30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حقوق العباد وغیرہ سب داخل ہیں۔
ترغیب کیلئے ایک حدیثِ مبارک پیش کی جاتی ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’میں ایک سفر میں رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ تھا، ایک روز چلتے چلتے میں آپ کے قریب ہو گیا اور عرض کی: یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جو مجھے جنت میں داخل کرے اور جہنم سے دور رکھے۔ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ا رشاد فرمایا: تو نے مجھ سے ایک بہت بڑی بات کا سوال کیا البتہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان فرما دے اس کے لئے آسان ہے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیتُ اللہ شریف کا حج کرو۔ پھر ارشاد فرمایا:کیا میں تمہیں نیکی کے دروازے نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو ایسے بجھا (یعنی مٹا) دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا تا ہے اور رات کے درمیانی حصے میں انسان کا نماز پڑھنا (بھی گناہوں کو مٹا دیتا ہے) پھر یہ آیت ’’تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ‘‘ (ترجمہ: ان کی کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں ) سے لے کر’’یَعْمَلُوْنَ ‘‘ تک تلاوت فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایاـ: میں تمہیں ساری چیزوں کاسر، ستون اور کوہان کی بلندی نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کی :ہاں یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ارشاد فرمایا: تمام چیزوں کا سر اسلام ہے اور اس کا ستون نماز اور کوہان کی بلندی جہاد ہے۔ پھر ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں۔ میں نے عرض کی: کیوں نہیں یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’ اسے روکو۔ میں نے عرض کی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے نبی! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا زبانی گفتگو پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ ارشاد فرمایا ’’تیری ماں تجھے روئے! لوگوں کو اوندھے منہ جہنم میں ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتی ( یعنی گفتگو) گراتی ہے(ترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی حرمۃ الصلاۃ، ۴ / ۲۸۰، الحدیث: ۲۶۲۵)۔[1]
{وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور جنہوں نے کفر کیا۔}اس آیت سے معلوم ہوا کہ دائمی جہنمی صرف کافر ہیں جبکہ مسلمان ہمیشہ کے لئے جہنم میں نہ رہیں گے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠(۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دیئے اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کواللہ ہی پر بھروسہ چاہئے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو جب ایک قوم نے ارادہ کیا کہ تمہاری طرف اپنے ہاتھ دراز کریں تو اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دئیے اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
{اِذْ هَمَّ قَوْمٌ: جب ایک قوم نے ارادہ کیا۔} اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک منزل میں قیام فرمایا، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جدا جدا درختوں کے سائے میں آرام کرنے لگے۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی تلوار ایک درخت پرلٹکادی ۔ایک اَعرابی موقع پا کر آیا اور چھپ کر اس نے تلوار لی اور تلوار کھینچ کر حضورِاقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہنے لگا ،آپ کومجھ سے کون بچائے گا ؟ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ‘‘۔ اس اعرابی نے دو یا تین مرتبہ یہ کہا کہ آپ کو مجھ سے کون بچائے گا، ہر بار اسے یہی جواب ملا کہ ’’اللہ‘‘ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے اس کے ہاتھ سے تلوار گرا دی اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے پکڑ کر فرمایا ’’اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے عرض کی ’’مجھے کوئی نہیں بچا سکتا۔ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو بلوایا اور انہیں (اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ) اس اعرابی کی حرکت کے بارے میں خبر دی، پھررحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے معاف فرما دیا۔ (تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۱،۴ / ۳۲۲)
وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ-وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًاؕ-وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْؕ-لَىٕنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے اور اللہ نے فرمایا بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہکو قرض حسن دو توبیشک میں تمہارے گناہ اتار دوں گا اور ضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں ، پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے اور اللہ نے فرمایا: بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو توبیشک میں تم سے تمہارے گناہ مٹا دوں گا اور ضرور تمہیں ان باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تو اس (عہد) کے بعد تم میں سے جس نے کفر کیا تو وہ ضرور سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔
{وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ: اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔} آیت کا مفہوم سمجھنے کے لئے یہ واقعہ سمجھ لینا مفید ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان کی قوم کو مقدس سرزمین یعنی شام کا وارث بنائے گا جس میں کنعانی جَبّار رہتے تھے۔ فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکمِ الہٰی ہوا کہ بنی اسرائیل کو اَرضِ مُقَدَّسہ (بیتُ المقدس) کی طرف لے جائیں ، میں نے اس کو تمہارے لئے رہائش بنایا ہے ،تو وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں اُن سے جہاد کرو، میں تمہاری مدد فرماؤں گا اور اے موسیٰ! تم اپنی قوم کے ہرہر گروہ میں سے ایک ایک سردار بناؤ، اس طرح بارہ سردار مقرر کرو جن میں سے ہر ایک اپنی قوم کے حکم ماننے اور عہد پورا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ
[1] … نیک اعمال میں رغبت اور زبان کی حفاظت کا جذبہ پانے کے لئے "دعوت اسلامی" کے ساتھ وابستہ ہوجانا چاہئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع