دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

قتل کی جائز صورتیں :

             قتل کی شدید ممانعت کے ساتھ چند صورتوں کو اس سے جدا رکھا ہے اورآیتِ مبارکہ میں بیان کردہ وہ صورتیں یہ ہیں :

(1)…قاتل کو قصاص میں قتل کرنا جائز ہے۔

(2)…زمین میں فساد پھیلانے والے کو قتل کرنا جائز ہے اس کی تفصیل اگلی آیت میں موجودہے۔

            اس کے علاوہ مزید چند صورتوں میں شریعت نے قتل کی اجازت دی ہے۔

            (1)شادی شدہ مرد یا عورت کو زنا کرنے پر بطورِ حد رجم کرنا، (2) مرتد کو قتل کرنا۔ (3) باغی کو قتل کرنا۔

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے یا انہیں سولی دیدی جائے یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں یا (ملک کی سر) زمین سے (جلا وطن کر کے) دور کردئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

{اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ:جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔} اس سے پچھلی آیات میں قتل کی ایک نَوعِیَّت یعنی ناجائز قتلوں کا ذکر کیا گیا اب دوسری نوعیت یعنی جائز قتلوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ شانِ نزول : عُرَینہ قبیلے کے کچھ لوگ مدینۂ منورہ میں حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، انہیں وہاں کی آب و ہوا موافق نہ آئی،   سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان سے فرمایا: صدقہ کی اونٹنیوں کی چراگاہ میں جاؤ اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو، انہوں نے اسی طرح کیا تو تندرست ہو گئے۔ پھر وہ مرتد ہو گئے، چرواہوں پرحملہ کر کے انہیں قتل کر دیا اور اونٹ لے کر بھاگ گئے۔ تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس واقعے کی خبر پہنچی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے پیچھے لوگوں کو بھیجا جو انہیں گرفتار کر کے لے آئے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دئیے،ا ن کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں پھر انہیں تپتے ہوئے میدان میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب قصۃ عکل وعرینۃ، ۳ / ۷۸، الحدیث: ۴۱۹۲، تفسیرات احمدیہ، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۳۳، ص۳۵۰)

ڈاکو کی سز اکی شرائط:

            اس آیتِ کریمہ میں راہزن یعنی ڈاکو کی سز اکا بیان ہے۔ راہزن جس کے لئے شریعت کی جانب سے سزا مقرر ہے اس میں چند شرطیں ہیں :

(1)… ان میں اتنی طاقت ہو کہ راہ گیر ان کا مقابلہ نہ کرسکیں اب چاہے ہتھیار کے ساتھ ڈاکہ ڈالا یا لاٹھی لے کر یا پتھر وغیرہ سے۔

(2)… بیرونِ شہر راہزنی کی ہو یا شہر میں رات کے وقت ہتھیار سے ڈاکہ ڈالا۔

(3)… دارُ الاسلام میں ہو۔

(4)… چوری کی سب شرائط پائی جائیں۔

(5)… توبہ کرنے اور مال واپس کرنے سے پہلے بادشاہِ اسلام نے ان کو گرفتار کرلیا ہو۔(عالمگیری، کتاب السرقۃ، الباب الرابع فی قطاع الطریق، ۲ / ۱۸۶)

ڈاکو کی 4سزائیں :

            جن میں یہ سب شرطیں پائی جائیں ان کے لئے قرآنِ پاک میں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں

(1)…انہیں قتل کر دیا جائے۔

(2)…سولی چڑھا دیا جائے۔

(3)…دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔

(4)… جلا وطن کر دیا جائے، ہمارے ہاں اس سے مراد قید کر لینا ہے۔

            اس سزا کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ڈاکوؤں نے کسی مسلمان یا ذمی کو قتل کیا اور مال نہ لیا تو انہیں قتل کیا جائے ۔ اگر قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا تو بادشاہِ اسلام کو اختیار ہے کہ ہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کر ڈالے یا سولی دیدے یاہاتھ پاؤں کاٹ کر قتل کرے پھر اس کی لاش کو سولی پر چڑھا دے یا صرف قتل کردے یا قتل کرکے سولی پر چڑھا دے یا فقط سولی دیدے۔ اگر قتل نہیں کیا صرف مال لوٹا تو ان کا دایاں ہاتھ ا ور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر نہ مال لوٹا نہ قتل کیا صرف ڈرایا دھمکایا تو اس صورت میں انہیں قید کر لیا جائے یہاں تک کہ صحیح توبہ کر لے ۔ (عالمگیری، کتاب السرقۃ، الباب الرابع فی قطاع الطریق، ۲ / ۱۸۶، در مختار، کتاب السرقۃ، باب قطع الطریق، ۶ / ۱۸۱-۱۸۳، ملخصاً)

اسلامی سزاؤں کی حکمت:

             اسلا م نے ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف رکھی ہے، چھوٹے جرم کی سزا ہلکی اور بڑے کی اس کی حیثیت کے مطابق سخت سزا نافذ کی ہے تاکہ زمین میں امن قائم ہو اور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن