30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنے آپ کو اعمال سے مُستَغنی جاننا عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ آج کل بعض اہلِ بیت سے محبت کے دعوے دار حضرات اور بعض جاہل فقیروں کا یہی عقیدہ ہے ۔ ایسا عقیدہ کفر ہے کیونکہ قرآنِ کریم نے ہر جگہ ایمان کے ساتھ اعمالِ صالحہ کا ذکر فرمایا۔
{فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْؕ:پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں دیتا ہے ؟} یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ ہم چالیس دن دوزخ میں رہیں گے یعنی بچھڑے کی پوجا کی مدت کے برابر۔ اس آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم بیٹوں کی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پیارے ہو تو تمہیں یہ سزا بھی کیوں ملے گی یعنی اس بات کا تمہیں بھی اقرار ہے کہ گنتی کے دن تم جہنّم میں رہو گے تو سوچو کوئی باپ اپنے بیٹے کو یا کوئی شخص اپنے پیارے کو آگ میں جلاتا ہے! جب ایسا نہیں تو تمہارے دعوے کا جھوٹا اور باطل ہونا تمہارے اقرار سے ثابت ہے۔
یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ٘-فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اے کتاب والو بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول تشریف لائے کہ تم پر ہمارے احکام ظاہر فرماتے ہیں بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا کہ تم کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی اور ڈر سنانے والا نہ آیا تو یہ خوشی اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں اور اللہ کو سب قدرت ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے کتاب والو! بیشک تمہارے پاس ہمارے رسول تشریف لائے ، وہ رسولوں کی تشریف آوری بند ہوجانے کے عرصہ بعد تم پر ہمارے احکام ظاہر فرمارہے ہیں تا کہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس توکوئی خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والاآیا ہی نہیں تو بیشک تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والاتشریف لاچکا اوراللہ ہرشے پر قادر ہے۔
{یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ: اے اہلِ کتاب!} اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب کو اپنے عظیم ترین احسان کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے زمانہ تک پانچ سو انہتر (569) برس کی مدت کسی بھی نبی کی تشریف آوری سے خالی رہی، اس کے بعد سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری تو ایسی نعمت ہے جیسے شدید پیاس میں خوشگوار، جاں بخش ٹھنڈا پانی یا شدید گرمی ، تپش اور حَبْس میں خوشگوار بارش، تو ایسی انتہائی حاجت کے وقت تم پر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت بھیجی گئی تو تمہیں اس کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ اب تو تمہارے پاس یہ کہنے کا موقع بھی نہیں رہا کہ ہمارے پاس کوئی تَنْبِیہ کرنے والے تشریف نہیں لائے تھے۔
زمانہ فِتْرَت سے کیا مراد ہے ؟
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے درمیانی زمانے کا نام’’ زمانۂ فترت‘‘ ہے، اس زمانہ کے لوگوں کو صرف عقیدہِ توحید کافی تھا جیسے حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے والدَین کریمَیْن۔
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ﳓ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے اور تمہیں بادشاہ کیا اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب اس نے تم میں سے انبیاء پیدا فرمائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ عطا فرمایا جو سارے جہان میں کسی کو نہ دیا۔
{وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیَٰ کا شکر اداکرنے کی تلقین فرمائی اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں کا ذکر فرمایا اور بطورِ خاص تین نعمتیں یہاں بیان فرمائیں :
(1)…بنی اسرائیل میں انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے۔
(2)…بنی اسرائیل کو حکومت و سلطنت سے نوازا گیا۔ بنی اسرائیل آزاد ہوئے اور فرعونیوں کے ہاتھوں میں قید ہونے کے بعد اُن کی غلامی سے نجات پائی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مُلُوک یعنی بادشاہ سے مراد ہے خادموں اور سواریوں کا مالک ہونا۔ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی خادم اور عورت اور سواری رکھتا وہ مَلِک کہلایا جاتا ہے۔(در منثور، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۲۰،۳ / ۴۶)
(3)…بنی اسرائیل کو وہ نعمتیں ملیں جو کسی دوسری قوم کو نہ ملیں جیسے من و سلویٰ اترنا، دریا کا پھٹ جانا، پانی سے چشموں کا جاری ہوجانا وغیرہا۔
اس آیت میں بیان کی گئی پہلی نعمت سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کی تشریف آوری نعمت ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو اس کے ذکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ بَرَکات و ثمرات کا سبب ہے۔ اس سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَکامیلاد مبارک منانے اور اس کا ذکر کرنے کی واضح طور پر دلیل ملتی ہے کہ جب انبیاءِ بنی اسرائیل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تشریف آوری نعمت ہے اور اسے یاد کرنے کا حکم ہے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری تو اس سے بڑھ کر نعمت ہے کہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا(آل عمران :۱۶۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں عظیم رسول مبعوث فرمایا۔
لہٰذا اسے یاد کرنے کا حکم بدرجہ اولیٰ ہوگا۔
اِقتِدار ملنے پر اللہ تعالٰی کا شکر اد اکرنے کا بہترین طریقہ:
اس آیت میں بیان کی گئی دوسری نعمت سے معلوم ہوا کہ حکومت و سلطنت اور اقتدار بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے شکر کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع