30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعض مفسرین نے اس کے معنیٰ یہ بیان کئے ہیں کہ جو صاحبِ حق قصاص کومعاف کردے تو یہ معافی اس کے لئے کفارہ ہے۔ (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۲۸۷)
دونوں تفسیروں کے اعتبار سے ترجمہ مختلف ہوجائے گا۔ تفسیراحمدی میں ہے یہ تمام قصاص جب ہی واجب ہونگے جب کہ صاحبِ حق معاف نہ کرے اگروہ معاف کردے تو قصاص ساقط ہو جائے گا۔(تفسیر احمدی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۳۵۹)
وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ۪-وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌۙ-وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ(۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم ان نبیوں کے پیچھے ان کے نشانِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت اور نصیحت پرہیزگاروں کو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے ان نبیوں کے پیچھے ان کے نقشِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اُس تورات کی تصدیق کرتے ہوئے جو اس سے پہلے موجود تھی اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا اور وہ (انجیل) اس سے پہلے موجود تورات کی تصدیق فرمانے والی تھی اور پرہیز گاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت تھی۔
{وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ: اور ہم نے ان نبیوں کے پیچھے ان کے نقشِ قدم پر بھیجا ۔} توریت کے احکام بیان کرنے کے بعد انجیل کے احکام کا ذکر شروع ہوا اور بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توریت کی تصدیق فرمانے والے تھے کہ تورات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نازل کردہ کتاب ہے اور توریت کے منسوخ ہونے سے پہلے اس پر عمل واجب تھا، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت میں توریت کے بعض احکام منسوخ کردئیے گئے۔ اس کے بعد انجیل کی شان بیان فرمائی گئی کہ اس میں ہدایت اور نور تھا اور ہدایت اور نصیحت تھی ۔ پہلی جگہ ہدایت سے مراد ضلالت و جہالت سے بچانے کے لیے رہنمائی کرنا ہے اور دوسری جگہ ہدایت سے سیدُ الانبیاء، حبیب کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کی بشارت مراد ہے جو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت کی طرف لوگوں کی رہنمائی کا سبب ہے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۶، ۱ / ۵۰۰)
وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور چاہئے کہ انجیل والے حکم کریں اس پر جو اللہ نے اس میں اتارا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انجیل والوں کو بھی اسی کے مطابق حکم کرنا چاہیے جو اللہ نے اس میں نازل فرمایا ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تووہی لوگ نافرمان ہیں۔
{وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ: اور انجیل والوں کو حکم کرنا چاہیے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ انجیل والوں کو بھی اسی کے مطابق حکم کرنا چاہیے جو اللہ عَزَّوَجَلَّنے انجیل میں نازل فرمایا ہے یعنی سیدُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانا چاہیے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کی تصدیق کرنی چاہیے کیونکہ انجیل میں اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جب ہم نے عیسائیوں کو انجیل عطا کی تواس وقت ان کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ان احکام پر عمل کریں جو انجیل میں مذکور ہیں۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۷، ۱ / ۵۰۰، ملخصاً)
انجیل پر عمل کرنے سے متعلق ایک اعتراض کا جواب:
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآنِ مجید کے نزول کے بعد انجیل پر عمل کرنے کے حکم کی کیا تَوجِیہ ہو گی ؟ تواس کے چند جوابات ہیں :
(1)…انجیل میں تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت کے جو دلائل موجود ہیں اہلِ انجیل کو چاہئے کہ وہ ان دلائل کے مطابق ایمان لے آئیں۔
(2)…اہلِ انجیل ان احکام پر عمل کریں جن کوقرآن نے منسوخ نہیں کیا۔
(3)…انجیل کے احکام پر عمل کرنے سے مراد یہ ہے کہ انجیل میں تحریف نہ کریں جس طرح یہود یوں نے تورات میں تحریف کر دی تھی۔(تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۴۷، ۴ / ۳۷۱)
لیکن تحقیق یہی ہے کہ یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے انجیل کو نازل کیا تھا اور نزولِ قرآن کے بعد قرآنِ مجید کے علاوہ کسی آسمانی کتاب پر عمل جائز نہیں ہے،اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین مقبول نہیں ہے۔
وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّؕ-لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِؕ-اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ(۴۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اتارے سے اور اے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے حبیب !ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری جو پہلی کتابوں کی تصدیق فرمانے والی اور ان پر نگہبان ہے تو ان (اہلِ کتاب) میں اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرو اور اے سننے والے ! اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کران کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر (اس نے ایسا نہیں کیا) تا کہ جو (شریعتیں ) اس نے تمہیں دی ہیں ان میں تمہیں آزمائے تو نیکیوں کی طرف دوسروں سے آگے بڑھ جاؤ، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمہیں بتادے گا وہ بات جس میں تم جھگڑتے تھے۔
{وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ: اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی۔} تورات و انجیل کا تذکرہ کرنے کے بعد اب قرآنِ عظیم کا تذکرہ ہورہا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع