دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

یعنی اچھے آدمی کی صحبت تجھے اچھا کر دے گی اور برے آدمی کی صحبت تجھے برا بنا دے گی۔[1]

اَلَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ﳲ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌۙ-قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠(۱۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو تمہاری حالت تکا کرتے ہیں تو اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے کہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کا حصہ ہو تو ان سے کہیں کیا ہمیں تم پر قابو نہ تھا اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچایا تو اللہ تم سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو تمہارے اوپر (گردشِ زمانہ) کا انتظار کرتے رہتے ہیں پھر اگر اللہکی طرف سے تمہیں فتح ملے تو کہتے ہیں :کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کے لئے(فتح کا) حصہ ہو تو (ان سے) کہتے ہیں : کیا ہم تم پر غالب نہ تھے ؟ اور (کیا) ہم نے مسلمانوں کو تم سے روکے (نہ) رکھا؟ تو اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اور اللہکافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا۔

{اَلَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ: وہ جو تم پر انتظار کرتے ہیں۔} یہاں منافقوں کی حالت کا بیان ہے کہ اے مسلمانو! یہ منافق تمہارے اوپر گردشِ زمانہ کا انتظار کرتے ہیں پھر اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تمہیں فتح ملے تو مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ لہٰذا ہمیں بھی مالِ غنیمت دو۔ اور اگر کافروں کوفتح نصیب ہوجائے تو ان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے کہ تمہیں پکڑ سکتے تھے مگر پھر بھی ہم نے تمہیں نہ پکڑ کرتمہاری مدد کی اور ہم نے مسلمانوں کو تم سے روکے رکھا لہٰذا ہمارا حصہ دو۔ الغرض منافقوں کی زندگی صرف اپنے مفاد کے گرد گھومتی ہے وہ کسی کے ساتھ بھی حقیقی طور پر مخلص نہیں۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں توبڑے سست ہوکر لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ  کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں۔

{اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں۔} یہاں منافقوں کی ایک اور بری خصلت کا بیان ہے وہ یہ کہ یہ اپنے گمان میں اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں ، حقیقتاً تو مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں کیونکہ حقیقت میں تو اللہ تعالیٰ کو فریب دینا ممکن نہیں۔ ان کے اس فریب کا جواب انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ دے گا کہ انہیں غافل کرکے مارے گا، دنیا میں انہیں رسوا کرے گا اور قیامت میں انہیں عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ان منافقوں کی علامت یہ ہے کہ جب مؤمنین کے ساتھ نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو مرے دل سے او ر سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان تو ہے نہیں جس سے عبادت کا ذوق اور بندگی کا لطف انہیں حاصل ہوسکے ،محض لوگوں کو دکھانے کیلئے نماز پڑھتے ہیں۔

نماز میں سستی کرنا منافقوں کی علامت ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سستی کرنا منافقوں کی علامت ہے ۔نماز نہ پڑھنایا صرف لوگوں کے سامنے پڑھنا جبکہ تنہائی میں نہ پڑھنا یالوگوں کے سامنے خشوع و خضوع سے اور تنہائی میں جلدی جلدی پڑھنایا نماز میں ادھر ادھر خیال لیجانا، دلجمعی کیلئے کوشش نہ کرنا وغیرہ سب سستی کی علامتیں ہیں۔

نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کا آسان نسخہ :

             کسی نے حضرت حاتم اصم  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: جب نماز کا وقت قریب آتا ہے تو میں کامل وضو کرتا ہوں پھر جس جگہ نماز ادا کرنے کا ارادہ ہوتا ہے وہاں آ کر اتنی دیر بیٹھ جاتا ہوں کہ میرے اَعضا اکٹھے ہو جائیں ، اس کے بعد یہ تصور باندھ کر نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں کہ کعبہ معظمہ میرے سامنے ہے، پل صراط میرے قدموں کے نیچے ہے، جنت میرے دائیں طرف اور جہنم بائیں طرف ہے، مَلَکُ الْموتعَلَیْہِ السَّلَام میرے پیچھے کھڑے ہیں اور میرا یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ میری آخری نماز ہے، پھر میں امید اور خوف کے درمیان قیام کرتا ہوں اور جیسے تکبیر کہنی چاہئے ویسے تکبیر کہتا ہوں اور ٹھہر ٹھہر کر قراء ت کرتا ہوں ، عاجزی کے ساتھ رکوع کرتا ہوں ، ڈرتے ہوئے سجدہ کرتا ہوں ، بائیں پنڈلی پر بیٹھ کر اپنے قدم کا پچھلا حصہ بچھا دیتا ہوں اور دایاں قدم انگوٹھے پر کھڑا کر دیتا ہوں ، پھر اخلاص کے ساتھ باقی افعال ادا کرتا ہوں اب میں نہیں جانتا کہ میری نماز قبول بھی ہوئی یا نہیں۔(احیاء علوم الدین، کتاب اسرار الصلاۃ ومہماتہا، الباب الاول، فضیلۃ الخشوع، ۱ / ۲۰۶)

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ ﳓ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا(۱۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیچ میں ڈگمگا رہے ہیں نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے اور جسے اللہ  گمراہ کرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: درمیان میں ڈگمگا رہے ہیں ،نہ اِن کی طرف ہیں نہ اُن کی طرف اور جسے اللہ  گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی راستہ نہ پاؤ گے۔

{مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ: درمیان میں ڈگمگا رہے ہیں۔}  یعنی منافقین کفر اور ایمان کے درمیان ڈگمگارہے ہیں کیونکہ نہ تو یہ حقیقی طور پر مومن اور مخلص ایمان والوں کے ساتھ ہیں اور نہ واضح طور پر کافر اور صریح شرک کرنے والوں کے ساتھ ہیں اور اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان منافقین کے راہِ راست پر آنے کی امید نہ رکھیں کیونکہ جسے ہدایت و توفیق کی لیاقت نہ ہونے کی وجہ



[1] اچھی صحبت اور نیک ماحول پانے کے لئے دعوت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوجائیے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن