30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے تو (ان میں سے) بہت تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔
{فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ: تو ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے۔} یہاں سے اہلِ کتاب کے جرائم کی ایک فہرست اور اس پر غضبِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کا بیان شروع ہے۔ یہودیوں کے جرائم کی فہرست طویل ہے۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیات میں ان کے نصف درجن سے زائد جرائم بیان کئے گئے ہیں :
(1)… یہودیوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے عہد کو توڑا۔ اس کی تفصیل اس سے گزشتہ آیت میں گزر چکی۔
(2)…یہودیوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں کا انکار کیا جو انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی صداقت پر دلالت کرتی تھیں جیسا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکے معجزات۔
(3)… یہودیوں نے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید کیا اور یہودی خود سمجھتے تھے کہ ان کا انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید کرنا ناحق ہی تھا۔
(4)… یہودیوں نے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا تھا کہ ہمارے دلوں پرغلاف چڑھے ہوئے ہیں ، چونکہیہ بھی ان کا جھوٹ اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی دعوت کو ٹھکرانا تھا لہٰذا یہ بھی سبب ِ عذاب ہوا۔ پانچواں اور چھٹا جرم اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
{ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا: بلکہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی۔}ارشاد فرمایا کہ یہودی کہتے ہیں ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے لہٰذا کوئی وعظ ونصیحت ان کے دلوں پر کارگر نہیں ہوسکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفر اور بد کاریاں دل پر مہر لگ جانے کا باعث ہوجاتی ہیں۔
وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ(۱۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور مریم پر بڑا بہتان اٹھایا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (ان پر لعنت کی)ان کے کفر اور مریم پر بڑا بہتان لگانے کی وجہ سے۔
{وَ بِكُفْرِهِمْ: اور ان کے کفر کی وجہ سے۔} یہودیوں کا پانچواں جرم یہ تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ کفر کیا اور ان کا چھٹا جرم یہ تھا کہ انہوں نے حضرت مریم رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا پر تہمت لگائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پاکدامن عورت پر تہمت لگانا سخت گناہ ہے اور خصوصاً کسی مقدس عورت پر اور مقدس نسبت رکھنے والی پر تہمت لگانا اور بھی زیادہ سنگین ہے۔ اسی لئے حضرت عائشہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا پر تہمت لگانے والوں کی مذمت زیادہ بیان کی گئی۔
وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِۚ-وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْؕ-وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُؕ-مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّۚ-وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ(۱۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے اس کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا اور وہ جو اس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہہ میں پڑے ہوئے ہیں انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں مگر یہی گمان کی پیروی اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہ کیا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا حالانکہ انہوں نے نہ تواسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان (یہودیوں ) کے لئے (عیسیٰ سے ) ملتا جلتا (ایک آدمی)بنادیا گیا اور بیشک یہ (یہودی) جو اس عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں ( حقیقت یہ ہے کہ) سوائے گمان کی پیروی کے ان کواس کی کچھ بھی خبر نہیں اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔
{وَ قَوْلِهِمْ: اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے۔} اس آیت میں یہودیوں کے ساتویں سنگین جرم کا بیان کیا گیا کہ یہودیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کردیا ہے اور عیسائیوں نے اس کی تصدیق کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرما دی۔ کیونکہ واقعہ یوں ہوا کہ جو منافق شخص یہودیوں کو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پتہ دینے کے لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے گھر میں داخل ہوا وہ حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا ہم شکل ہو گیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آسمان پر تشریف لے گئے۔ یہودیوں نے اسی منافق کو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دھوکے میں سولی دے دی لیکن پھر خود بھی حیران تھے کہ ہمارا آدمی کہا ں گیا نیز اس کا چہرہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جیسا تھا اور ہاتھ پاؤں مختلف۔(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ص۲۶۳-۲۶۴)
اس کا ذکر ا س آیتِ کریمہ میں ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ شک میں پڑگئے اور یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کہ وہ مقتول کون ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ یہ مقتول حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ چہرہ تو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہے لیکن جسم حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نہیں ،لہٰذا یہ وہ نہیں۔ یہودیوں کی پیروی میں آج کل قادیانی بھی اسی جہالت میں گرفتا ر ہیں۔
بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(۱۵۸)
ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا تھا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
{بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ: بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا تھا۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحیح سلامت آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق بکثرت اَحادیث وارد ہیں۔ اس کا کچھ بیان سورۂ اٰلِ عمران کی آیت نمبر 55 کے تحت تفسیر میں گزر چکا ہے۔
وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ(۱۵۹)
ترجمۂ کنزالایمان: کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع