30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس آیت کا شانِ نزول ہوں۔
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌۙ-فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(۱۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان: تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم سے پہلے کئی طریقے گزر چکے ہیں تو زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کاکیسا انجام ہوا ؟
{قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ: تم سے پہلے کئی طریقے گزر چکے ہیں۔} اس آیت میں فرمایا گیا کہ اے لوگو! کافروں کو شروع میں مہلت دینے اور پھر ان کی گرفت کرنے کے حوالے سے تم سے پہلے بھی کئی طریقے گزر چکے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی حرص اور اس کی لذّات کی طلب میں انبیاء و مرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مخالفت کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر بھی مہلتیں عطا فرمائیں۔ اس کے باوجود وہ راہ ِراست پر نہ آئے تو انہیں ان کے اعمال کے سبب مختلف عذابوں کے ذریعے ہلاک و برباد کردیا۔ تو اے لوگو! ان زمینوں کی طرف سفر کرو جہاں پہلے کفار آباد تھے جنہوں نے اپنے رسولوں کی مخالفت کی، جس کی وجہ سے ان پر عذابِ الہٰی آیا اور وہ تباہ کر دئیے گئے۔ ان کی اجڑی بستیاں دیکھ کر عبرت پکڑو اور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لاؤ۔ یاد رہے کہ عبرت و نصیحت اور صحیح مقصد کیلئے سیر و سیاحت کرنے میں بہت فوائد ہیں۔ نیزیہ بھی یاد رکھیں کہ جیسے عذاب کی جگہ جاکر عبرت حاصل ہوتی ہے ایسے ہی رحمت کی جگہ جاکر برکت و نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جیسے کسی ولی کے مزار پر جائیں تو جاکر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی دنیا میں ہی کیسی عزت افزائی فرماتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی کیسی محبت ڈال دیتا ہے؟ اس لئے ایسی رحمت والی جگہوں پر بھی برکت و نصیحت کیلئے جانا چاہیے۔
هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ(۱۳۸)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ لوگوں کے لئے ایک بیان اور رہنمائی ہے اور پرہیزگاروں کیلئے نصیحت ہے۔
{هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى: یہ لوگوں کے لئے ایک بیان اور رہنمائی ہے۔} قرآنِ پاک کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت اور نصیحت کیلئے نازل فرمایا لہٰذا قرآن کا حق ہے کہ اس کی تلاوت کے وقت اس پہلو کو بھی سامنے رکھا جائے اور اس میں مذکور اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نافرمانی کرنے والی قوموں کا انجام،قیامت کی سختیاں اور جہنم کے دردناک عذابات وغیرہ کے بارے میں پڑھ کر عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کھاؤ، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب آؤ گے ۔
{وَ لَا تَهِنُوْا : اور سستی نہ کرو۔} غزوۂ احد میں نقصان اٹھانے کے بعد مسلمان بہت غمزدہ تھے اور اس کی وجہ سے بعض کے دل سستی کی طرف مائل تھے۔ ان کی اصلاح کے لئے فرمایا کہ جنگ اُحد میں جو تمہارے ساتھ پیش آیاہے اس کی وجہ سے غم نہ کرو اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو ۔ جنگ بدر میں شکست کے باوجود ان کافروں نے ہمت نہ ہاری اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی سُستی اور کم ہمتی نہیں کرنی چاہئے لہٰذا تم ہمت جواں رکھو۔ اگر تم سچے ایمان والے ہو اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے ہو تو بالاخر تم ہی کامیاب ہوگے۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس حکم پر عمل کر کے دکھایا اور خلفائے راشدین کے زمانہ مبارکہ میں مسلمانوں کو ہر طرف فتح و نصرت حاصل ہوئی۔
اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗؕ-وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِۚ- وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرا دے ایمان والوں کی اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں اوریہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرادے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ عطافرمادے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
{اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ اے مسلمانو! یاد رکھو کہ اگر اِس وقت میدانِ احد میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف اس سے پہلے میدانِ بدر میں پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں کہ کبھی ایک کی فتح ہوتی ہے تو کبھی دوسرے کی۔ نیز یہ بھی یاد رکھو کہ کبھی کبھار جوکافروں کو غلبہ حاصل ہوجاتا ہے تووہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی پہچان کروانا چاہتا ہے کہ ان میں کون ہر حال میں صبر و استقامت کا پیکر رہتا ہے اور کون بزدل بنتا ہے نیز کافروں کی فتح کے ذریعے اللہ تعالیٰ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ عطافرمانا چاہتا ہے تو کافروں کے غلبے میں بھی بہت سی حکمتیں ہوتی ہیں ، لہٰذا ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا پر راضی رہو۔ درس: یہاں آیاتِ مبارکہ میں مسلمانوں کو بار بار بلند ہمت، باحوصلہ، چست اور ہوشیار ہونے کا فرمایا ہے اور کم ہمتی، سستی و کاہلی سے منع فرمایا ہے۔
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ(۱۴۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع