دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

گا۔

{فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ: تو عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا۔} ایمان والوں کو رحمت، فضل اور سیدھے راستے کی بشارت عطا فرمائی گئی ہے۔ رحمت جنت ہے اور فضل جنت میں کرم بالائے کرم والے اُمور ہیں اور سیدھا راستہ دین اسلام ہے جو سیدھا قرب ِ الہٰی تک لیجاتا ہے۔

یَسْتَفْتُوْنَكَؕ-قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِؕ-اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَۚ-وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌؕ-فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَؕ-وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ-یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْاؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠(۱۷۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ  تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں سے اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہرچیز جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب! تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ  تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کسی مرد کا انتقال ہو جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی (حصہ ہوگا) اور اگر بھائی بہن ہوں (جن میں ) مرد بھی (ہوں ) اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے تاکہ تم بھٹک نہ جاؤ اور اللہ ہرچیز جانتا ہے۔

{یَسْتَفْتُوْنَكَ: تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔} آیتِ مبارکہ میں کَلَالَہ کی وراثت کا بیان کیا گیا ہے۔ کَلَالَہ اس کو کہتے ہیں جو اپنے بعد نہ باپ چھوڑے، نہ اولاد۔ اس آیت کے شانِ نزول کے متعلق بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیمار تھے تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ ان کی عیاد ت کے لئے تشریف لائے، حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بے ہوش تھے، تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے وضو فرما کراس کا پانی اُن پر ڈالا توانہیں اِفاقہ ہوا (آنکھ کھول کر دیکھا تونبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما تھے)۔ عرض کیا، یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں اپنے مال کا کیا انتظام کروں ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ (بخاری، کتاب الفرائض، باب قول اللہ تعالٰی: یوصیکم اللہ۔۔۔ الخ، ۴ / ۳۱۲، الحدیث: ۶۷۲۳، مسلم، کتاب الفرائض، باب میراث الکلالۃ، ص۸۷۲، الحدیث: ۵(۱۶۱۶))

                ابوداؤد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا، اے جابر! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، میرے علم میں تمہاری موت اس بیماری سے نہیں ہے۔(ابو داؤد، کتاب الفرائض، باب من کان لیس لہ ولد ولہ اخوات، ۳ / ۱۶۵، الحدیث: ۲۸۸۷)  

             اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:

(1)… بزرگوں کا وضو کا پانی تبرک ہے اور اس کو حصولِ شفا کے لئے استعمال کرنا سنت ہے۔

(2)… مریضوں کی عیادت سنت ہے۔

(3)…نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ  تعالیٰ نے عُلومِ غیب عطا فرمائے ہیں اس لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو معلوم تھا کہ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی موت اس مرض میں نہیں ہے۔

کلالہ کی وراثت کے احکام:

             آیت میں جو مسائل بیان ہوئے ان کا خلاصہ و وضاحت یہ ہے:

(1)…اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے ورثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وراثت سے مال کا آدھا حصہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی حصہ ملے گا۔

(2)…اور اگر بہن فوت ہوئی اور ورثاء میں نہ باپ ہو نہ اولاد تو بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہوگا۔

(3)…اگر فوت ہونے والے نے بہن بھائی دونوں چھوڑے تو بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔

            اہم تنبیہ: وراثت کے مسائل میں بہت وسعت اور قُیود ہوتی ہیں۔ آیت میں جو صورتیں موجود تھیں ان کو بیان کردیا لیکن اگر وراثت کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بغیر کسی ماہرِ میراث عالم کے خود حل نہ نکالیں۔

سورۃ المائدۃ

سورۂ مائدہ کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورہ ٔمائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے،البتہ یہ آیت ’’ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ‘‘ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے خطبہ میں اس آیت کی تلاوت فرمائی۔(خازن، تفسیر سورۃ المائدۃ، ۱ / ۴۵۸)

رکوع اورآیات کی تعداد:

             اس سورت میں 16 رکوع اور 120 آیتیں ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن