زمانہ فِتْرَت سے کیا مراد ہے ؟
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

شکنی کی تو ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک کے لئے دشمنی اور بغض ڈال دیا چنانچہ حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ جب نصاریٰ نے کتابِ الہٰی (انجیل) پر عمل کرنا ترک کیا اور رسولوں کی نافرمانی کی، فرائض ادا نہ کئے اورحدود ِ الہٰی کی پرواہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان عداوت ڈال دی۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۴، ۱ / ۴۷۷)

            جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے کو تباہ کرنے لگے چنانچہ دو عالمی عظیم جنگیں اور ان کی تباہیاں انہی صاحبان کی برکت سے ہوئیں۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ﱟ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اے کتاب والو بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فرماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چھپا ڈالی تھیں اور بہت سی معاف فرماتے ہیں بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے اہلِ کتاب! بیشک تمہارے پاس ہمارے رسول تشریف لائے، وہ تم پر بہت سی وہ چیزیں ظاہر فرماتے ہیں جو تم نے (اللہ کی) کتاب سے چھپا ڈالی تھیں اور بہت سی معاف فرما دیتے ہیں ،بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آگیا اور ایک روشن کتاب۔

{یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ: اے اہلِ کتاب۔}یہاں یہودیوں اور عیسائیوں سب سے خطاب ہے۔ فرمایا گیا کہ اے اہلِ کتاب! بیشک تمہارے پاس ہمارے رسول محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے آئے ، وہ تم پر بہت سی وہ چیزیں ظاہر فرماتے ہیں جو تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب سے چھپا ڈالی تھیں جیسے رَجَم کی آیات اورسرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوصاف جو تم نے چھپا دئیے تھے لیکن حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بیان فرمادئیے اور یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا معجزہ ہے۔ تمہاری چھپائی ہوئی چیزیں بیان کرنے کے ساتھ بہت سی باتیں یہ نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمعاف فرما دیتے ہیں اور ان کا ذکر بھی نہیں کرتے اور نہ ان پر مؤاخذہ فرماتے ہیں کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اسی چیز کا ذکر فرماتے ہیں جس میں مَصلحت ہو۔ یہ سب حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان کا بیان ہے۔

{قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ : بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آگیا۔} اس آیت ِمبارکہ میں نور سے کیا مراد ہے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ذات والا صفات ہے۔

             فقیہ ابو اللیث سمرقندی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ وَھُوَ مُحَمَّدٌ صلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم وَالْقُرْآنُ‘‘ یعنی نور سے مراد محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآن ہیں۔(سمرقندی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۱ / ۴۲۴)

 امام ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِلکھتے ہیں ’’ یَعْنِیْ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَقِیْلَ اَ لْاِسْلَامُ ‘‘ یعنی نور سے مراد محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ،اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اسلام ہے۔(تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۲ / ۱۷)

            علامہ خازن رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یَعْنِیْ مُحَمَّدًا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم اِنَّمَا سَمَّاہُ اللہُ نُوْرًا لِاَنَّہٗ یُھْتَدٰی بِہٖ کَمَا یُھْتَدٰی بِالنُّوْرِ فِیْ الظُّلَامِ ‘‘ یعنی نور سے مراد محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نور اس لیے فرمایا کہ جس طرح اندھیرے میں نور کے ذریعے ہدایت حاصل ہوتی ہے اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذریعے بھی ہدایت حاصل ہوتی ہے۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۱ / ۴۷۷)

             علامہ جلا ل الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لفظ’’نُورْ‘‘ کی تفسیر لکھتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ وَھُوَ النَّبِیُّ صلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم‘‘نور سے مراد نبیٔ  کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں۔(جلالین، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۹۷)

            علامہ صاوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’وَ سُمِّیَ نُوْرًا لِاَنَّہٗ یُنَوِّرُ الْبَصَائِرَ وَ یَھْدِیْھَا لِلرَّشَادِ وَ لِاَنَّہٗ اَصْلُ کُلِّ نُوْرٍ حِسِّیٍّ وَ مَعْنَوِیٍّ‘‘یعنی حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام اس آیت میں نور رکھا گیا اس لیے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بصیرتوں کو روشن کرتے ہیں اور انہیں رُشد و ہدایت فرماتے ہیں اور اس لیے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر نور حِسّی (وہ نور جسے دیکھا جا سکے ) اور مَعْنَوِ ی (جیسے علم وہدایت )کی اصل ہیں۔(تفسیر صاوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۲ / ۴۸۶)

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’اَلنُّوْرُ وَالْکِتَابُ ھُوَ الْقُرْآنُ، وَھٰذَا ضَعِیْفٌ لِاَنَّ الْعَطْفَ یُوْجِبُ الْمُغَایَرَۃَ بَیْنَ الْمَعْطُوْفِ وَالْمَعْطُوْفِ عَلَیْہِ‘‘ یعنی یہ قول کہ نور اور کتاب دونوں سے مراد قرآن ہے یہ ضعیف ہے کیونکہ حرف عَطف مَعطوف و معطوف عَلیہ میں مُغایَرت (یعنی ایک دوسرے کاغیر ہونے ) کو مُسْتَلْزِم ہے ۔ (تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴ / ۳۲۷)

            علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ وَھُوَ نُوْرُ الْاَنْوَارِ وَالنَّبِیُّ الْمُخْتَارُصلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم‘‘ یعنی اس نور سے مراد تمام نوروں کے نور، نبی مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ذات ہے۔ (روح المعانی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۵ / ۳۶۷)

            علامہ ملا علی قاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’وَ اَیُّ مَانِعٍ مِنْ اَنْ یُجْعَلَ النَّعْتَانِ لِلرَّسُوْلِ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فَاِنَّہٗ نُوْرٌعَظِیْمٌ لِکَمَالِ ظُھُوْرِہٖ بَیْنَ الْاَنْوَارِ وَ کِتَابٌ مُّبِیْنٌ حَیْثُ اَنَّہٗ جَامِعٌ لِجَمِیْعِ الْاَسْرَارِ وَمُظْھِرٌ لِلْاَحْکَامِ وَالْاَحْوَالِ وَالْاَخْبَارِ‘‘ یعنی اور کون سی رکاوٹ ہے اس بات سے کہ دونوں نعتیں یعنی نور اور کتابِ مبین رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لیے ہوں بے شک حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نورِ عظیم ہیں انوارمیں ان کے کمال ظہور کی وجہ سے اور حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کتاب مبین ہیں اس حیثیت سے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جمیع اسرار کے جامع ہیں اور احکام و احوال و اخبار کے مُظْہِر ہیں۔(شرح شفا، القسم الاول، الباب الاول فی ثناء اللہ تعالٰی علیہ۔۔۔ الخ، الفصل الاول، ۱ / ۵۱)

             بلکہ خود رسولِ اکرم <

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن