دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

{قَالَ رَجُلٰنِ: دو آدمیوں نے کہا۔} بنی اسرائیل نے بزدلی دکھا دی تھی مگر دو حضرات کالب بن یوقنا اور یوشع بن نون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے جرأت مندی کا مظاہرہ کیا۔ یہ دونوں حضرات اُن سرداروں میں سے تھے جنہیں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جَبّارین قوم کا حال دریافت کرنے کے لئے بھیجا تھا اور انہوں نے حالات معلوم کرنے کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرمان کے مطابق جبارین کا حال صرف حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کیاتھا اور دوسروں کو نہ بتایا تھا۔ ان دونوں حضرات نے قوم کو جوش دلانے کیلئے فرمایا کہ اے لوگو! شہر کے دروازے سے ان جبارین پر داخل ہوجاؤ، اگر تم ہمت کرکے دروازے میں داخل ہوجاؤ تو تم ہی غالب ہوگے اور اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مدد کا وعدہ کیا ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہوناہے۔ تم جبار ین کے بڑے بڑے جسموں سے خوف نہ کھاؤ، ہم نے اُنہیں دیکھا ہے اُن کے جسم بڑے ہیں اور دِل کمزور ہیں ان دونوں نے جب یہ کہا تو بنی اسرائیل بہت برہم ہوئے اور بجائے جوش میں آنے کے اُلٹا انہی کے خلاف ہوگئے اور انہوں نے چاہا کہ ان پرپتھر برسادیں۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (پھر قوم نے ) کہا: اے موسیٰ! بیشک ہم تو وہاں ہرگز کبھی نہیں جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ اور آپ کا رب دونوں جاؤ اور لڑو ،ہم تویہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔

{اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا: بیشک ہم تو وہاں ہرگزکبھی نہیں جائیں گے۔} بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ جہاد میں جانے سے صاف انکار کردیا۔

صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی افضلیت:

            اس سے معلوم ہوا کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ والوں سے کہیں افضل ہیں کیونکہ ان حضرات نے کسی سخت موقعہ پر بھی حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ایسا رُوکھا جواب نہ دیا بلکہ اپنا سب کچھ حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قربان کر دیا جیسے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام نبیوں کے سردار ہیں ایسے ہی حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمتمام نبیوں کے صحابہ کے سردار ہیں۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی جانثاری کے بارے میں جاننے کے لئے یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ جنگِ بدر کے موقع پر سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے مشورہ فرمایا تو حضرت سعد بن عبادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہماری رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم ارشاد فرمائیں تو ہم اس میں کود جائیں گے۔     (مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ البدر، ص۹۸۱، الحدیث: ۸۳(۱۷۷۹))

            انصار کے ایک معزز سردار حضرت مقداد بن اسود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ َکا خدا عَزَّوَجَلَّ جا کر لڑیں بلکہ ہم لوگ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دائیں سے، بائیں سے،آگے سے، پیچھے سے لڑیں گے۔ یہ سن کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چہرۂ انور خوشی سے چمک اٹھا۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب قول اللہ تعالٰی: اذ تستغیثون ربکم۔۔۔ الخ، ۳ / ۵، الحدیث: ۳۹۵۲)

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَاوَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: موسیٰ نے عرض کی کہ اے رب میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: موسیٰ نے عرض کی : اے میرے رب! مجھے صرف اپنی جان اور اپنے بھائی کا اختیار ہے تو تو ہمارے اور نافرمان قوم کے درمیان جدائی ڈال دے۔

{قَالَ رَبِّ: موسیٰ نے عرض کی : اے میرے رب!} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کے جواب سے غمزدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی کہ ’’ مولا! مجھے صرف اپنی جان اور اپنے بھائی ہارون کا اختیار ہے، تو تو ہمارے اور نافرمان قوم کے درمیان جدائی ڈال دے اور ہمیں ان کی صحبت اور قرب سے بچا اوریہ کہ ہمارے اوراُن کے درمیان فیصلہ فرمادے۔

آیت ’’قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے 3 مسئلے معلوم ہوئے:

(1)… بروں سے علیحدگی اچھی چیز ہے جس کی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دعا مانگی۔

(2)… بروں کی برائی سے نیک بھی بعض اوقات مشقت میں پڑ جاتے ہیں جیسا کہ ان نافرمانوں کی وجہ سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی مقامِ تیہ میں قیام فرمانا پڑا اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کیلئے سہولت مُیَسَّر فرما دی تھی۔

(3)… اچھوں کی صحبت سے برے بھی فیض حاصل کرلیتے ہیں چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی برکت سے بنی اسرائیل کو مقامِ تیہ میں مَن و سَلْویٰ ملا، پتھر سے پانی کے بارہ چشمے ملے اور وہ لباس عطا ہوا جو اتنے عرصہ تک نہ گلانہ میلا ہوا۔

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةًۚ-یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا تو وہ زمین ان پر حرام ہے چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں تو تم ان بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اللہ نے) فرمایا: پس چالیس سال تک وہ زمین ان پر حرام ہے یہ زمین میں بھٹکتے پھریں گے تو (اے موسیٰ!) تم (اس) نافرمان قوم پر افسردہ نہ ہو۔

{فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً: پس چالیس سال تک وہ زمین ان پر حرام ہے۔} بنی اسرائیل کی بزدلی اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حکم پر عمل نہ کرنے کی سزا بنی اسرائیل کو یہ ملی کہ ان پر مقدس سرزمین چالیس سال تک کیلئے حرام کردی گئی، یعنی بنی اسرائیل اب مقدس سرزمین میں نہ داخل ہوسکیں گے۔ وہ زمین جس میں یہ لوگ بھٹکتے پھرے تقریباً ستائیس میل تھی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن