دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

اہلسنّت کے خلاف ہے، ہر شرک کفر ہے اور کفر مزیلِ اسلام، اور اہلسنّت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ایسی جگہ نصوص کو علی اطلاقہا کفر وشرک مصطلح پر حمل کرنا اشقیائے خوارج کا مذہب مطرود ہے۔  (فتاوی رضویہ، ۲۱ / ۱۳۱)

             خلاصہ عبارت یہ ہے کہ آدمی صرف دو چیزوں سے مشرک ہوتا ہے (1) غیرِ خدا کو معبود ماننے سے ، (2) اللہ کے علاوہ کسی کو مستقل بِالذّات ماننے سے۔ا ن دوچیزوں کے علاوہ کسی تیسری چیز سے آدمی حقیقتاً مشرک نہیں ہوتا۔ اور بعض اَحادیث وغیرہ میں جو کچھ کاموں کو بغیر کسی قید کے شرک یا کفر کہا گیا ہے ان کی تاویلات و تَوجِیہات علماء میں مشہور ہیں یعنی یا تو وہاں کفر و شرک سے تشبیہ مراد ہوتی ہے یااس کام پر شریعت نے شدت ظاہر کرنے کیلئے لفظ ِ شرک استعمال کیا ہوتاہے یا وہاں شرک سے مراد وہ صورت ہوتی ہے کہ جب اس فعل کے ساتھ کوئی ایسا ارادہ یا اعتقاد ملا ہو جو توحید کے منافی ہو۔ (جیسے غیر خدا کو سجدہ کرنا مطلقاً شرک نہیں لیکن اگر اس کے ساتھ ارادہ ٔ شرک موجود ہو تو یقیناً شرک ہے۔) تو غیر شرک کو جہاں شرک کہا گیا ہو وہاں وہ حقیقی کفر و شرک مراد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے آدمی اسلام سے خارج اور بغیر توبہ کے مرنے پر دائمی جہنمی قرار پائے کیونکہ اہلسنّت کا اجماع ہے کہ مسلمان کبیرہ گناہ کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ قرآن و حدیث کی مذکورہ بالا قِسم کی تصریحات کو ہماری بیان کردہ تفصیل کے ملحوظ رکھے بغیر حقیقی کفر و شرک قرار دینا خارجیوں کا مردود مذہب ہے۔

یَسْــٴَـلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْۚ-ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَاعَنْ ذٰلِكَۚ-وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا(۱۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب اہلِ کتاب تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان پر آسمان سے ایک کتاب اتار دو تو وہ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے کہ بولے ہمیں اللہ کو علانیہ دکھادو تو انہیں کڑک نے آلیا ان کے گناہوں پر پھر بچھڑا لے بیٹھے بعداس کے کہ روشن آیتیں ان کے پاس آچکیں تو ہم نے یہ معاف فرما دیا اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ دیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے حبیب!) اہلِ کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے ایک کتاب اتار دیں تو یہ لوگ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے ہیں جو انہوں نے کہا تھا : (اے موسیٰ!) اللہ ہمیں اعلانیہ دکھادو تو ان کے ظلم کی وجہ سے انہیں کڑک نے پکڑ لیا پھر ان کے پاس روشن نشانیاں آجانے کے باوجود وہ بچھڑے کو(معبود) بنا بیٹھے۔ پھر ہم نے یہ معاف کردیا اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ عطا فرمایا۔

{یَسْــٴَـلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ:اہلِ کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہودیوں میں سے کعب بن اشرف اور فنحاص بن عازوراء نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کیا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمارے پاس آسمان سے یکبارگی کتاب لائیے جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتوریت لائے تھے۔ ان کایہ سوال ہدایت حاصل کرنے کے لئے نہ تھا بلکہ سرکشی و بغاوت کی وجہ سے تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۵۳، ۱ / ۴۴۵)

            اور سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی کے طور پر فرمایا گیا کہ آپ ان کے سوالوں پر تعجب نہ کریں کہ یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے یکبارگی قرآن نازل ہونے کا سوال کرتے ہیں کیونکہ یہ سوال ان کی کمال درجے کی جہالت کی وجہ سے ہے اور اس قسم کی جہالتوں میں ان کے باپ دادا بھی گرفتار تھے۔ اگر ان کا سوال طلبِ ہدایت کے لئے ہوتا توپھر دیکھا جاتا مگر وہ تو کسی حال میں ایمان لانے والے نہ تھے۔ ان کے باپ داداؤں کے ایسے کردار کی وضاحت کیلئے ان کی دو حرکتوں کو بیان کیا جاتا ہے ۔ ایک یہ کہ اُنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے کوہ ِ طور پر تشریف لے جانے کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور دوسری بات یہ کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مطالبہ کیا کہ ہم آپ کااس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک آپ ہمیں خدا اعلانیہ دکھا نہ دیں۔ اور نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے تو یہ مطالبہ ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یکبارگی کتاب نازل کروائیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اطاعت کریں گے لیکن جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر یکبارگی تورات نازل ہوئی تو بجائے اطاعت کرنے کے اُنہوں نے خدا عَزَّوَجَلَّکے دیکھنے کا سوال کردیا اور اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ نہ کرنے کے سو بہانے ہوتے ہیں۔

{وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا: اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ عطا فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو روشن غلبہ وتَسلُّط عطا فرمایا گیا کہ جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بنی اسرائیل کو توبہ کے لئے خود ان کے اپنے قتل کا حکم دیا تو وہ انکار نہ کرسکے اور انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی اطاعت کی۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا(۱۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ہم نے ان پر طور کو اونچا کیا ان سے عہد لینے کو اور ان سے فرمایا کہ دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور ان سے فرمایا کہ ہفتہ میں حد سے نہ بڑھو اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے ان سے عہد لینے کے لئے ان پر کوہِ طور کوبلند کردیا اور ان سے فرمایا کہ دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور ان سے فرمایا کہ ہفتہ کے دن میں حد سے نہ بڑھو اور ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔

{وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ: پھرہم نے ان پر کوہِ طور کو بلند کر دیا۔} یہودیوں کے متعلق مزید تین باتوں کا بیان کیا جارہا ہے۔ پہلی یہ کہ ان سے تورات پر عمل کرنے کا عہد لینے کیلئے کوہِ طور کو ان کے سروں پر مُعَلَّق کردیا۔ دوسری بات یہ کہ بیتُ المقدس یا اَرِیْحَانامی بستی کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے گزرنے کا حکم دیا جس کی انہوں نے نافرمانی کی۔ تیسری بات یہ کہ انہیں ہفتے کے دن شکار کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن انہوں نے تینوں باتوں میں خلاف ورزی کی اور اللہ عَزَّوَجَلَّسے مضبوط عہد کرکے توڑ دیا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌؕ-بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪(۱۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور اس لئے کہ وہ آیاتِ الہٰی کے منکر ہوئے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں بلکہ اللہ  نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو (ہم نے ان پر لعنت کی) ان کے عہد کوتوڑنے اور اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق شہید کرنے اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے (کہ) ہمارے دلوں پر غلاف ہیں بلکہ اللہ  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن