دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری جوسابقہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر نازل ہونے والی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان پر نگہبان ہے تو جب اہلِ کتاب اپنے مُقَدَّمات میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف رجوع کریں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَقرآنِ پاک کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ فرمادیں۔

{لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا:ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ بنایا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ بنایا ہے یعنی فروعی اعمال ہر ایک کے خاص اور جدا جدا ہیں جیسے نمازوں ، روزوں کی تعداد اور اس طرح کے احکام جدا جدا ہیں لیکن اصل دین سب کا ایک ہے یعنی توحید و رسالت، عقیدہ آخرت، یونہی بنیادی اَخلاقیات سب کی مشترک ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ ایمان حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانہ سے یہی ہے کہ ’’ لَآاِلٰہَ اِلَّااللہُ‘‘ کی شہادت اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے آیا اس کا اقرار کرنا جبکہ شریعت ہر اُمت کی خاص ہے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱ / ۵۰۱)

{وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً: اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنادیتا۔} ارشاد فرمایا کہ اگر اللہتعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنادیتا مگر اس نے ایسا نہیں کیاتا کہ جو شریعتیں اس نے تمہیں دی ہیں ان میں تمہیں آزمائے اور امتحان میں ڈالے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ ہر زمانہ کے مناسب جو احکام دیئے کیا تم اُن پر اس یقین و اعتقاد کے ساتھ عمل کرتے ہو کہ ان کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت(مرضی) سے ہے اور اس میں بہت سی حکمتیں اور دنیاوی اور اُخروی فوائد و منافع ہیں اور یا تم حق کو چھوڑ کر نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہو۔ (ابو سعود،  المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۸، ۲ / ۵۱)

{فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ: تو نیکیوں کی طرف دوسروں سے آگے بڑھ جاؤ۔} قرآنِ پاک کا حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ جن معاملات سے انسان کی دنیا و آخرت کا کوئی قابلِ قبول فائدہ متعلق نہیں ہے ان میں بحث و مقابلہ کرنے کی بجائے انہیں رضائے الہٰی اور بھلائی کے کاموں میں مقابلہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی اسی انداز کی ایک جھلک ہے کہ شریعتوں کے اختلاف کی وجوہات میں فلسفیانہ بحثیں کرنے اور بال کی کھال اتارنے کی بجائے نیکیوں کی طرف آنے کی دعوت دی۔ اس میں ہماری بہت سی چیزوں کی اصلاح ہے۔ آج کل حالت یہ ہے کہ ہر محاذ اور میدان میں فضولیات پر بحث و مباحثہ اور پانی سے مکھن نکالنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں اور کرنے کے کاموں کی طرف توجہ کم ہی ہوتی ہے۔ خواہ مخواہ کی باریکیاں نکالنے کو مہارت اور قابلیت شمار کیا جاتا ہے اگرچہ عملی طور پر ایسے آدمی کی حالت نہایت گری ہوئی ہو۔ بحث وہاں کی جائے جہاں اس سے کوئی فائدہ نظر آئے، صرف وقت گزاری، لوگوں کو متوجہ رکھنے، طلب ِ شہرت اور قابلیت دکھانے کیلئے اپنا اور لوگوں کا وقت ضائع کرنااور عملی دنیا میں تنکا تک نہ توڑنا عقل، دین اور اسلام سب کے منافی ہے۔ اس نصیحت کی روشنی میں بہت سے لوگوں کو اپنے طرزِ عمل پر نظر کرنے کی حاجت ہے۔ سمجھنے کیلئے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ایک فرمان ہی کافی ہے’’مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَالَایَعْنِیْہِ‘‘  آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ فضول چیزوں کو چھوڑ دے۔(ترمذی، کتاب الزہد، ۱۱-باب، ۴ / ۱۴۲، الحدیث: ۲۳۲۴)

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَؕ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ اے مسلمان اللہ کے اتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزش نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اترا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو جان لو کہ اللہ  ان کے بعض گناہوں کی سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے اور بیشک بہت آدمی بے حکم ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ( اے مسلمان! ) یہ کہ ان (لوگوں ) کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو اور ان سے بچتے رہو کہ کہیں وہ تمہیں اس کے بعض احکام سے ہٹانہ دیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو جان لو کہ اللہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا پہنچانا چاہتا ہے اور بیشک بہت سے لوگ نافرمان ہیں۔

{وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ: اور یہ کہ اے مسلمان ان (لوگوں ) کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔} یہاں مسلمان فیصلہ کرنے والوں کو فرمایا کہ اہلِ کتاب کے درمیا ن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نازل فرمائے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ کرو اور اس بات سے بچتے رہو کہ یہ لوگ تمہیں کسی غلطی کے مُرْتَکِب نہ کروادیں اور اگر یہ اہلِ کتاب لوگ قرآن سے اِعراض کریں تو سمجھ جاؤ کہ اللہ  تعالیٰ انہیں ان کے گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے جو دنیا میں قتل و گرفتاری اور جلاوطنی کے ساتھ ہوگی ۔ جبکہ ویسے تمام گناہوں کی سزا آخرت میں دے گا۔

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَؕ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور یقین والوں کے لیے اللہ سے بہتر کس کا حکم ہوسکتا ہے؟

{اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ: تو کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں۔} اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ بنی نَضِیْر اور بنی قریظہ یہودیوں کے دو قبیلے تھے، ان میں آپس میں قتل و غارتگری جاری رہتی تھی ۔ جب نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو یہ لوگ اپنا مقدمہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں لائے اور بنی قریظہ نے کہا کہ’’ بنی نَضِیْر ہمارے بھائی ہیں ہم وہ ایک نسل سے ہیں ، ایک دین رکھتے ہیں اور ایک کتاب (توریت کو) مانتے ہیں لیکن اگر بنی نضیر ہم میں سے کسی کو قتل کریں تو وہ اس کے خون بہا میں ہمیں ستر وَسْق (ایک بڑا وزن) کھجوریں دیتے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی اُن کے کسی آدمی کو قتل کرے تو ہم سے اس کے خون بہا میں ایک سو چالیس وسق لیتے ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کا فیصلہ فرما دیں۔تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ میں حکم دیتا ہوں کہ دونوں قبیلوں کے افراد کا خون برابر ہے ،کسی کو دوسرے پر فضیلت نہیں۔ اس پر بنی نضیر بہت برہم ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فیصلہ سے راضی نہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے دشمن ہیں ، ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۵۰، ۱ / ۵۰۲)

                 اور فرمایا گیا کہ کیا جاہلیت کی گمراہی اور ظلم کا حکم چاہتے ہیں۔ جو حکم حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بڑھ کر کس کا حکم اچھا ہوسکتا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن