30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًاؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ(۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تویہ اس کو ہنسی مذاق اورکھیل بنالیتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ بالکل بے عقل لوگ ہیں۔
{وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ: اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو۔} اس آیت کے بارے میں کلبی کا قول ہے کہ جب سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مُؤذن نماز کے لئے اذان کہتا اور مسلمان اٹھتے تو یہود ی ہنستے اور تمسخر کرتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مفسر سدی نے بیان کیا کہ مدینہ طیبہ میں جب مؤذن اذان میں اَشْہَدُاَنْ لآَّاِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ اور’’اَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ ‘‘ کہتا تو ایک نصرانی یہ کہا کرتا کہ ’’جل جائے جھوٹا ‘‘ایک رات اس کا خادم آگ لایا وہ اور اس کے گھر کے لوگ سورہے تھے آگ سے ایک شرارہ اُڑا اور وہ نصرانی اور اس کے گھر کے لوگ اور تمام گھر جل گیا۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۸، ۱ / ۵۰۷)
آیت’’وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے 3 مسئلے معلوم ہوئے :
(1)… نماز پنج گانہ کے لئے اذان ہونی چاہیے، اذان کا ثبوت اس آیت سے بھی ہے۔
(2)… دین کی کسی چیز کا مذاق اڑانا کفر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اذان کا مذاق اڑانے والوں کو کافر قرار دیاہے۔ ایسے ہی عالم ، مسجد، خانہ کعبہ، نماز، روزہ وغیرہا میں سے کسی کا مذاق اڑانا کفر ہے۔
(3) دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والے احمق و بے عقل ہیں جو ایسے سَفِیہانہ اور جاہلانہ حرکات کرتے ہیں۔
دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والوں کا رد:
اس آیت میں دینی چیزوں کا مذاق اڑانے والوں کا کتنا شدید رد ہے ۔ افسوس کہ جو کام یہودی اور منافق کیا کرتے تھے وہی کام مسلمان کہلانے والوں میں آتے جارہے ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، فرشتے، جنت، حوریں ، دوزخ، اس کے عذاب، قرآنی آیات، احادیث ِ نَبوی، دینی کتابوں ، دینی شَعائر، عمامہ، داڑھی، مسجد، مدرسے، دیندار آدمی، دینی لباس، دینی جملے، مقدس کلمات الغرض وہ کونسی مذہبی چیز ہے کہ جس کا اِس زمانے میں کھلے عام فلموں ، ڈراموں ، خصوصاً مزاحیہ ڈراموں ، عام بول چال، دوستوں کی مجلسوں ، دنیاوی تقریروں ، ہنسی مذاق کی نشستوں اور باہمی گپ شپ میں مذاق نہیں اُڑایا جاتا۔ افسوس کہ مسلمان کہلانے والے اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مسلمان کہلانے والوں کو داڑھی، عمامہ، مذہبی حُلیے سے نفرت ہے۔ مسلمان کہلانے والے کو اذان سن کر تکلیف ہوتی ہے۔ قرآن وحدیث کی باتیں اسے پرانی باتیں لگتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ دینی شَعائِر کا مذاق اڑانا کفر ہے اوردین کا مذاق اڑانے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْــٴَـاﰳ اتَّخَذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ (الجاثیہ :۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی پر اطلاع پائے تواسے مذاق بناتا ہے ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔
اور فرماتا ہے:
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ-قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ(۶۵)لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ(التوبہ:۶۵، ۶۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو ۔بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر۔
اور فرماتا ہے:
وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا( انعام:۷۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنالیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ان آیات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حالت پر غور کرنے اور اپنی اس روش کو تبدیل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین۔
قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُۙ-وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ(۵۹)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اے کتابیو تمہیں ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم ایمان لائے اللہپر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور اس پر جو پہلے اترا اور یہ کہ تم میں اکثر بے حکم ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ : اے اہلِ کتاب! تمہیں ہماری طرف سے یہی برا لگا ہے کہ ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا اس پر اور جو پہلے نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے ہیں اور بیشک تمہارے اکثر لوگ فاسق ہیں۔
{قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ:تم فرماؤ : اے اہلِ کتاب!۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت فرمایا کہ آپ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں سے کس کس کو مانتے ہیں ؟ اس سوال سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ مانیں تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں لیکن حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو اُس نے ہم پر نازل فرمایا اور جو حضرت ابراہیم ،حضرت اسمٰعیل ،حضرت اسحق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی اولاد پر نازل فرمایا اور جو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو دیا گیا یعنی توریت و انجیل اور جواور نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دیا گیا سب کو مانتا ہوں۔ہم انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں فرق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں۔جب یہودیوں کو معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کو بھی مانتے ہیں تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے منکر ہوگئے اور کہنے لگے جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مانے ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۹،۲ / ۳۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع