میں جب کافروں نے شور مچایا کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شہید ہوگئے اور شیطان نے یہ جھوٹی اَفواہ مشہور کردی تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو بہت اِضطراب ہوا اور ان میں سے کچھ لوگ میدانِ جنگ سے بھاگ نکلے لیکن پھر جب ندا کی گئی کہ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ صحیح سلامت تشریف رکھتے ہیں تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک جماعت واپس آگئی۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں یوں بھاگ جانے پر ملامت کی تواُنہوں نے عرض کیا : ہمارے ماں ، باپ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فدا ہوں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شہادت کی خبر سن کر ہمارے دِل ٹوٹ گئے اور ہم سے ٹھہرا نہ گیا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۴۴، ۳ / ۳۷۶)

                اور فرمایا گیا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد بھی امتوں پر اُن کے دین کی پیروی لازم رہتی ہے تو اگر ایسا ہوتا بھی کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَشہید ہوجاتے یا ان کا وصال ہوجاتا توبھی حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دین کی پیروی اور اس کی حمایت لازم رہتی کیونکہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں لیکن ان کے پیروکار اُن کے بعد اُن کے دین پر قائم رہے ۔ رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بعثت کا مقصد تورسالت کی تبلیغ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کاپیغام پہنچانا ہوتا ہے نہ کہ اپنی قوم کے درمیان ہمیشہ موجود رہنا،تو جیسے پہلے رسول گزر گئے اسی طرح حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی دنیا سے تشریف لے جائیں گے لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دین پر ثابت قدم رہو۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن