30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤ ں دھوؤ اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو اور اگر تم بیمار یا سفر میں ہو یا تم میں کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب تم نماز کی طرف کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤ ں دھولو اور اگر تم بے غسل ہو تو خوب پاک ہوجاؤ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیتُ الخلاء سے آیا ہویا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہواور ان صورتوں میں پانی نہ پاؤ توپاک مٹی سے تیمم کرلو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرلو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب پاک کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے تاکہ تم شکر ادا کرو۔
{اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ: جب نماز کی طرف کھڑے ہونے لگو۔} آیتِ مبارکہ میں وضو اور تیمم کا طریقہ اور ان کی حاجت کب ہوتی ہے اس کا بیان کیا گیا ہے۔
وضو کے چار فرض ہیں : (1) چہرہ دھونا۔ (2) کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کا دھونا۔ (3)چوتھائی سر کا مسح کرنا۔ (4) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا۔
(1)… جتنا دھونے کا حکم ہے اس سے کچھ زیادہ دھو لینا مستحب ہے کہ جہاں تک اَعضائے وضو کو دھویا جائے گا قیامت کے دن وہاں تک اعضاء روشن ہوں گے۔ (بخاری، کتاب الوضو ء، باب فضل الوضوء والغرّ المحجّلون۔۔۔ الخ، ۱ / ۷۱، الحدیث: ۱۳۶)
(2)… رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمہر نماز کے لئے تازہ وضو فرمایا کرتے جبکہ اکثر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جب تک وضو ٹوٹ نہ جاتا اسی وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں ادا فرماتے، ایک وضو سے زیادہ نمازیں ادا کرنے کا عمل تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بھی ثابت ہے۔(بخاری، کتاب الوضو ء، باب الوضوء من غیر حدث، ۱ / ۹۵، الحدیث: ۲۱۴-۲۱۵، عمدۃ القاری، کتاب الوضو ء، باب الوضوء من غیر حدث، ۲ / ۵۹۰، تحت الحدیث: ۲۱۴)
(3)…اگرچہ ایک وضو سے بھی بہت سی نمازیں فرائض و نوافل درست ہیں مگر ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو کرنا زیادہ برکت و ثواب کا ذریعہ ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ابتدائے اسلام میں ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو فرض تھا بعد میں منسوخ کیا گیا( اور جب تک بے وضو کرنے والی کوئی چیز واقع نہ ہو ایک ہی وضو سے فرائض و نوافل سب کا ادا کرنا جائز ہوگیا۔) (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶، ص۲۷۴)
(4)…یاد رہے کہ جہاں دھونے کا حکم ہے وہاں دھونا ہی ضروری ہے وہاں مسح نہیں کرسکتے جیسے پاؤں کو دھونا ہی ضروری ہے مسح کرنے کی اجازت نہیں ، ہاں اگر موزے پہنے ہوں تو اس کی شرائط پائے جانے کی صورت میں موزوں پر مسح کرسکتے ہیں کہ یہ احادیث ِ مشہورہ سے ثابت ہے۔
{وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا:اوراگر تم حالت ِ جنابت میں ہو۔} جنابت کاعام فہم مطلب یہ ہے کہ شہوت کے ساتھ منی کا خارج ہونا۔
جنابت کے اسباب اور ان کا شرعی حکم:
جنابت کے کئی اسباب ہیں : (1) جاگتے میں شہوت کے ساتھ اچھل کر منی کاخارج ہونا۔ (2) سوتے میں احتلام ہو جانا۔ (3) ہم بستری کرنا اگرچہ منی خارج نہ ہو۔ اس کاحکم یہ ہے کہ غسل کئے بغیر نماز پڑھنا، تلاوتِ قرآن کرنا، قرآنِ پاک کو چھونا اور مسجد میں داخل ہونا ناجائز ہے۔ جو کام جنابت کی حالت میں منع ہیں حَیض و نِفاس کی حالت میں بھی منع ہوں گے لیکن جب تک عورت حائضہ یا نفاس کی حالت میں ہے غسل کرنے سے پاک نہ ہو گی جبکہ جُنُبی غسل کرنے سے پاک ہو جاتا ہے، اسی طرح حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے صحبت کرنا بھی منع ہے جبکہ جنابت کی حالت میں صحبت کرنا منع نہیں۔(احکام القرآن، سورۃ المائدۃ، باب الغسل من الجنابۃ، ۲ / ۴۵۷)
حیض و نفاس سے بھی غسل لازم ہو جاتا ہے۔ حیض کا مسئلہ سورۂ بقرہ آیت نمبر 222میں گزر گیا اور نفاس سے غسل لازم ہونا اجماع سے ثابت ہے اور تیمم کا بیان سورۂ نساء آیت نمبر 43میں تفصیل سے گزر چکا۔ مزید تفصیل جاننے کیلئے فقہی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔[1]
وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤۙ-اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا٘-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اوراپنے اوپر اللہ کا احسان اور اس کا وہ عہد یاد کرو جو اس نے تم سے لیا تھا جب تم نے کہا: ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو۔ بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے۔
{وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ: اوراپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو۔} اس آیت میں بیعتِ عقبہ یا بیعت ِرضوان کی طرف اشارہ ہے۔(مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۷، ص۲۷۶)
مجموعی طور پر آیت ِ مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اے صحابہ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کا اپنے اوپر احسان یاد کرو کہ اس نے تمہیں مسلمان بنایا اور تمہارے لئے آسان احکام بھیجے، ساری زمین کو مسجد اور پاک کرنے والا بنایا۔ نیز اس میثاق و معاہدے کو یاد کرو جو تم نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیعت کرتے وقت بیعتِ عقبہ کی رات اور بیعتِ رضوان میں کیا۔ اس معاہدے میں صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا تھا کہ ہم تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہر حکم ہرحال میں سنیں گے اور مانیں گے۔
آیت ’’وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:
اس آیت سے چندمسائل معلو م ہوئے:
(1)… انسان ہر نیکی رب عَزَّوَجَلَّ کی توفیق سے کرتا ہے لہٰذااس پر فخرنہ کرے بلکہ ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرے۔
[1] …وضو،غسل اور تیمم کے بارے میں شرعی مسائل جاننے کیلئے امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُھُمُ الْعَالِیَہ کی تصنیف "نماز کے احکام" کا مطالعہ کرنا بھی بہت مفید ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع