دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

ترجمۂ کنزالایمان: اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے بیشک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا اس کی تبلیغ فرما دیں اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اُس کا کوئی پیغام بھی نہ پہنچایا اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائے گا۔ بیشک اللہ کافروں کوہدایت نہیں دیتا۔

{یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ:اے رسول۔} اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو رسول کے لقب سے خطاب فرمایا، یہ سرکارِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خصوصیت ہے ورنہ دیگر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کے اسماءِ مبارکہ سے خطاب فرمایا گیا ہے۔ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرمایا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے پیغامات لوگوں تک پہنچائیں اور کسی قسم کا کوئی اندیشہ نہ فرمائیں، اللہ تعالیٰ ان کفار سے آپ  کی حفاظت فرمائے گا جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس خطرے کی وجہ سے دورانِ سفر رات کے وقت سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حفاظت کیلئے پہرہ دیا جاتا تھا، جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی توپہرہ ہٹا دیا گیا اور حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پہرے داروں سے فرمایا کہ تم لوگ چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کا فرمادیا ہے۔(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، ۵ / ۳۵، الحدیث: ۳۰۵۷)

            حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی حفاظت کے لئے پہرہ دینے کا شرف جنہیں سب سے پہلے حاصل ہو اوہ حضرت سعد بن ابی وقا ص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے ،چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا   فرماتی ہیں ’’ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ آتے وقت ایک رات بے خواب رہے ،پھر فرمایا کاش کوئی نیک شخص ہماری حفاظت کرتا۔ اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو ارشاد فرمایا ’’یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: میں سعد ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’ تمہیں کیا چیز یہاں لائی ہے؟ عرض کی: میرے دل میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر خطرہ گزرا تو میں ان کی حفاظت کرنے آیا ۔ ان کے لیے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دعا کی، پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سوگئے۔(مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم، باب فی فضل سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، ص۱۳۱۴، الحدیث: ۴۰(۲۴۱۰))

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ-فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرمادو اے کتابیو تم کچھ بھی نہیں ہو جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اور بیشک اے محبوب وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر کی اور ترقی ہوگی تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرمادو اے کتابیو! جب تک تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اسے قائم نہیں کرلیتے تم کسی شے پر نہیں ہو اور اے حبیب! یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے یہ ان میں سے بہت سے لوگوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا تو تم کافرقوم پر کچھ غم نہ کھاؤ۔

{قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ:تم فرمادو اے کتابیو!} اہلِ کتاب سے فرمایا گیا کہ جب تک تم نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان نہیں لے آتے تب تک تم کسی دین و ملت پر نہیں ہو کیونکہ اگر حقیقی طور پر تم تورات و انجیل پرعمل کرو تو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر بھی ایمان لے آؤ کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کا حکم تورات و انجیل میں موجود ہے۔

{مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ: اے حبیب! یہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جو قرآن آپ کی طرف آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، یہ اہلِ کتاب کے علماء اور سرداروں کی پرانی سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا کیونکہ آپ پر جب قرآنِ مجید کی کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو یہ اس کا انکار کر دیتے ہیں اور اس طرح یہ اپنے کفروسرکشی میں اور زیادہ سخت ہوجاتے ہیں اس لئے اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جو یہودی آپ کی نبوت کاانکار کر رہے اور آپ پر ایمان نہیں لا رہے ان کی وجہ سے آپ غمزدہ نہ ہوں کیونکہ ان کے اس کفرکا وبال انہی پر پڑے گا۔(روح البیان، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۸، ۲ / ۴۱۹، خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۸، ۱ / ۵۱۱-۵۱۳، ملتقطاً)

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِــٴُـوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اسی طرح یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی ان میں جو کوئی سچے دل سے اللہ وقیامت پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے توان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک (وہ جو اپنے آپ کو ) مسلمان ( کہتے ہیں ) اور یہودی اور ستاروں کی پوجا کرنے والے اور عیسائی (ان میں سے) جو (سچے دل سے ) اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور اچھے عمل کرے توان پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:بیشک وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اہلِ کتاب اس وقت تک کسی دین و ملت پر نہیں جب تک وہ ایمان نہیں لاتے اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ یہ حکم صرف اہلِ کتاب کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر ملت والا ا س حکم میں داخل ہے اور کسی کو بھی تب تک کوئی فضیلت اور منقبت حاصل نہیں جب تک وہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ پراور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتا اور ایسے نیک اعمال نہیں کرتا جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور نیک عمل میں سے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانا بھی ہے کیونکہ جب تک کوئی تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایمان نہیں لاتا توا س کا ایمان مکمل نہیں ہو گا۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۹، ۱ / ۵۱۳)

            اس آیت کی تفسیر کے بارے میں مزید معلومات کے لئے سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر 62کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًاؕ-كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْۙ-فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ(۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہش نہ تھی ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن