دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

ایمان لے آؤ، اس میں تمہارے لئے خیر ہی خیر ہے اور اگر تم  خاتَمُ الْمُرْسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا انکار کروگے تو اس میں ان کا کچھ ضرر نہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  تمہارے ایمان سے بے نیاز ہے۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّؕ-اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗۚ-اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ٘-فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ ۚ۫-وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌؕ- اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْؕ-اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌؕ-سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌۘ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠(۱۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اے کتاب والو اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ، مَسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا اللہ کا رسول ہی ہے اور اس کا ایک کلمہ کہ مریم کی طرف بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین نہ کہو باز رہو اپنے بھلے کواللہ  تو ایک ہی خدا ہے پاکی اُسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اسی کا مال ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ کافی کارساز ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے کتاب والو! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ پر سچ کے سوا کوئی بات نہ کہو۔ بیشک مسیح ، مریم کا بیٹا عیسیٰ صرف اللہ کا رسول اور اس کا ایک کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا اور اس کی طرف سے ایک خاص روح ہے تواللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو (کہ معبود) تین ہیں۔ (اِس سے) باز رہو، (یہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ صرف اللہ ہی ایک معبود ہے ، وہ پاک ہے اس سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کافی کارساز ہے۔

  {یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ: اے اہلِ کتاب۔} اس سے پہلے والی آیات میں یہودیوں کی دین میں زیادتیوں اور ان کے جرائم کو بیان فرمایا، اب عیسائیوں کے دین میں غُلُوّ اور حد سے بڑھنے کے بارے میں بیان فرمایا جا رہا ہے۔

عیسائیوں کے فرقے اور ان کے عقائد:

            عیسائی چار بڑے فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے (1) یعقوبیہ۔ (2) ملکانیہ۔ (3) نسطوریہ۔ (4) مرقوسیہ۔ ان میں سے ہر ایک حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں جداگانہ کفریہ عقیدہ رکھتا تھا۔ یعقوبیہ اور ملکانیہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کہتے تھے۔ نسطوریہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے جبکہ مرقوسیہ فرقے کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ تین میں سے تیسرے ہیں ، اور اس جملے کا کیا مطلب ہے اس میں بھی ان میں اختلاف تھا ، بعض تین اُقْنُوم (یعنی وجود) مانتے تھے اور کہتے تھے کہ باپ ،بیٹا، روحُ القدس تین ہیں اور باپ سے ذات، بیٹے سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورروحُ القدس سے ان میں حُلُول کرنے والی حیات مراد لیتے تھے گویا کہ اُن کے نزدیک اِلٰہ تین تھے اور اس تین کو ایک بتاتے تھے۔ بعض کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ناسُوتِیَّت (یعنی انسانیت) اور الُوہیت کے جامع ہیں ، ماں کی طرف سے اُن میں ناسوتیت آئی اور باپ کی طرف سے الوہیت آئی ’’تَعَالَی اللہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا‘‘(اللہ تعالیٰ ظالموں کی بات سے پاک ہے اور بہت ہی بلندو بالاہے)یہ فرقہ بندی عیسائیوں میں ایک یہودی نے پیدا کی جس کا نام بَوْلَسْ تھا ، اُس نے اُنہیں گمراہ کرنے کے لیے اس طرح کے عقیدوں کی تعلیم دی۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۷۱، ۱ / ۴۵۴)

             اس آیت میں اہلِ کتاب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں افراط وتفریط سے باز رہیں ، انہیں خدا اور خدا کا بیٹا بھی نہ کہیں اور حلول و اِتّحاد کے عیب لگا کر ان کی تَنقیص بھی نہ کریں ، بلکہ ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں کہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت مریم رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بیٹے ہیں ،ان کے لیے اس کے سوا اورکوئی نسب نہیں ، صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جو رب تعالیٰ نے حضرت مریم  رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا کی طرف بھیجا اور اللہتعالیٰ کی طرف سے ایک خاص روح ہیں۔ لہٰذا ا نہیں چاہئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسولوں پرایمان لائیں اور تصدیق کریں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک ہے، بیٹے اور اولاد سے پاک ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کریں اور اس کی کہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّوَجَلَّکے رسولوں میں سے ہیں۔

{وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ:اور نہ کہو (کہ معبود) تین ہیں۔}بعض عیسائی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے، بعض انہیں تیسرا خدا مانتے تھے اور بعض انہیں کو خدا مانتے تھے، ان تینوں فرقوں کی تردید کے لئے یہ آیتِ کریمہ اتری۔ لفظ ’’اللہُ‘‘ میں ایک فرقے کی تردید ہے۔’’وَاحِدٌ ‘‘میں دوسرے کی اور’’سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ‘‘ میں تیسرے کی۔ عقل مند انسان خود ہی غور کر لے آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے،جتنے انسان ہیں سب اسی کے بندے اور مملوک ہیں انہی میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت مریم رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا بھی داخل ہیں اور جب یہ بھی بندے اور مملوک ہیں تو ان کا بیٹا اور بیوی ہونا کیسے مُتَصَوَّر ہو سکتا ہے؟ بلا شُبہ اللہ  تعالیٰ ان سب بیہودہ باتوں سے پاک اور مُنَزّہ ہے۔

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓىٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَؕ

وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا(۱۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان: ہرگز مسیح اللہکا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان سب کو اپنی طرف ہانکے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: نہ تومسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ عارکرتا ہے اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے توعنقریب وہ ان سب کو اپنے پاس جمع کرے گا۔

{لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ:مسیح اللہ کا بندہ بننے سے ہر گز عار نہیں کرتا ۔} نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا: آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو عیب لگاتے ہیں کہ انہیں اللہ  عَزَّوَجَلَّ َ کا بندہ کہتے ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ۔(بیضاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۷۲، ۲ / ۲۸۴)

            جس میں فرمایا گیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا بندہ ہونا باعثِ فخر ہے نہ کہ باعثِ شرم۔ نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت سے نفرت کرنا اور اس میں شرم محسوس کرنا کافر کا کام ہے مسلمان کا نہیں۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖۚ-وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ﳔ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن