30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عذاب میں ہی رہیں گے۔
{یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا:کافروں سے دوستی کرتے ہیں۔} پچھلی آیات میں گزشتہ زمانے کے یہودیوں کی مذموم صفات اور ان کے عُیوب و نَقائص کا بیان تھا اب حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے زمانۂ مبارکہ کے یہودیوں کی برائیوں اور سازشوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ شانِ نزول: کعب بن اشرف یہودی اور اس کے ساتھی سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَسے بغض و عناد کی وجہ سے مشرکینِ مکہ کے پاس پہنچے اور انہیں تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جنگ کرنے پر ابھارا، لیکن یہ لوگ اپنی اس کوشش میں ناکام و نامراد ہوئے، اس واقعے سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :اس کا معنی یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ منافقین میں سے بہت سوں کو دیکھیں گے کہ وہ یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۰، ۱ / ۵۱۷)
کفار سے دوستی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا غضب ان پر نازل ہوااور آخرت میں دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
کفار سے دوستی کا دم بھرنے والے مسلمانوں کے لئے تازیانۂ عبرت:
معلوم ہوا کے کفار سے دوستی اور مُوالا ت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ یہ آیتِ مبارکہ ان مسلمانوں کے لئے تازیانۂ عبرت ہے جو کفار کی مسلمانوں سے کھلی دشمنی اپنی روشن آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود ، صرف اپنے منصب کی بَقا کی خاطران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے،ان کی ہاں میں ہاں ملاتے اور ان کی ناراضی سے خوف کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ(۸۱)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر وہ ایمان لاتے اللہ اور ان نبی پر اور اس پر جو ان کی طرف اترا تو کافروں سے دوستی نہ کرتے مگر ان میں تو بہتیرے فاسق ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر یہ اللہ اور نبی پر اور اُس پر جو نبی کی طرف نازل کیا گیا ہے ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں بہت زیادہ فاسق ہیں۔
{وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ:اور اگر یہ اللہ اور نبی پر ایمان لاتے۔} کفار و مشرکین سے دوستی اور محبت کا رشتہ اُستُوار کرنے والے یہودی اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور اس کی نازل کردہ کتاب قرآنِ پاک پر صدق و اخلاص کے ساتھ ایمان لائے ہوتے تو کسی صورت بھی ان کے ساتھ دوستی کا سلسلہ قائم نہ کرتے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان میں بہت زیادہ فاسق ہیں۔ ان آیات کے پسِ منظر پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کا اصل مقصود ریاست کی حکمرانی اور منصب کا حصول تھا اور اس کے لئے انہیں کوئی بھی طریقہ اپنانا پڑا، کسی بھی ذریعے کو اختیار کرنا پڑا وہ کر گزرے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال فی زمانہ ہم مسلمانوں میں عام ہو چکی ہے۔اپنی کرسی کوبچانے کے چکر میں کفار کے سامنے گھٹنے ٹیکتے اورایڑیاں گھسیٹتے پھرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ا نہیں عقل سلیم عطا فرمائے۔
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْاۚ-وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰىؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ(۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان: ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے تھے ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ضرور تم مسلمانوں کا سب سے زیادہ شدید دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے تھے :ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ ان میں علماء اور عبادت گزار موجود ہیں اور یہ تکبر نہیں کرتے۔
{وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے ۔} اس آیتِ کریمہ میں اُن عیسائیوں کی تعریف بیان کی گئی ہے جوحضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے زمانۂ اقدس تک حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین پر قائم رہے اور تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعثت معلوم ہونے کے بعد سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئے۔ شانِ نزول: ابتدائے اسلام میں جب کفارِ قریش نے مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیں تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں سے گیارہ مرد اور چار عورتوں نے سرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حکم سے حبشہ کی طرف ہجرت کی، یہ تمام حضرات اعلانِ نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینے میں بَحری سفر کرکے حبشہ پہنچے۔ اس ہجرت کو ہجرتِ اُولیٰ کہتے ہیں۔ اُن کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ گئے پھر اور مسلمان روانہ ہوتے رہے یہاں تک کہ بچوں اور عورتوں کے علاوہ مہاجرین کی تعداد بیاسی (82) مَردوں تک پہنچ گئی، جب قریش کو اس ہجرت کا علم ہوا تو انہوں نے چند افراد کوتحفہ تحائف دے کر نجاشی بادشاہ کے پاس بھیجا، ان لوگوں نے دربارِ شاہی میں باریابی حاصل کرکے بادشاہ سے کہا : ہمارے ملک میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور لوگوں کو نادان بنا ڈالا ہے اُن کی جماعت جو آپ کے ملک میں آئی ہے وہ یہاں فساد انگیزی کرے گی اور آپ کی رعایا کو باغی بنائے گی، ہم آپ کو خبردینے کے لئے آئے ہیں اور ہماری قوم درخواست کرتی ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کیجئے، نجاشی بادشاہ نے کہا :پہلے ہم ان لوگوں سے گفتگو کرلیں باقی بات بعد میں دیکھیں گے۔ یہ کہہ کر اس نے مسلمانوں کو طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ’’ تم حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کی والدہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو ۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول، کَلِمَۃُ اللہ اور روحُ اللہ ہیں اور حضرت مریم رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہاکنواری پاک ہیں۔ یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی کا ٹکڑا اٹھا کر کہا خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم تمہارے آقا نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کلام میں اتنا بھی نہیں بڑھایا جتنی یہ لکڑی، (یعنی حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ارشاد کلامِ عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بالکل مطابق ہے) یہ دیکھ کر مشرکینِ مکہ کے چہرے اتر گئے۔ پھر نجاشی نے قرآن شریف سننے کی خواہش کی تو حضرت جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سورۂ مریم تلاوت کی، اس وقت دربار میں نصرانی عالم اور درویش موجود تھے، قرآنِ پاک سن کر بے اختیار رونے لگے ۔ پھر نجاشی نے مسلمانوں سے کہا: تمہارے لئے میری سلطنت میں کوئی خطرہ نہیں مشرکینِ مکہ اپنے مقصد میں ناکام ہو کر واپس پلٹے اور مسلمان نجاشی کے پاس بہت عزت و آسائش کے ساتھ رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نجاشی کو دولتِ ایمان کا شرف حاصل ہوا ۔اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۲،۱ / ۵۱۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع