دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

            اور فرمایا گیا کہ اے کتابیو! ہم تمہارے تمام پیغمبروں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور تمہاری تمام کتابوں کو حق مانتے ہیں تو کیا تمہیں یہی برا لگ رہا ہے ۔ اس چیز کی وجہ سے تو تمہیں ہمارے ساتھ ہونا چاہیے نہ کہ ہمارے خلاف۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَؕ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ(۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا میں بتادوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پرغضب فرمایا اور ان میں سے کردیے بندر اور سؤر اور شیطان کے پجاری ان کا ٹھکانا زیادہ برا ہے اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے محبوب! تم فرماؤ: کیا میں تمہیں وہ لوگ بتاؤں جو اللہ کے ہاں اس سے بدتر درجہ کے ہیں ، یہ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو بندر اور سور بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی عبادت کی، یہ لوگ بدترین مقام والے اور سیدھے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔

{قُلْ: اے محبوب! تم فرماؤ۔} یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تمہارے دین سے بدتر کوئی دین ہم نہیں جانتے۔ اس پر فرمایا گیا کہ مسلمانوں کو تو تم صرف اپنے بغض و کینہ اور دشمنی کی وجہ سے ہی برا کہتے ہو جبکہ حقیقت میں اصل بدتر تو تم لوگ ہو اور ذرا اپنے حالات دیکھ کر خود فیصلہ کر لو کہ تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہو یا مردود؟ پچھلے زمانہ میں صورتیں تمہاری مَسخ ہوئیں ، سور، بندر تم بنائے گئے ،بچھڑے کوتم نے پوجا ، اللہ تعالیٰ کی لعنت تم پر ہوئی، غضب ِ الہٰی کے مستحق تم ہوئے تو حقیقی بدنصیب اور بدتر تو تم ہواور تم ہی بدترین مقام یعنی جہنم میں جاؤ گے۔

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان:اور جب تمہارے پاس آئیں تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر اوراللہ خوب جانتا ہے جو چھپا رہے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافرہی تھے اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپا رہے ہیں۔

{وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا: اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔} یہ آیت یہودیوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے سرورِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ایمان و اخلاص کا اظہار کیا اور کفر و گمراہی کو چھپائے رکھا ۔اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اُن کے حال کی خبر دی۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۱، ۱ / ۵۰۸)

            منافق بداعتقادی کے ساتھ آتے تھے تو جیسے آتے ویسے ہی جاتے اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم عقیدت و محبت کے ساتھ آتے تو فیض کے دریا سمیٹ کر جاتے تھے۔اس سے معلوم ہو اکہ بداعتقادی کے ساتھ کسی کے پاس جانے والا کبھی اس سے فیض نہیں اٹھا سکتا۔

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان میں تم بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک بہت ہی برے کام کرتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری کے کاموں میں دوڑے جاتے ہیں۔ بیشک یہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں۔

{وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ:اور تم ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے۔} یہاں یہودیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ تم اِن یہودیوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری کے کاموں میں دوڑے جاتے ہیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں گناہ سے مراد توریت کی وہ آیات چھپانا ہے جن میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان کا بیان تھا اور زیادتی سے مراد توریت میں اپنی طرف سے بڑھا دینا ہے اورحرام خوری سے مراد وہ رشوتیں ہیں جو یہ لے کر توریت کے احکام بدل دیتے تھے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۲، ۱ / ۵۰۸)

یہودیوں کی صفات اور مسلمانوں کی حالت زار:

            ویسے ’’اِثْم‘‘ہر گناہ اور نافرمانی کوشامل ہے اور یہاں یہودیوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان پر غور کرنے کی حاجت ہے کہ ظاہری لفظی معنیٰ کے اعتبار سے گناہ ، زیادتی اور حرام خوری کے کاموں میں بھاگ کر جانا ان کی صفت بیان کی گئی ہے لیکن اب ہمارے ہاں کتنے ایسے لوگ ہیں کہ نیکی کے کام میں تو تاخیر بلکہ ترک کریں گے لیکن گناہ کے کام میں جلدی کریں گے۔ کسی کی مدد کرنے اور اسے ظلم سے بچانے میں کَنی کترا کر گزر جائیں گے لیکن ظلم و زیادتی میں اپنی قوم یا علاقے یا تحریک کے جھنڈے نیچے تَعَصُّب کے ساتھ موجود ہوں گے۔ حلال تو ان کے گلے میں اَٹکے گا لیکن جہاں حرام کی توقع ہوگی، رشوت ملے گی، سود ملے گا، خوب ناجائز تجارت کا فائدہ نظر آئے گا وہاں بھاگ کر جائیں گے۔

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تَمَدُّن میں ہنود               یہ مسلماں ہیں ! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اور اپنی حالت کو سامنے رکھتے ہوئے غور کرو کہ

کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار؟                   مَصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟

کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟ ہوگئی کس کی نِگہ طرزِ سَلف سے بیزار؟

اوراب تمہارا حال یہ ہے کہ

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں            کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ(۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: انہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے، بیشک بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن