دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

{مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ: جو وہ شکار کرکے تمہارے لئے روک دیں۔} یعنی تمہارے سدھائے ہوئے شکاری کتے یا جانور جب شکار کرکے لائیں اور اُس میں سے خود کچھ نہ کھائیں تو اگرچہ جانور مر گیا ہو،تب بھی حلال ہے اور اگر کتے نے کچھ کھا لیا ہو تو حرام ہے کہ یہ اس نے اپنے لئے شکار کیا، تمہارے لئے نہیں۔

            آیت کا خلاصہ: آیت سے جو معلوم ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے کتا یا شکرہ وغیرہ کوئی شکاری جانور شکار پر چھوڑا تو اس کا شکار چند شرطوں سے حلال ہے۔

(1)… شکاری جانور مسلمان یا کتابی کا ہو اور سکھایا ہوا ہو ۔

(2)… اس نے شکار کو زخم لگاکر مارا ہو۔

(3)…شکاری جانور بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ  کہہ کر چھوڑا گیا ہو۔

(4)… اگر شکاری کے پاس شکار زندہ پہنچا ہو تو اس کوبِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ کہہ کر ذبح کرے اگر ان شرطوں میں سے کوئی شرط نہ پائی گئی تو حلال نہ ہوگا۔ مثلاً اگر شکاری جانور مُعَلَّم (یعنی سکھایا ہوا) نہ ہو یا اس نے زخم نہ کیا ہو یا شکار پر چھوڑتے وقت جان بوجھ کر بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ نہ پڑھا ہو یا شکار زندہ پہنچا ہو اور اس کو ذبح نہ کیا ہو یا مُعَلَّم( یعنی سکھائے ہوئے جانور) کے ساتھ غیر مُعَلَّم( یعنی نہ سکھایا ہوا جانور) شکار میں شریک ہوگیا ہو یا ایسا شکاری جانور شریک ہوگیا ہو جس کو چھوڑتے وقت بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ نہ پڑھا گیا ہو یا وہ شکاری جانور مجوسی کافر کا ہو، ان سب صورتوں میں وہ شکار حرام ہے۔

 شکار کے دوسرے طریقے کا شرعی حکم:

             تیرسے شکار کرنے کا بھی یہی حکم ہے اگر بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْ کہہ کر تیر مارا اور اس سے شکار مجروح (یعنی زخمی) ہو کر مر گیا تو حلال ہے اور اگر نہ مرا تو دوبارہ اس کو بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرْپڑھ کر ذبح کرے اگر اس پر بِسْمِ اللہْ نہ پڑھی یا تیر کا زخم اس کو نہ لگایا زندہ پانے کے بعد اس کو ذبح نہ کیا ان سب صورتوں میں حرام ہے۔

            نوٹ: شکار کے مسائل کی مزید تفصیل کیلئے بہار شریعت حصہ 17کا مطالعہ فرمائیں۔

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُؕ-وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ۪-وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ٘-وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ٘-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے اور پارسا عورتیں مسلمان اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی جب تم انہیں ان کے مہر دو قید میں لاتے ہوئے نہ مستی نکالتے اور نہ آشنا بناتے اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے اور پاکدامن مسلمان عورتیں اورجن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ان کی پاکدامن عورتیں (تمہارے لئے حلال کردی گئیں ) جبکہ تم ان سے نکاح کرتے ہوئے انہیں ان کے مہر دو، نہ زنا کرتے ہوئے اور نہ انہیں پوشیدہ آشنا بناتے ہوئے اور جو ایمان سے پھرکر کافر ہوجائے تو اس کا ہر عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں ہوگا۔

{اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ: آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کر دی گئیں۔} اہلِ کتاب کا ذبح کیا ہوا جانور بھی مسلمانوں کیلئے حلال ہے خواہ یہودی ذبح کرے یا عیسائی، یونہی مرد ذبح کرے یا عورت یا سمجھدار بچہ۔ لیکن یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ اُن اہلِ کتاب کا ذبیحہ حلال ہے جو واقعی اہلِ کتاب ہوں ، موجودہ زمانے میں عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد دہریہ اور خدا کے منکر ہو چکے ہیں لہٰذا نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اور نہ عورتیں۔

 اہلِ کتاب سے نکاح کے چند اہم مسائل:

(1)…اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح حلال ہے لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ واقعی اہلِ کتاب ہوں ،دہریہ نہ ہوں جیسے آج کل بہت سے ایسے بھی ہیں۔

(2)…یہ اجازت بھی دارُالاسلام میں رہنے والی ذِمِّیَہ اہلِ کتاب عورت کے ساتھ ہے۔ موجودہ زمانے میں جو اہلِ کتاب ہیں یہ حربی ہیں اور حربیہ اہلِ کتاب کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

(3)…ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ اجازت صرف مسلمان مردوں کو ہے مسلمان عورت کا نکاح کتابی مرد سے قطعی حرام ہے۔

(4)… اہلِ کتاب عورتوں میں سے اچھے کردار والی سے نکاح کیا جائے یہ حکم مستحب ہے۔

(5)…اہلِ کتاب عورت سے ازدواجی تعلقات نکاح کے ذریعے ہی قائم کئے جائیں ، پوشیدہ دوستیاں لگانایا پوشیدہ یا اعلانیہ بدکاری کرنا ان کے ساتھ بھی حرام ہے۔

(6)…اہلِ کتاب عورت کو بھی مہر دیا جائے گا۔

{غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ: نہ کہ مستی نکالتے ہوئے۔} ناجائز طریقہ پرمستی نکالنے سے بے دھڑک زنا کرنا اور آشنا بنانے سے پوشیدہ زنا مراد ہے۔

{وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ: اور جو ایمان سے پھرکر کافر ہوجائے۔} آیتِ مبارکہ کے آخر میں مُرتَد کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کے تمام نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ آخرت میں اس کیلئے کوئی اجر وثواب باقی نہیں رہتا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِؕ-وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْاؕ-وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُؕ-مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۶)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن