30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان: ہاں جو اُن میں علم میں پکے اور ایمان والے ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اُترا اور جو تم سے پہلے اُترا اور نماز قائم رکھنے والے اور زکوٰۃ دینے والے اور اللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: لیکن اُن میں علم میں پختگی والے اور ایمان والے ایمان لاتے ہیں اُس پر جو، اے حبیب ! تمہاری طرف نازل کیا گیا اور جو تم سے پہلے نازل کیا گیا اور نماز قائم رکھنے والے اور زکوٰۃ دینے والے اوراللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے۔
{لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ: لیکن ان میں علم میں پختگی والے ۔} یہودیوں کی اکثریت گمراہ اور بدکردار تھی لیکن ان میں کچھ لوگ اچھے بھی تھے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اُن کے ساتھی جو گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ایمان، راسخ و مضبوط علم ،صاف عقل اور کامل بصیرت رکھتے تھے، انہوں نے اپنے علم سے دین ِاسلام کی حقانیت کو جانا اور سید ِانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے۔
رَاسِخْ فِی الْعِلْم کی تعریف:
رَاسِخْ فِی الْعِلْم وہ عالم ہے جس کا علم اس کے دل میں اتر گیا ہو جیسے مضبوط درخت وہ ہے جس کی جڑیں زمین میں جگہ پکڑ چکی ہوں ، اس سے مراد خوش عقیدہ اور با عمل علماء ہیں۔ اس سے معلو م ہوا کہ عالمِ باعمل کا ثواب دوسروں سے زیادہ ہے کیونکہ با عمل عالم خود بھی نیک ہے اور وہ دوسروں کو بھی نیک بنا دیتا ہے۔ چاہیے کہ عالم کا عمل سنتِ نَبَوِی کا نمونہ ہو اور اس کی ہر ادا تبلیغ کرے۔ اس سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوا کہ بے دین یا بے عمل عالم کا عذاب بھی دوسروں سے زیادہ ہے کیونکہ وہ گمراہ بھی ہے اور گمراہ کُن بھی او ر اس کی بد عملی دوسروں کو بھی بد عمل بنا دے گی۔
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔
{اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ:بیشک ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی۔} اِس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا تھا کہ اُن کے لئے آسمان سے یکبارگی کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان پر حجت قائم کی گئی کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے سوا بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں جن میں سے گیارہ کے اَسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں ، اہلِ کتاب اُن سب کی نبوت کو مانتے ہیں ، توجب اس وجہ سے ان میں سے متعدد کی نبوت تسلیم کرنے میں اہلِ کتاب کو کچھ پس و پیش نہ ہوا تو امامُ الانبیاء، سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے؟ نیز رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھیجنے کا مقصد مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید ومعرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور عبادت کے طریقوں کی تعلیم ہے اورکتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ مقصد بڑے کامل طریقے سے حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اس حکمت کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال درجے کی حماقت ہے۔سُبْحَانَ اللہ! کیسا دل نشین اور پیارا جواب ہے۔
وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَؕ-وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ(۱۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور رسولوں کو جن کا ذکر آگے ہم تم سے فرما چکے اور ان کو جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا اور اللہنے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (ہم نے بھیجے) بہت سے ایسے رسول جن کا ذکر ہم تم سے پہلے فرما چکے اور بہت سے وہ رسول جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا اوراللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا۔
{وَ رُسُلًا: اور بہت سے رسول۔} ارشاد فرمایا گیا کہ بہت سے رسول وہ ہیں جن کا قرآن شریف میں نام لے کر ذکر ہوچکا اور بہت سے وہ ہیں جن کا اب تک ان کے ناموں کی تفصیل کے ساتھ قرآنِ پاک میں ذکر نہیں فرمایا گیا۔ ان سب رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں وہ کتنے ہیں جن پر یکبارگی کتاب اتری۔ تو جب سب نبیوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر یکبارگی کتاب نہیں اتری تو نبی ِآخر الزّمانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر یکبارگی کتاب نہ اترنا یہودیوں کیلئے کیوں باعث ِ اعتراض بنا ہوا ہے؟
{وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًا: اور اللہ نے موسیٰ سے کلام فرمایا۔} یہ بھی یہودیوں کے اعتراض کے جواب کا حصہ ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے بے واسطہ کلام فرمانا دوسرے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کیلئے انکار کا ذریعہ نہیں ہوسکتا جن سے اس طرح کلام نہیں فرمایا گیا توایسے ہی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر کتاب کا یکبارگی نازل ہونا بھی دوسرے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کے انکار کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ (خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۶۴، ۱ / ۴۵۲)
آیت کے اس حصے سے دو مسئلے معلوم ہوئے :ایک یہ کہ حضرت موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انبیاءِ بنی اسرائیل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں بہت شان والے ہیں کہ ان کا ذکر خصوصیت سے علیحدہ ہوا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خاص عظمتیں بخشی ہیں ، ایک نبی کی خصوصیت تمام نبیوں میں ڈھونڈنا غلطی ہے جیسے ہر نبی کَلِیْمُ اللہ نہیں۔
رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(۱۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان: رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے کہ رسولوں کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: (ہم نے ) رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے (بھیجے) تاکہ رسولوں (کو بھیجنے) کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کے لئے کوئی عذر (باقی )نہ رہے اور اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع